پاکستان اور تاجکستان میں تعلیم وتجارت سمیت کئی معاہدوں پردستخط

وزیراعظم عمران خان سے تاجک صدر کی ملاقات

تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے اپنے 2 روزہ دورۂ پاکستان میں وزيراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقاتیں کی، اس موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں معاہدے ہوئے ہوئے جبکہ کئی ایم او یوز پر بھی دستخط کئے گئے۔

تاجک صدر امام علی رحمان اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی، دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے فروغ، خطے کی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم اور تاجک صدر کی موجودگی میں دونوں ممالک کے درمیان انسداد بدعنوانی، تجارت، تعلیم، ثقافت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے، کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ میں تعاون کا معاہدہ بھی طے پاگیا۔

مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ فریقین نے آج مذاکرات میں خصوصاً تجارتی تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیا ہے، تاجکستان کے ساتھ دستخط ہونیوالی مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں سے قیام امن، دفاع، فن اور ثقافت کے شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی انخلاء کے بعد افغانستان میں سیاسی حل، تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے پاکستان اور تاجکستان دونوں کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، افغانستان میں ایسی متفقہ حکومت کی ضرورت ہے جو ملک کو انتشار سے محفوظ رکھ سکے۔

بھارت کے غیرقانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں 5 اگست 2019ء کے متنازع اقدامات کو واپس لینے تک بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری نہیں آسکتی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی مہمان صدر سے ملے۔ شاہ محمود نے افغان امن کیلئے پاکستان کے کردار سے آگاہ کرتے ہوئے کہا خطے میں قیام امن کیلئے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھیں گے۔

پاکستان آمد پر تاجک صدر امام علی رحمان کو وزیراعظم ہاؤس میں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔

متعلقہ خبریں