’پارٹی نے سرزنش کرنے کے بجائے سینیٹ کی سیٹ تحفے میں دے دی‘

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا کو سندھ سے سینیٹ کے لیے ٹکٹ جاری کرنے کے اعلان کے بعد سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ فیصل واوڈا کو سینیٹ کے لیے نامزد کرنے کا مطلب ہے کہ ’تحریک انصاف جانتی ہے کہ فیصل واوڈا نے دوہری شہریت کیس میں الیکشن کمیشن اور عدالت کے سامنے غلط بیانی سے کام لیا۔ اب انھیں نا اہلی سے بچانے کے لیے سینیٹ سے الیکشن لڑوا کر قومی اسمبلی سے استعفیٰ دلوانا ہے تاکہ یہ معاملہ دب سکے۔
یاد رہے کہ فیصل واوڈا کے خلاف الیکشن کمیشن اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں دوہری شہریت میں نااہلی کی درخواستیں زیر التوا ہیں۔ ان درخواستوں کی سماعت کے موقع پر فیصل واوڈا کی جانب سے پر دفعہ التوا مانگ لیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں

اسی وجہ سے 9 فروری کو الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا پر 50 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

اس حوالے سے ڈان نیوز کے پروگرام نیوز وائز میں وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ ’فیصل واوڈا پارٹی کی ایک مضبوط آواز ہیں۔ سینیٹ میں ان کی ضرورت تھی اس لیے ان کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دوہری شہریت کیس کے حوالے سے سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ اس حوالے سے دو رائے ہیں۔ انھوں نے شہریت چھوڑنے کے فیصلے سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کر دیا تھا لیکن اس حوالے سے دستاویزات بعد میں دی تھیں۔ جب آگاہ کر دیا تھا تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سینیٹ کے چند امیدواروں کا اعلان وفاقی وزیر سائینس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اپنی ٹویٹ میں کیا۔ جس میں انھوں نے بتایا کہ فیصل واوڈا کو سندھ سے سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سندہ سے فیصل واڈا سینیٹ کا الیکشن لڑیں گے اور ٹیکنو کریٹ نشست پر سیف اللہ ابڑو تحریک انصاف کے امیدوار ہوں گے۔ جبکہ بلوچستان سے عبدالقادر کا نام فائنل کیا گیا ہے۔‘
اس فیصلے کے بعد کئی ایک تجزیہ کاروں نے ٹی وی پروگراموں میں اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ میں اس حوالے سے خصوصی سیگمنٹ کیا گیا جس میں عموما حکومت موقف کی حمایت کرنے والے ارشاد بھٹی نے کہا کہ ’جب فیصل واوڈا کا نام سامنے آیا تو ان کو فون کرکے تصدیق چاہی جس پر انھوں نے لا علمی کا اظہار کیا۔ جب ان سے پوچھا کہ آپ کا نام چل کیوں رہا ہے جس کے بعد میں بھی ہیلو ہیلو کرتا رہا اور وہ بھی ہیلو ہیلو کرتے رہے۔‘
سینئیر صحافی کامران یوسف نے ٹویٹ کیا کہ ’ فیصل واڈا کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا مطلب ہے کہ موصوف نے اپنی دوہری شہریت کے حوالے سے غلط بیانی کی اور پارٹی نے ان کی سرزنش کرنے کے بجائے سینیٹ کی سیٹ تحفے میں دے دی۔ یہ ہوتا ہے میرٹ۔‘
ٹویٹر صارف عاصم خان نے ٹویٹ کیا کہ ’فیصل واوڈا کو سینیٹ میں لانے کے فیصلے کے نہایت ہی گہرے مضمرات ہوسکتے ہیں۔ صادق سنجرانی کا بہترین نعم البدل بننے کی اہلیت ہے تو دوسری طرف قومی اسمبلی میں نشست جیت سکیں نہ جیت سکیں مگر انہیں پارلیمان میں مزید چھ سال دلوا کر بہت سے معاملات انجام پا سکتے ہیں۔‘
ایک اور صارف سعود سامی نے لکھا کہ ’ غیر ملکی شہریت چھپانے پر نااہل ہونے کے اندیشے کے پیش نظر اب فیصل واوڈا کو سینیٹ میں اکاموڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ جھوٹ بول کر منتخب ہونے والا سینیٹ کی رکنیت کے لئے صادق اور امین قرار پائے گا کیونکہ اس کا تعلق تحریک انصاف سے ہے۔