ٹیررفنانسنگ کیخلاف فیٹف کی شرائط پرسختی سے عملدرآمد کا فیصلہ

حکومت نے منی لانڈرنگ اور ٹیررفنانسنگ کے خلاف فیٹف کی شرائط پرسختی سےعملدرآمد کا فیصلہ کرتے ہوئے ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کی ایف بی آرسے رجسٹریشن لازمی قراردے دی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کوئی سرکاری یا نجی ڈویلپمنٹ اتھارٹی غیررجسٹرڈ ایجنٹ سے کاروبارنہیں کرسکے گی جبکہ غیرمنقولہ پراپرٹی کی منتقلی یارجسٹریشن بھی نہیں ہوسکے گی۔

اعلامیے کے مطابق تمام ہاؤسنگ اتھارٹیز اور کارپوریٹ ہاؤسنگ سوسائٹیزپرشرط لاگو ہوگی جبکہ رہائشی یا کمرشل مقاصد کیلئے ڈویلپمنٹ اسکیمزپر بھی اطلاق ہوگا۔ خلاف ورزی کی صورت میں منی لانڈرنگ اورٹیررفنانسنگ قوانین کےتحت کارروائی ہوگی۔

تعمیرات،پراپرٹی کی خریدوفروخت یاملکیتی حقوق کی منتقلی کےلیے بھی ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کورجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کرناہوگا۔

واضح رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے اکتوبر میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کا نام بدستور گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

پیرس میں ہونے والے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے 3 روزہ اجلاس میں حکومتِ پاکستان کی 27 ویں شرط پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی سزاؤں سے متعلق کارکردگی کو بھی جانچا گیا۔

ایف اے ٹی ایف کے مطابق پاکستان نے منی لانڈرنگ کے خاتمے کیلئے خاطر خواہ پیشرفت کی ہے، اس حوالے سے پاکستان نے 6 میں سے 4 شرائط کو پورا کرلیا ہے، مجموعی طور پر پاکستان 27 میں سے 26 شرائط پوری کرچکا ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے یہ بھی اعتراف کیا کہ پاکستان نے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے خلاف تیز اقدامات کیے ہیں، عالمی تعاون بڑھانے کے لیے قانون سازی بھی کی گئی، مجموعی طور پر پاکستان 30 شرائط پر عمل کرچکا ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے اپنے بیان میں منی لانڈرنگ، ٹیرر فنانسنگ کیخلاف پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کیا ہے۔ فیٹف کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق مزید ایک نکتے پر پیشرفت جاری رکھے۔ ایف اے ٹی ایف نے مطالبہ کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی جانب سے بلیک لسٹ کی گئی تنظیموں اور افراد پر پابندی لگائے۔

ایف اے ٹی ایف کیا ہے اور کس طرح کام کرتی ہے؟

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے قیام کا فیصلہ 1989ء میں تقریباً 32 سال قبل جی 7 ملکوں نے فرانس میں منعقدہ اجلاس میں کیا تھا، بعد ازاں جی سیون اتحاد کے ممبران کی تعداد 16 ہوئی جو اب بڑھ کر 39 ہوچکی ہے، ایف اے ٹی ایف میں 37 ممالک اور 2 علاقائی تعاون کی تنظمیں شامل ہیں۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف سے وابستہ ایشیا پیسیفک گروپ کا حصہ ہے، اس تنظیم کی براہِ راست اور بالواسطہ وسعت 180 ملکوں تک ہے۔

ایف اے ٹی ایف ایک ٹاسک فورس ہے جو حکومتوں نے باہمی اشتراک سے تشکیل دی ہے۔ ٹاسک فورس کے قیام کا مقصد منی لانڈرنگ کیخلاف مشترکہ اقدامات تھا، امریکا میں 11 ستمبر 2001ء کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے بعد یہ ضرورت محسوس ہوئی دہشتگردی کیلئے فنڈز کی فراہمی کی بھی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے، جس کے بعد اکتوبر 2001 میں ایف اے ٹی ایف کے مقاصد میں منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی فنانسنگ کو بھی شامل کرلیا گیا۔ اپریل 2012 میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فنانسنگ پر نظر رکھنے اور اس کی روک تھام کے اقدامات پر عملدرآمد کروانے کی ذمہ داری اسی ٹاسک فورس کے سپرد کی گئی۔

ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کے حوالے سے دنیا بھر میں یکساں قوانین لاگو کروانے اور ان پر عمل کی نگرانی کرنے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔

اس کی کوشش ہے کہ اس کے ہر رکن ملک میں مالیاتی قوانین کی یکساں تعریف پر عملدرآمد کیا جائے اور ان پر یکساں طور پر عمل بھی کیا جائے تاکہ دنیا میں لوٹ کھسوٹ سے حاصل ہونیوالی دولت کی نقل و حرکت کو مشکل ترین بنا دیا جائے اور لوگوں کیلئے اس قسم کی دولت رکھنا ناممکن بن جائے۔

ایف اے ٹی ایف نے اپنے قیام کے پہلے 2 برسوں میں تیزی سے کام کیا اور 1990ء تک تجاویز کا پہلا مسودہ تیار کیا۔ بعدازاں 1996ء، 2001ء، 2003ء اور 2012ء میں یہ اپنی دیگر تجاویز بھی پیش کرچکی ہے۔

تازہ ترین

متحدہ عرب امارات کا جنوری سے نئے قوانین نافذ کرنے کا اعلان
سندھ حکومت کو دھچکا،4ڈی آئی جیز نےوفاق کےحکم پرجوائننگ دیدی
اسلام آباد: ڈاکوؤں نے آئی جی کا پڑوس بھی نہ چھوڑا
فیصل آباد:خاتون شوہرکےشک،بھائی کی گولی کاشکارہوگئی