’پارلیمان میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کی سیاسی قیمت ادا کرنا پڑے گی‘

جمعہ 18 جون 2021 10:07

بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پارلمان میں ہونے والی ہنگامہ آرائی بھولنے نہیں دیں گے۔ فوٹو سکرین گریب

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پارلیمان میں ہونے والی ہنگامہ آرائی بھولنے نہیں دیں گے، اس کی سیاسی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن سے اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے سپییکر اسد قیصر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ منگل کو ایوان میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران انہوں نے اپنا کردار ادا نہیں کیا، سپیکر کی کرسی اور عہدے کی توہین کی، کوئی پارلیمان کا رکن اسے برداشت نہیں کر سکتا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت اگر اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی تو اپوزیشن کون کرے گا۔
مزید پڑھیں
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ بجٹ تقریر میں کسی بھی موضوع ہر بات ہو سکتی ہے، سپیکر قومی اسمبلی ان کی تقریر کے مواد کو مانیٹر نہیں کر سکتے، وزیراعظم کی پسند نا پسند کی تقریر نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے کہا کہ آج تک نیا این ایف سی ایوارڈ نہیں دیا گیا جب تک نہیں دیں گے تو ہر بجٹ غییر آئینی رہے گا، اٹھارویں ترمیم پر عمل نہ کرنے اور این ایف سی ایوارڈ نہ دینے سے تمام صوبوں کا نقصان ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں بالواسطہ ٹیکسوں کا طوفان کھڑا کر دیا ہے جو عام آدمی کو نقصان پہنچائے گا، وزیراعظم عمران خان نے ایک کروڑ نوکریاں دینی تھیں، جن کے پاس روزگار تھا ان کو بھی بے روزگار کر دیا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت کا پورا بجٹ جھوٹ پر مبنی ہے، تمام ترقی کے دعوے جھوٹے ہیں، عوام کو معلوم ہے کہ  4 فیصد گروتھ کا دعویٰ جھوٹا ہے۔