ٹیسٹ چیمپیئن شپ فائنل: بارش نے شائقین کرکٹ کی امیدوں پر پانی پھیر دیا

انگلینڈ میں بارش کی وجہ سے انڈیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا فائنل تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انگلینڈ کے شہر ساؤتھمپٹن میں فائنل میچ کے پہلے دن کا دوپہر کے کھانے کے وقفے سے قبل کھیل کا آغاز نہیں ہو پایا ہے۔
مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے ٹاس ہونا تھا اور اس کے آدھے گھنٹے بعد کھیل کا آغاز ہونا تھا لیکن رات بھر تیز بارش اور علی الصبح کی بارش کی وجہ سے گراؤنڈ سٹاف نے پانی نکالنے کے طویل عمل کا آغاز کر دیا ہوا ہے۔
مزید پڑھیں
عام طور پر ٹیسٹ میچ کا دورانیہ پانچ دن کا ہوتا ہے لیکن اس میچ کو چھٹے دن تک بھی لے جایا جا سکتا ہے جس کا فیصلہ لازمی طور پر میچ ریفری کرس بروڈ کو کرنا ہے کیونکہ یہ ہی ایک طریقہ ہے جس سے خراب موسم کی وجہ سے ضائع ہوئے وقت کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔
لیکن انگلینڈ کے سابق بلے باز کرس بروڈ کو پانچویں دن اس کا فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ میچ اس سے پہلے بھی ختم ہو سکتا ہے۔
اس فائنل کی فاتح ٹیم کو 16 لاکھ ڈالر کا انعام ملے گا اور ہارنے والی ٹیم کے حصے میں آٹھ لاکھ ڈالر آئے گے۔ یہ ایک دو سالہ پروگرام تھا جس کی آخری سیریز نے ٹیسٹ چیمپیئن کا فیصلہ کرنا ہے۔
انڈیا اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں نے اس آخری مقابلے کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔

انڈین کپتان وراٹ کوہلی نے سوال اٹھایا ہے کہ ’کیا صرف ایک ہی میچ دنیا کی بہترین ٹیسٹ ٹیم کا فیصلہ کرے گا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
تاہم انڈین ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا صرف ایک ہی میچ دنیا کی بہترین ٹیسٹ ٹیم کا فیصلہ کرے گا۔
اس حوالے سے انڈین کپتان کا گذشتہ روز کہنا تھا کہ ’اگر آپ ٹیسٹ کرکٹ کی بات کر رہے ہیں اور ایک میچ اور پان دنوں پر فیصلہ کر رہے ہیں کہ بہترین ٹیم کون سی ہے تو یہ سچائی کی حقیقت نہیں ہے۔‘
اندیا نے جمعرات کو اپنی ٹیم کا اعلان کیا ہے جس میں فاسٹ بولرز جسپریت بمرا، ایشانت شرما، محمد شامی اور ساتھ ہی سپنرز روی چندرن ایشون اور رویندر جدیجہ کو پہلی بار ایک ہی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
دوسری جانب نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن اپنی کہنی کی انجری سے صحتیاب ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے وہ گذشتہ ہفتے انگلینڈ کے خلاف سیریز نہیں کھیل پائے تھے۔ تاہم ٹیم کے اعلان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’وہ ٹاس تک اپنی ٹیم کے اعلان مین تاخیر کریں گے۔‘
انڈیا بھی ٹاس کے ہونے تک اپنی ٹیم میں تبدیلی کر سکتا ہے۔