پائلٹس نےجعلی لائسنس کیسےحاصل کیے، رپورٹ میں انکشافات

رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

سول ایوی ایشن نے پائلٹس کے جعلی لائسنس کے حوالے سےتحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی جس میں ہوشربا انکشافات کیے گئے ہیں۔

جعلی لائسنز کےحامل پائلٹس نے خود امتحان دینا تک گنوارا نہ کیابلکہ بعض نے پرواز کےدوران ہی پیپرحل کیے جبکہ بیشتر نے توعید اور عید میلاد النبی کے دوران چھٹیون کے موقع پرامتحان دیئے۔

سپریم کورٹ میں سول ایوی ایشن کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ فراڈ کے مرتکب 54 میں سے 32 پائلٹس کے لائسنس معطل کیے، اسکروٹنی کے دوران پی آئی اے نے 30 پائلٹس کی غلط معلومات فراہم کیں۔ پائلٹس نے امتحان میں اپنی جگہ کسی اور کو بٹھایا جب کہ دیگر بے ضابطگیاں بھی سامنے آئیں۔

جعلی لائسنس والےپائلٹس کیخلاف کارروائی، کیسزایف آئی اے کوارسال

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بدعنوانی کے مرتکب دو سینئر جوائنٹ ڈائریکٹر لائسنس برطرف کو کیا گیا ہے۔ ان افسران نے پائلٹس کو امتحانی سسٹم تک غیرقانونی رسائی دی جس پران کے خلاف ایف آئی اے میں فوجداری مقدمات بھی درج ہیں۔

پائلٹس کےلائسنس کامعاملہ،یورپی کمیشن کی پابندیاں تاحال برقرار

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ دستاویز کے مطابق جس دن پائلٹ یحیحیٰ مصور نے امتحان دیا اُس وقت وہ فلائٹ پر تھے جب کہ 2 پائلٹس امتحان کے روز ملک میں موجود ہی نہیں تھے۔ اسی طرح پائلٹ شوکت محمود نے عید الاضحیٰ کے روز امتحان دیا تاہم دیگر نے خود پرچہ حل کرنا بھی گنوارا نہیں کیا اور اپنی جگہ امتحان میں کسی اورکو بٹھایا۔

روپرٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 28پائلٹس نے ہفتہ وار چھٹی کے روز امتحان دیا۔

متعلقہ خبریں