پاکستان اور انڈیا کو پارٹنرز کی نظر سے دیکھتے ہیں: امریکہ

امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے پاکستان اور انڈین وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن کی پاکستان اور انڈین وزرائے خارجہ سے ملاقاتوں کے بعد کہا ہے کہ ’ہم دونوں ملکوں کو پارٹنرز کی نظر سے دیکھتے ہیں اور دونوں اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔‘
سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر دی گئی تفصیلات کے مطابق محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کی معمول کی بریفنگ میں سوال پوچھا گیا کہ افغانستان میں طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے معاملے میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے امریکہ کا کیا موقف ہے؟
مزید پڑھیں
اس پر نیڈ پرائس نے کہا کہ ’اس وقت میرے لیے مشکل ہو گا کہ پچھلے 20 برس کے تعلقات کا خلاصہ پیش کر سکوں تاہم اتنا بتاتا ہوں کہ افغانستان اور طالبان کے معاملے پر صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دوسری حکومتوں کی بھی وقت کے ساتھ سوچ میں تبدیلی سامنے آئی۔‘
انہوں نے بتایا کہ کابل میں طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد پاکستان میں جو حکومت آئی ہے اس سے بات کر رہے ہیں اور اس کی ایک سے زائد وجوہات ہیں۔
’دونوں ممالک سلامتی کے حوالے سے ایک جیسے مسائل رکھتے ہیں۔ اگر افغانستان میں بدامنی ہوتی ہے اور تشدد پھیلتا ہے تو یہ پاکستان کے مفاد میں ہو گا نہ ہی ہمارے مفاد میں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پیر کو وزیر خارجہ کی بلاول بھٹو زرداری سے جو ملاقات ہوئی ہے اس کے بارے میں میرا خیال ہے کہ سلامتی کے معاملات کے علاوہ انسانی مسائل پر بھی بات چیت ہوئی ہو گی۔
اسی طرح امریکہ پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی پر بھی توجہ مرکوز کر رہا ہے اور ہم نے لاکھوں ڈالر کی امداد پاکستان بھیجی ہے۔

پاکستان کو ایف 16 کے پُرزوں کی فروخت پر انڈیا کی تشویش

دوسرا سوال انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے پاکستان کو ایف 16 جنگی طیاروں کے لیے دیے جانے والے فنڈز پر تحفظات کے اظہار اور امریکہ کو پاکستان کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کے مشورے پر مبنی تھا۔
اس پر نیڈ پرائس نے کہا کہ ’ہم دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات کو اس نظر سے نہیں دیکھتے جس نظر سے وہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔‘
 ’یہ دونوں ہمارے مختلف پہلوؤں سے شراکت دار ہیں، ہم دونوں کو پارٹنرز کے طور پر ہی دیکھتے ہیں کیونکہ صرف مفادات ہی نہیں ہمارے کئی دوسرے معاملات بھی ملتے جلتے ہیں۔
انہوں نے انڈیا کے ساتھ تعلق کے بارے میں کہا کہ اس کے ساتھ رشتہ اپنی جگہ ہے اور پاکستان کے ساتھ اپنی جگہ۔
’ہم چاہتے ہیں کہ دونوں پڑوسیوں کے درمیان مستحکم تعلقات کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں، وہ کریں۔