’پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘ میں بھاری جرمانے اور سزائیں تجویز

حکومت نے ملک میں ذرائع ابلاغ کے لیے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے مجوزہ قانون کا ڈرافت تیار کر لیا ہے جسے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔ 
پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کے آرڈیننس کے نفاذ کے بعد پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، پریس کونسل آرڈیننس اور موشن پکچرز آرڈیننس منسوخ ہو جائیں گے اور ملک میں کام کرنے والے اخبارات ٹی وی چینلز اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز ’پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘ کے تحت کام کریں گے۔ 
تاہم وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا مجوزہ آرڈیننس کے حوالے سے کہنا ہے کہ ’میڈیا کے نئے قانون سے صرف فائدہ میڈیا ورکرز کو ہے، جو تنخواہیں نہ ملنے پر اپنے اداروں کے خلاف عدالت سے رجوع کر سکیں گے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے اس ترمیم کی پہلے بھی مخالفت کی اور اب بھی کریں گے کیونکہ ان کے مفادات ورکرز سے نہیں سیٹھ کے ساتھ ہیں۔‘
مزید پڑھیں
اردو نیوز کے پاس دستیاب مجوزہ قانون کی دستاویزات کے مطابق پاکستان میں اخبارات، ٹی وی چینلز اور ویب چینلز کے علاوہ ڈیجیٹل میڈیا کے لیے بھی لائسنس اور این او سی حاصل کرنا اور تجدید لازمی قرار دی گئی ہے۔ 
مجوزہ قانون کے مطابق کوئی بھی مواد یا معلومات تحریری، آواز، ویڈیو یا گرافکس کے طور پر انٹرنیٹ کے ذریعے دی جائے ڈیجیٹل میڈیا کے زمرے میں آئے گی۔ اس کے علاوہ ویب ٹی وی اور اوور دی ٹاپ ٹی وی بھی ڈیجیٹل میڈیا کی کیٹگری میں شامل ہوگا۔ 
پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کے تحت لائسنس یافتہ یا رجسٹرڈ میڈیا پلیٹ فارمز پر اس آرڈیننس کی خلاف ورزی کی صورت میں تین سال تک قید اور ڈھائی کروڑ روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے اور دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں یہ سزا پانچ سال تک بڑھائی جا سکتی ہے۔ 
سینیئر صحافی محمد ضیاء الدین کے خیال میں اس قانون کے تحت حکومت میڈیا کو ریگولیٹ نہیں بلکہ کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔ ‘یہ ریگولیٹری اتھارٹی نظر نہیں آتی بلکہ کنٹرولنگ اتھارٹی نظر آتی ہے۔ یہ میڈیا کو اس قانون کے ذریعے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔’

پاکستان میں اخبارات اور ٹی وی چینلز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے الگ الگ اتھارٹیز موجود ہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں ہر جگہ میڈیا ریگولیٹری باڈیز ہوتی ہیں لیکن قوانین بنانے میں ہمیشہ پروفیشنل صحافیوں سے مشاورت کرنا بہت ضروری ہے۔’جب تک صحافیوں سے مشاورت نہیں کی جاتی اس وقت تک اس قسم کی کوئی چیز بننی نہیں چاہیے۔’
محمد ضیاء الدین کے خیال میں کسی صحافتی ادارے کو ریگولیٹری کرنے کے لیے جرمانے تو کیے جاتے ہیں تاہم دنیا میں کہیں بھی ایسا قانون موجود نہیں جس میں سزائیں دی جائیں۔
قانون کے مسودے کے مطابق وفاقی حکومت پی ایم ڈی اے کو کسی بھی معاملے پر ہدایات جاری کر سکتی ہے جبکہ پی ایم ڈی اے حکومتی ہدایات پر عملدرآمد کروانے کی پابند ہوگی۔
پی ایم ڈی اے کے تحت الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کا علیحدہ علیحدہ ڈائریکٹریٹ قائم کیا جائے گا جو کہ متعلقہ شعبوں کی مانیٹرنگ، لائسنس کے اجرا اور تجدید کو ریگولیٹ کرے گا جبکہ اتھارٹی کے پاس اختیار ہو گا کہ وہ ضرورت کے مطابق ذیلی ونگز تشکیل دے سکے۔ 
ڈیجیٹل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا لائسنس یا رجسٹریشن کا حامل ادارہ پاکستان کی خودمختاری، سالمیت اور سیکیورٹی کی پابندی یقینی بنائے گا۔ لائسنس یافتہ میڈیا پلیٹ فارم وفاقی حکومت یا اتھارٹی کی ہدایت کے مطابق عوامی مفاد یا معلوماتی پراگرامز نشر کرے گا جس کا کم از کم دورانیہ روزمرہ کی نشریات کے دورانیے کے پانچ فیصد پر مشتمل ہوگا۔ 
’کسی بھی پروگرام کے دوران اینکرز یا میزبان نظریہ پاکستان، ملکی سلامتی، خودمختاری یا سکیورٹی سے متعلق کسی پراپیگنڈے یا عمل کی تشہیر نہیں کرے گا۔‘

نئے قانون کے تحت میڈیا ٹریبونلز بھی بنائے جائیں گے۔ فائل فوٹو: روئٹرز
مسودے کے مطابق کوئی ایسا مواد نشر کرنے یا آن لائن کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جو ریاست کے سربراہ، آرمڈ فورسز یا عدلیہ کی بدنامی کا باعث بنے۔
’نئے لائسنس یافتہ ادارے لانچنگ سے ایک سال کے عرصے تک سرکاری اشتہارات کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔‘
آرڈیننس کے تحت میڈیا کمپلینٹ کونسل بھی تشکیل بھی دی جائے گی جو کہ پراگرامز، خبروں اور تجزوں کے حوالے سے شکایات کا فیصلہ کرے گا تاہم نئے آرڈیننس کے ذریعے کملینٹ کونسل کو بااختیار بناتے ہوئے سول کورٹس کے اختیارات دیے جائیں گے جس کے تحت کونسل کو کسی کی حاضری کے لیے سمن جاری کرنے یا معلومات طلب کرنے کا اختیار ہوگا۔
کونسل 20 روز کے اندر کسی بھی شکایات کے حوالے سے فیصلہ کرنے کی پابند ہوگی۔
آرڈیننس کے تحت ایسے کسی مواد کو نشر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جو عوام میں نفرت پھیلانے کا باعث بنے یا لا اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب کرنے کا باعث بن سکتا ہو۔ 
پاکستان میڈیا ڈویلمپنٹ اتھارٹی کے تحت میڈیا ٹریبونل کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔ دس رکنی ٹریبونل کا چیئرمین ہائی کورٹ کے سابق جج کو تعینات کیا جائے گا۔ 
میڈیا کمپلینٹ کونسل کے فیصلہ کے خلاف اپیلیں سننے کے علاوہ ٹریبونل میڈیا ورکرز کے ویجز پر عملدرآمد کرے گا جبکہ میڈیا ہاوسز کے میڈیا ورکرز کے ساتھ پیشہ ورانہ امور کی نگرانی بھی کرے گا۔