ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات ختم نہیں ہوئے، ترجمان خیبرپختونخوا حکومت

صوبہ خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان افسوسناک ہے تاہم مذاکرات کا سلسلہ ختم نہیں ہونا چاہیے۔
وزیراعلٰی پختونخوا کے معاون خصوصی اطلاعات بیرسٹر سیف نے اردو نیوز کو بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان نے مذاکرات سے انکار نہیں کیا اور نہ ریاست پاکستان نے اس بارے میں کوئی باضابطہ اعلامیہ جاری کیا ہے، اس لیے امید کی جا سکتی ہے کہ مذاکرات جاری رہیں گے۔
خیال رہے کہ رواں سال 28 نومبر کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اعلامیہ جاری کر کے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔  
مزید پڑھیں
بیرسٹر سیف نے کہا ’ٹی ٹی پی کی جانب سے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان افسوسناک ہے، انہوں نے مجھے بھی میسج کر کے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔‘
’میں نے طالبان کو سمجھایا ہے کہ جنگ بندی ختم کرنے کا فیصلہ غلط ہے۔ ہمیں مذاکرات کے سلسلے کو ختم نہیں کرنا چاہیے۔‘
اگر زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو گزشتہ تقریباً چھ ماہ سے ٹی ٹی پی کی جانب سےدہشت گردانہ کارروائیاں جاری تھیں۔ سوات، وزیرستان اور لکی مروت میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔
بیرسٹر سیف کے مطابق ’ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کی پاکستانی سیاست پر گہری نظر ہے اور اس موضوع ہر ہماری بات چیت بھی ہوتی رہتی ہے۔ تحریک طالبان قول و فعل میں تضاد رکھنے والے سیاستدانوں کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔‘
’میں اب بھی تحریک طالبان پاکستان کو مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں۔ آئیں ہتھیار رکھیں اور مذاکرات سے حل نکالنے کی کوشش کریں۔‘

کوئٹہ میں پولیس گاڑی پر دھماکے کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے لی تھی۔ فوٹو: اے ایف پی
ٹی ٹی پی کے وزیر دفاع کی جانب سے 28 نومبر کو ایک اعلامیہ جاری ہوا جس میں جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ مزید حملوں کی بھی دھمکی دی گئی۔
اعلامیے کے دو روز بعد کوئٹہ میں پولیس کی گاڑی پر دھماکہ کیا گیا جس میں 2 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوئے۔ اس کے بعد 4 دسمبر کو نوشہرہ میں ہونے والے حملے میں تین پولیس اہلکاروں کی بھی جان گئی۔ ان دونوں حملوں کی ذمہ داری بھی ٹی ٹی پی نے قبول کی تھی۔
خیبرپختونخوا کے مشیر برائے داخلہ بابر سلیم سواتی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ گزشتہ 10 مہینوں میں ایک سو سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پچھلے 11 مہینوں میں607 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ 155 مطلوب دہشت گرد پولیس مقابلوں میں مارے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی اب تک میں دو نشستیں ہو چکی ہیں جس کے وفد میں بیرسٹر سیف وفاق کی جانب سے نمائندے کے طور پر شریک ہوئے تھے۔
پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے جھلرا الگاد میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد آپریشن کیا جس میں 5 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں فوج کے ایک جوان کی بھی جان گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 5 دہشت گرد مارے گئے۔ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشت گرد سیکورٹی فورسز پر حملوں اور شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔