پاکستانی سرزمین افغانستان تنازعہ میں استعمال نہیں ہورہی،آئی ایس آئی

فائل فوٹو

ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرزمین افغانستان مخالف سرگرمیوں میں استعمال نہیں ہو رہی ہے۔ اُمید ہے کہ افغان سرزمین بھی پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہوگی۔

اسلام آباد میں قومی سلامتی کمیٹی کو ان کیمرا بریفنگ کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں پارلیمان کو افغانستان، مقبوضہ کشمیر سمیت خطے کی مجموعی صورت حال پر بریفنگ دی گئی۔

وزارت اطلاعات

وفاقی وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی نے کشمیر اور افغانستان کی حالیہ صورت حال، اہم خارجہ امور، داخلی سلامتی سمیت اندرونی چیلنجز اور خطے میں وقوع پذیر تبدیلیوں پر بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان نےافغان امن عمل میں اخلاص کےساتھ نہایت مثبت اور ذمہ دارانہ کردارادا کیا، پاکستان کی بھرپورکاوشوں سےافغان دھڑوں اورمتحارب گروپوں میں مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی،پاکستان کی بھرپور کاوشوں سے امریکا اورطالبان کے درمیان بھی بامعنی مذاکرات شروع ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس آئی

اجلاس میں شریک اراکین کو بریفنگ میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کا کہنا تھا کہ افغانستان کی سرحد پر 90 فیصد باڑ کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ اُمید ہے افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہوگی۔ پاکستانی سرزمین بھی افغانستان تنازعہ میں استعمال نہیں ہو رہی۔ ڈی جی آئی ایس آئی کے مطابق کسٹمز اور بارڈر کنٹرول کا بھی مؤثر نظام تشکیل کیا جا رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی کے مطابق پاکستان افغان امن کیلئے اپنا ذمہ دارانہ کردار جاری رکھے گا۔ پاکستان نے افغان امن عمل میں ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق سیاسی و پارلیمانی قیادت نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا اور افغانستان میں امن،ترقی اور خوشحالی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ ایسے اجلاس اہم قومی امور پر قومی اتفاق رائے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا ان کیمرہ اجلاس قومی اسمبلی ہال میں ہوا۔ بڑے اجلاس کے باعث پارلیمنٹ ہاؤس میں سارے دفاتر کو بند کر دیا گیا ہے۔ پارلیمان کے ایریا میں کسی غیر متعلقہ شخص کو آنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس موقع پر قومی اسمبلی ہال میں بریفنگ کیلئے بڑی اسکرینز نصب کی گئیں۔ قومی اسمبلی ہال کی تمام گیلریز کو بھی بند کر دیا گیا۔ اسمبلی حال کو کمیٹی روم میں تبدیل کر دیا گیا۔

معزز اراکین کو داخلہ، دفاع، خارجہ امور پر بریفنگ دی گئی۔ وفاقی وزرا کے علاوہ اعلیٰ عسکری حکام نے بھی حالیہ صورت حال پر بریفنگ دی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، شہباز شریف، احسن اقبال، بلاول بھٹو، یوسف رضا گیلانی، شیری رحمان، رضا ربانی، اسعد محمود، امیر حیدر ہوتی، شیخ رشید، پرویز خٹک، بابر اعوان، معید یوسف اجلاس میں شریک ہیں۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی بھی اجلاس میں موجود ہیں۔

اسد قیصر

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا تھا ک وزیراعظم نے کہا ہے کہ سیکیورٹی کا معاملہ ہے،سیاسی نہیں بنانا چاہتا۔ وزیراعظم اپوزیشن کے واک آؤٹ کے خدشہ پر نہیں آئے۔

قومی سلامتی پر پاک فوج کیساتھ ہیں،اپوزیشن

سیاسی جماعتوں نے اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملکی دفاع کے معاملے پر پاک فوج کیساتھ ہیں۔ پی پی چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو قومی سلامتی اجلاس میں شریک ہونا چاہیے تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید

شیخ رشید نے کہا کہ تمام پارٹيوں کی دی گئی تجاويز ملک کیلئے ہيں۔ قومی سلامتی کے مسئلے پر اپوزيشن اور حکومت ايک ہے۔ ملکی سلامتی کے مسئلے پر ساتھ کھڑے ہيں۔ سب جماعتیں پاک افواج کے ساتھ کھڑی ہيں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔ بطور وزیرخارجہ اور پارٹی کے وائس چیئرمین کے وزیراعظم کی نمائندگی کروں گا۔ اپوزیشن کو قومی سلامتی کی صورت حال سے آگاہ کیا جائے گا اور اعتماد میں لیا جائے گا، قومی سلامتی کے امور پر قومی اتفاق رائے ہونا چاہئے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ سمیت مجموعی طور پر 108افراد شریک ہیں۔

متعلقہ خبریں