پاکستان انگلینڈ سیریز ملک میں نہیں دکھائی جائے گی: فواد چوہدری

منگل 8 جون 2021 13:58

’سیریز دکھانے کے لیے پی ٹی وی نے انڈین کمپنی سے معاہدہ کرنا تھا، جس کی درخواست وفاقی کابینہ نے مسترد کر دی ہے۔‘ (فوٹو: اے پی)

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان انگلینڈ کرکٹ سیریز پاکستان میں نہیں دکھائی جائے گی کیونکہ اس کے لیے پی ٹی وی نے انڈین کمپنی سے معاہدہ کرنا تھا، پی ٹی وی کی درخواست کو وفاقی کابینہ نے مسترد کر دیا ہے۔
منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا کے ساتھ ہمارے تعلقات کشمیر میں پانچ اگست کے قدم کو واپس لیے جانے پر منحصر ہیں۔
انہوں نے کینیڈا میں پاکستانی نژاد خاندان کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’مسلمانوں کو انتہا پسندی کا طعنہ دینے والوں کو اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے۔‘
مزید پڑھیں
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’مسلمان ممالک کو لیکچرز دینے والے اسلاموفوبیا پر قابو پائیں۔‘
انہوں نے وزیراعظم کی تقاریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا کی توجہ اسلاموفوبیا کی طرف دلا چکے ہیں۔
فواد چوہدری نے ایک بار پھر اوورسیز پاکستانیوں کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کے لیے ان کا کردار بہت اہم ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیز کے لیے الیکٹرونک ووٹنگ لانا چاہ رہے تاہم اپوزیشن اس حوالے تعاون نہیں کر رہی۔
ان کے مطابق ’مسلم لیگ ن اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہیں دینا چاہتی۔‘ انہوں نے احساس پروگرام کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا میں تیسرا بڑا ایمرجنسی کیش پروگرام ہے۔
فواد چوہدری نے یہ بھی بتایا کہ اجلاس میں ٹیلی فون انڈسٹریز کو این آر ٹی سی میں ضم کرنے کی منظوری بھی دی اور اس کے بین الوزارتی کمیٹی بنائی گئی ہے۔
’کسی ملازم کو نہیں نکالا جائے گا بلکہ این آر ٹی سی میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔‘

فواد چوہدری نے کینیڈا میں پاکستانی نژاد خاندان کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا (فوٹو: اے ایف پی)
فواد چوہدری کا یہ بھی کہنا تھا کہ اجلاس میں طارق ملک کو نادرا کا چیئرمین مقرر کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ انتخابی اصلاحات حکومت پانچ سو الیکٹرانک مشینوں کا آرڈر دینے جا رہے ہیں۔ ریلوے کی حالت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے بتایا کہ اتنے بڑے ادارے کو پھونک مار کر ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔
 ساتھ ہی ایک بار پھر اس کی حالت کا ذمہ دار مسلم لیگ ن کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنے دور حکومت میں ٹریکس پر پیسہ لگانے کے بجائے اورنج لائن بنائی۔
آنے والے بجٹ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس کو منظور کروانے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔