پارلیمنٹ میں قومی یکجہتی کا منظر، وزیراعظم کی خالی کرسی توجہ کا مرکز

جمعرات کو پاکستان کے پارلیمان کا منظر قدرے مختلف تھا۔ پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے لیے ایک سو کے قریب ارکان، عسکری حکام، سرکاری افسران قومی اسمبلی ہال میں جمع ہوئے۔ 
اجلاس کی صدارت اگرچہ سپیکر قومی اسمبلی نے ہی کی لیکن اجلاس میں موجود ارکان کے مطابق وہ چیئرمین سینیٹ کے ساتھ ہال کے دائیں جانب جبکہ بائیں جانب آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے لیے کرسیاں اور ان کے سامنے میز لگائے گئے تھے۔ 
آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی کرسیوں کے سامنے روسٹرم رکھا گیا تھا جس پر کھڑے ہوکر ڈی جی آئی ایس آئی نے شرکا کو بریفنگ دی۔ 
مزید پڑھیں
قومی اسمبلی کا ایوان جسے کمیٹی روم کا درجہ دیا گیا تھا اس کا سیٹنگ پلان کم و بیش ایسے ہی تھا جیسے حکومت اور اپوزیشن ارکان معمول میں بیٹھتے ہیں فرق صرف یہ تھا کہ پہلی رو میں وفاقی وزراء اور پارلیمانی لیڈران تھے جبکہ دوسری، تیسری قطار میں ارکان پارلیمان تھے۔ اپوزیشن کی طرف شہباز شریف اپنی نشست پر براجمان تھے۔ ان کے دائیں جانب خواجہ آصف، بلاول بھٹو زرداری، مولانا اسعد محمود، شاہد خاقان عباسی اور دیگر بیٹھے تھے۔
حکومتی نشستوں پر وزیراعظم عمران خان کی نشست خالی تھی۔ ساتھ والی نشست پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری، وزیر داخلہ شیخ رشید اور دیگر موجود تھے۔ 
دوسری اور تیسری قطار میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کو بٹھایا گیا تھا جبکہ ان کے پیچھے سرکاری اور عسکری حکام بٹھائے گئے تھے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ایوان میں غیر منتخب افراد کو بھی ایوان میں ارکان پارلیمان کی نشستوں پر بیٹھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ 
اِن کیمرہ اجلاس کی تفصیلات مختلف ذرائع اور ارکان پارلیمنٹ کے ذریعے باہر آتی رہیں۔ جو بھی رکن باہر آتا میڈیا کے نمائندگان ان سے سوال کرتے اور کم و بیش تمام افراد کا جواب یہی ہوتا کہ ’اجلاس میں بریفنگ دی جا رہی ہے، حقائق بتائے جا رہے ہیں، ان حقائق کی روشنی میں پالیسی مرتب کی جائے گی۔‘

بریفنگ میں وزیراعظم عمران خان کی عدم شرکت ایک بار پھر موضوعِ بحث بنی۔ فائل فوٹو: اے پی پی
اجلاس تین بجے شروع ہوا تو ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو 45 منٹ بریفنگ کے لیے دیے گئے۔
ذرائع کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی کی بریفنگ ڈیڑھ گھنٹے بعد ختم ہوئی تو سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا لیکن جلد ہی نماز اور چائے کا وقفہ کر دیا گیا۔
تقریباً چھے بجے اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو سوال و جواب کا سلسلہ بھی شروع ہوا جو مزید دو گھنٹے تک جاری رہا۔ اس دوران شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر نے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا اور سوالات بھی اٹھائے۔ 
اجلاس کے دوران ایک رکن قومی اسمبلی ایوان سے باہر آئے تو اردو نیوز کے استفسار پر انھوں نے بتایا کہ اجلاس میں وزیراعظم کی خالی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے اعتراض کیا کہ اتنے اہم اجلاس میں وزیراعظم کو موجود ہونا چاہیے تھا۔ جس پر حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ وزیراعظم اجلاس میں شرکت کے لیے تیار تھے لیکن ہمیں یہ تاثر دیا گیا کہ اپوزیشن نہیں چاہتی کہ وہ موجود ہوں۔ 
ایک اور رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘آج کے اجلاس میں ایسے حقائق سامنے رکھے گئے جو پاکستان کے لیے خوشگوار نہیں ہیں۔’ 

قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے عسکری حکام کی جانب سے دی گئی بریفنگ کو مناسب قرار دیا۔ فائل فوٹو: نیشنل اسمبلی ٹوئٹر
جب اجلاس میں وقفے کے دوران باہر آنے پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ کسی رکن نے وزیراعظم کی عدم موجودگی کا نکتہ اٹھایا تھا تاہم وزیراعظم اگر اجلاس میں آتے تو ہم یقین دلاتے ہیں کہ انھیں کوئی نقصان نہ پہنچاتا۔ 
اجلاس کے پہلے سیشن کے بعد جب ارکان باہر آئے تو ان کا رویہ سنجیدہ تھا اور جس سے بھی بریفنگ کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا موقف تھا کہ ابھی رائے کا اظہار ممکن نہیں۔ تاہم دوسرے سیشن کے دوران جب ارکان باہر آئے تو وہ بریفنگ کے بارے میں مطمئن دکھائی دیے اور کہا گیا کہ اچھی بریفنگ دی گئی ہے۔
شاہد خاقان عباسی ایوان سے باہر آئے تو صحافیوں نے پوچھا کہ ‘اتنی خاموشی کیوں ہے؟’ اس پر شاہد خاقان عباسی نے برجستہ جواب دیا کہ ‘ہم نے اپنی زبان، کان اور آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔’ تاہم جب دوسرے سیشن میں شاہد خاقان عباسی سے سوالات پوچھنے کا سلسلہ شروع ہوا تو وہ رُک گئے اور کہا کہ ’جتنے سوال کرنے ہیں کر لیں۔ سوال سب کے سنوں گا جواب میں اپنی مرضی سے دوں گا۔‘
شاہد خاقان 15 منٹ تک سوال سنتے رہے اور جوابات دیتے رہے تاہم انھوں نے بریفنگ کی جزئیات کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سامنے حقائق، چیلنجز، مشکلات اور خدشات رکھے گئے ہیں۔ ہر جماعت اپنا موقف دے گی اور اس کے بعد پالیسی بنے گی۔ 

اپوزیشن نے اپنے مطالبے پر اجلاس بلائے جانے کو جمہوریت کے لیے نیک شگون قرار دیا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے بریفنگ کو مناسب قرار دیا۔ اردو نیوز کی جانب سے  امریکہ کو فضائی اڈے دینے کے حوالے سے سوال پر شہباز شریف نے کہا کہ اس حوالے سے سب کو پتہ ہے تاہم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ‘اطلاع کے مطابق امریکہ نے اڈے مانگے ہی نہیں۔’ 
چند دن قبل جنگ کے میدان کا منظر پیش کرنے والی پارلیمنٹ میں قومی یکجہتی کے منظر سے اپوزیشن اور حکومت دونوں ہی خوش تھے۔
وزیر داخلہ شیخ رشید نے اپوزیشن کی موجودگی کو خوش آئند کہا تو اپوزیشن نے بھی اپنے مطالبے پر اجلاس بلائے جانے کو جمہوریت اور پارلیمان کے لیے نیک شگون قرار دیا۔ 
پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کا اگرچہ یہ دوسرا اجلاس تھا مگر وجودہ دور حکومت میں عسکری قیادت کی جانب سے سیاسی قیادت کو قومی سلامتی کے مسئلے پر چوتھی مرتبہ اعتماد میں لیا گیا ہے۔ 
26 فروری 2019 کو انڈیا کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزی اور 27 فروری کو پاکستان کی فضائیہ کی جوابی کارروائی کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر عسکری حکام نے پارلیمانی لیڈرز کو اعتماد میں لیا تھا۔

قومی سلامتی کمیٹی کی بریفنگ کے موقع پر سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ فوٹو: اے ایف پی
اگست 2019 میں انڈیا کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کے بعد پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا تھا جس میں ڈی جی ایم او نے پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دی تھی۔ 
اس کے علاوہ آرمی ہاوس راولپنڈی میں آرمی چیف نے پارلیمانی لیڈرز کو عشائیے پر مدعو کرکے بھی قومی سلامتی کی صورت حال پر آگاہی دی تھی۔ 
ان تمام بریفنگز میں جو بات ہر دفعہ خبروں کی زینت بنی وہ وزیراعظم عمران خان کی غیر موجودگی تھی جو جمعرات کی بریفنگ میں بھی زیر بحث رہی۔