ٹک ٹاک نے پاکستان سے 65 لاکھ ویڈیوز حذف کیں

بدھ 30 جون 2021 14:49

سندھ ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک کو عارضی طور پر بند کرنے کا حکم دیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

چین کی معروف ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن ٹک ٹاک نے شفافیت سے متعلق اپنی سہ ماہی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پالیسی کی خلاف ورزی کی پاداش میں پاکستان سے  65 لاکھ ویڈیوز حذف کی گئی ہیں۔
ٹک ٹاک کی جانب سے ٹرانسپیرنسی سے متعلق رپورٹ جمعرات کو جاری کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان حذف کی گئی ویڈیوز کے اعتبار سے ایپ کے صارف ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے۔
مزید پڑھیں
ٹک ٹاک کے مطابق کیمونٹی گائیڈ لائنز، استعمال کی شرائط کی خلاف ورزی اور کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات پھیلانے کی بنیاد پر ویڈیوز ہٹائی گئی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوری 2021 سے مارچ کے اختتام کے عرصے کے دوران دنیا بھر کے صارفین کی اپ لوڈ کردہ چھ کروڑ 19 لاکھ سے زائد ویڈیو ہٹائی گئیں۔ یہ ایپلیکیشن پر اپ لوڈ کی جانے والی کل ویڈیوز کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
ایپلیکیشن کے مطابق حذف کی گئی ویڈیوز میں سے 91.3 فیصد کسی کی جانب سے رپورٹ کیے جانے سے قبل جب کہ 81.8 فیصد ویڈیوز کسی کے دیکھے جانے سے قبل ہٹائی گئیں۔

ایپ نے پاکستان سے 64 لاکھ 95 ہزار سے زائد ویڈیوز ہٹائیں جب کہ سب سے زیادہ ویڈیوز امریکہ سے ہٹائی گئی ہیں، ان کی تعداد 85 لاکھ 40 ہزار سے زائد رہی ہے۔
ویڈیو شیئرنگ ایپ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ خودکار طریقے سے ویڈیوز ہٹانے سے قبل ان کی نشاندہی کے لیے ٹک ٹاک ٹیکنالوجی پر انحصار کرتی ہے۔ اس عمل کے دوران ویڈیوز تیار کرنے والوں کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ ایسے کسی اقدام کے خلاف اپیل کر سکیں۔
ٹک ٹاک کے مطابق اپیل موصول ہونے کے بعد حذف کی گئی ویڈیوز کو دوسری بار پرکھا جاتا ہے اور اگر غلطی سے ریموو کی گئی ہو تو اسے بحال کر دیا جاتا ہے۔ گذشتہ سہ ماہی کے دوران ریموو کی گئی ویڈیوز میں سے ایپل کے بعد 28 لاکھ 33 ہزار سے زائد ویڈیوز بحال کی گئی ہیں

ٹک ٹاک کی سہ ماہی ٹرانسپیرنسی رپورٹ پاکستان میں ایک ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب سندھ ہائی کورٹ نے شکایات کے باوجود متنازع مواد نہ ہٹانے پر ایپلیکیشن پر ملک بھر پابندی لگانے کا حکم دیا ہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل اور دیگر  کو نوٹس جاری  کرتے ہوئے 8 جولائی تک اس حوالے سے جواب طلب کیا ہے۔
دوسری جانب ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کے لیے درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی گئی ہے۔
عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ ٹک ٹاک جرائم کو فروغ دینے کا باعث بن رہی ہے جس پر لوگ منشیات اور اسلحہ استعمال کرتے اور ویڈیوز اپ لوڈ کرتے ہیں جب کہ تعلیمی اداروں میں ٹک ٹاک کے استعمال سے ماحول خراب ہو رہا ہے۔