پاکستانی سفارتخانے اپنا رویہ درست کریں،وزیراعظم کی تنبیہ

اوورسیز پاکستانیوں سے نامناسب سلوک برداشت نہیں کرینگے،عمران خان

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک کا قیمتی اثاثہ سمندر پار پاکستانی اپنے سفارتخانوں کے رویے سے مطمئن نہیں ہیں لہٰذا  پاکستانی سفراء اپنا رویہ فوری بہتر کرلیں۔

بدھ کو پاکستانی سفیروں سے آن لائن خطاب کے دوران وزیراعظم عمران کا کہنا تھا کہ پاکستانی سفیروں کا اوورسیز پاکستانیوں سے رویہ درست نہیں ہے اور سفارتکاروں کی ایسی غیرذمہ داری اور اپنے لوگوں سے لاتعلقی ناقابل قبول ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ سفارتخانوں اور عوام کے درمیان رابطے اور شکایات کے ازالے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے، دنیا بھر میں پاکستانی سفیر پاکستانیوں کے زندگی آسان کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سیٹیزن پورٹل سے شکایات موصول ہورہی ہیں لہٰذا امید ہے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے سفیر اپنا رویہ بہتر کرلیں گے۔

 عمران خان نے کہا کہ سمندرپار پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں اور ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے میں ان کا اہم کرادار ہے۔

انہوں نے کہا کہ محنت کش طبقے کے ساتھ ہمیشہ سفارتخانوں میں مسائل پیش آتے ہیں، میں جب انگلینڈ میں تھا اس وقت دیکھتا تھا کہ ایمبیسی کا لوگوں کے ساتھ رویہ بہت برا ہوتا تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ اوورسیز پاکستانیوں سے خود رابطے میں رہتے ہیں اور انہیں سعودی عرب سے پاکستانیوں کی شکایات موصول ہوئیں کہ سعودی عرب میں ایمبیسی اسٹاف لوگوں کو وقت نہیں دے رہا جس پر اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

وزیراعظم کا سفیروں سے خطاب میں کہنا تھا کہ سیٹیزن پورٹل پر بھی سفارتخانوں سے متعلق شکیات مل رہی ہیں کہ ہماری ایمبیسی لیبرز کو سروسز فراہم نہیں کررہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی باتیں برداشت نہیں کی جائیں گی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ سفارتخانوں کا بنیادی فرض اپنے ہم وطنوں کو خدمات کی فراہمی ہے جبکہ شکایات مل رہی ہیں کہ سفارتخانے جائز کاموں کےلیے غیر ضروری لیت ولعل سےکام لیتے ہیں اور ان کا رویہ بھی بلکل نا منساب ہے۔

 وزیراعظم نے کہا کہ سب سے برا رویہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں پاکستان کے سفارتی اسٹاف کا ہے جو سب سے زیادہ ترسیلات زر ملک بھیجتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کہیں کام کا دباؤ زیادہ ہے تو ہمیں بتایا جائے تاکہ ہم مزید سہولیات فراہم کریں لیکن محنت کشوں سے ناروا سلوک ناقابل قبول ہوگا۔

متعلقہ خبریں