ویڈیو: کراچی میں جامعہ ملیرکےقریب سابق یوسی ناظم کا بیٹا قتل

یوسی ناظم کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے

کراچی کے علاقے جامعہ ملیہ کالج ملیر کے قریب حملہ آوروں نے سابق یوسی ناظم کے بیٹے کو قتل کردیا۔

پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سابق یو سی ناظم محمد ذوالفقار خان کے 32 سالہ بیٹے رضا ذوالفقار کی گاڑی کا ملیر میں واقع جامعہ ملیہ کالج سے تعاقب شروع کیا اور موقع پاکر گاڑی پر فائرنگ کردی جس سے رضا موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آچکی ہے جس میں ان مبینہ ٹارگٹ کلرز کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ ملزمان موٹر سائیکل پر سوار تھے اوران کی تعداد 2 تھی۔ موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھے شخص نے رضا پر براہ راست ذوالفقار پر فائرنگ کی۔

ملزمان واردات کے بعد با آسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ حملے کے فوراً بعد رضا کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹرز کے مطابق وہ اسپتال آنے سے قبل ہی دم توڑ چکے تھے۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق انہیں ایک ہی گولی گردن پر لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔ مقتول رضا سیمنٹ اور سریے کا کاروبار کرتے تھے۔ ایس ایس پی کورنگی شاجہاں خان کے مطابق واقعہ ٹارگٹ کلنگ کا ہوسکتا ہے، تاہم دیگر پہلوؤں پر تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

پولیس کا مزید کہنا تھا کہ حملے میں نائن ایم ایم کا پستول استعمال ہوا جب کہ جائے وقوعہ سے بھی نائن ایم ایم پستول کے 2 خول برآمد کیے گئے ہیں۔

ڈاکٹر ظاہر علی سید کا قتل

یاد رہے کہ اس سے قبل 12 جون کو عثمان انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (یو آئی ٹی) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ظاہر علی سید کو کراچی کے اسٹیڈیم روڈ کے قریب حملہ آوروں نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔

سینیر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) شرقی ساجد عامر سدوزئی کے مطابق 70 سالہ ڈاکٹر ظاہر علی اپنے ڈرائیور کے ہمراہ یونیورسٹی سے نکلنے کے بعد گھر کی جانب روانہ ہوئے تھے تاہم اس دوارن انہوں نے ڈرائیور کو خاتون پاکستان گرلز کالج کے قریب اتارا اور خود گاڑی چلا کر تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ ان کی گاڑی کو مسلح موٹر سائیکل سواروں نے بظاہر لوٹنے کے لیے روکا۔

خطرہ محسوس کرتے ہوئے ڈاکٹر ظاہر علی نے اپنی گاڑی کی رفتار بڑھادی لیکن حملہ آور ان پر فائرنگ کر کے فرار ہوگئے۔ پروفیسر کو قریبی واقع آغا خان ہسپتال لے جایا گیا لیکن گولی لگنے کے باعث زیادہ خون بہہ جانے کے سبب وہ جانبر نہ ہوسکے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ پروفیسر کو بھی ایک ہی گولی لگی جو ان کے لیے ہلاکت خیز ثابت ہوئی۔

ایک سینئر پولیس افسر کا کہنا تھا کہ واقعہ بظاہر ڈکیتی کی کوشش لگتا ہے کیوں کہ اگر یہ ٹارگٹ کلنگ ہوتی تو حملہ آور پوائنٹ بلینک رینج سے گولی چلاتے جو اس کیس میں نہیں ہوا۔

عثمان انسٹیٹیوٹ کی ویب سائٹ پر موجود پروفائل کے مطابق ڈاکٹر ظاہر علی سید کا تعلیمی ادارے اور صنعت میں سینیئر انتظامی عہدوں پر 35 سال کا تجربہ تھا۔ انہوں نے داؤد کالج آف انجینیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجینرنگ میں بیچلرز کیا اور اسٹینڈ فورڈ یونیورسٹی، یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا اور میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔

ٹارگٹ کلنگ کی بڑھتی وارداتیں

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سال 2021 کے ابتدائی 3 ماہ کے دوران کراچی میں جرائم کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے جن میں مسلح ڈکیتیوں کے دوران شہریوں سے کروڑوں روپے لوٹ لیے گئے۔

جاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے مارچ تک کراچی میں 5 ہزار 982 موبائل فونز، ایک ہزار 55 موٹرسائیکلیں اور 477 کار چھینی گئیں۔

متعلقہ خبریں