پاکستان میں امتحانات کے انعقاد پر طلبا اور والدین پریشان کیوں ہیں؟

پاکستان بھر کے وزرائے تعلیم نے امتحانات کے بغیر طلبا کو پروموٹ کرنے کے امکانات کو رد کرتے ہوئے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات 20 جون کے بعد شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم امتحانات کا حتمی شیڈول جاری کرنے کا فیصلہ صوبائی بورڈز کریں گے۔
اس فیصلے سے جہاں طلبا کی امتحان کے بغیر پاس ہونے کی خواہش نے دم توڑ دیا ہے وہیں ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے بی ایس پروگرام میں داخلے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں
بیشتر یونیورسٹیاں اگرچہ فرسٹ ایئر کی بنیاد پر داخلے دے رہی ہیں تاہم ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ ’اس بنیاد پر ہونے والے داخلوں کی شرائط اس قدر سخت ہوتی ہیں کہ طلبا کی محدود تعداد ہی داخلہ لینا افورڈ کر سکتی ہے۔‘
انٹرمیڈیٹ امتحانات کے حوالے سے اب تک سامنے آنے والے شیڈولز کے مطابق پنجاب میں انٹرمیڈیٹ کے پرچے دو جولائی سے شروع ہوں گے جبکہ انٹر پارٹ ٹو کا رزلٹ 14 ستمبر کو جاری ہوگا۔
سندھ میں انٹرمیڈیٹ کے امتحانات 28 جولائی سے اور کے پی کے میں 17 جون سے شروع ہوں گے۔ جبکہ بلوچستان میں 25 مئی کے لیے جاری کیا گیا شیڈول منسوخ کرتے ہوئے امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں اور ابھی تک نیا شیڈول جاری نہیں ہوا۔

طلبا کے مطالبے کے باوجود انہیں امتحانات کے بغیر پروموشن نہیں ملی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو یعنی ایف اے، ایف ایس سی، آئی سی ایس اور آئی کام کے علاوہ اے لیول پارٹ ٹو کے امتحانات میں تاخیر کی وجہ سے پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں میں بی ایس پروگرام میں داخلے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
صرف یہی نہیں بلکہ طلبا کے مطالبے کے باوجود نہ تو امتحانات کے بغیر پروموشن ملی ہے بلکہ بڑی یونیورسٹیوں میں انٹری ٹیسٹ کی شرط سے بھی استثنیٰ نہیں ملا، جس وجہ سے طلبا اور ان کے والدین کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
طلبا کا موقف ہے کہ ’پورا سال آن لائن کلاسز لیں، کورس مکمل نہیں ہوا اور بورڈ کے امتحانات کے شیدول میں بار بار تبدیلی سے تیاری بھی نہیں کر سکے اور اوپر سے یونیورسٹیوں میں داخلہ بھی تاخیر کا شکار ہوگا۔‘
جن یونیوسٹیوں نے فرسٹ ایئر کے نتیجے اور انٹری ٹیسٹ کی بنیاد پر داخلہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ان کی شرط ہے کہ پہلا سمیسٹر مکمل کرنے سے پہلے انٹرمیڈیٹ یا اے لیول پارٹ ٹو کا امتحان یونیورسٹی کے مطلوبہ معیار کے مطابق طے شدہ نمبروں یا گریڈز کے ساتھ پاس کرنا ہوگا۔

یونیورسٹیوں کی شرط ہے کہ طلبا کو پہلا سمیسٹر مکمل کرنے سے پہلے انٹرمیڈیٹ یا اے لیول پارٹ ٹو کا امتحان طے شدہ نمبروں کے ساتھ پاس کرنا ہوگا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
اس حوالے سے ماہر تعلیم فرحین محمود نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یونیورسٹیوں میں داخلے کے حوالے سے کنفیوژن ہے۔ یونیورسٹیاں داخلے تو دے رہی ہیں لیکن سمیسٹر اور امتحانات کا دوہرا بوجھ طلبا کے سر پر ہوگا۔‘
’اگر کوئی طالب علم اتنے گریڈز حاصل نہیں کرتا جتنے یونیورسٹیوں کی ڈیمانڈ ہے تو اس کا وقت اور والدین کے پیسے دونوں ضائع ہو جائیں گے کیونکہ ایسی صورت میں اس کا داخلہ منسوخ ہو جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’بعض یونیورسٹیوں نے انٹری ٹیسٹ یا کیڈ کے لیے فیسیں جمع کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور پھر اسے روک دیا۔ اس سے بھی کنفیوژن پیدا ہوئی اور طلبا بے یقینی کا شکار ہوئے۔
فرحین محمود کا مزید کہنا تھا کہ ’جہاں وزارت تعلیم امتحانات کو آگے کرنے کا اعلان کر رہی ہے، ایسے میں یونیورسٹیوں کے لیے ہدایات جاری ہونی چاہئیں کہ وہ بھی طلبا کے حوالے سے واضح لائحہ عمل کا اعلان کریں۔
دوسری جانب طلبا کے والدین بھی موجودہ صورت حال سے پریشان ہیں اور کافی حد تک اپنے بچوں کے ہم خیال ہیں۔

قائد اعظم یونیورسٹی ہر سال تقریبا 2200 سے 2500 طلبا کو بی ایس پروگرام میں داخلہ دیتی ہے۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
اردو نیوز سے گفتگو میں انٹرمیڈیٹ کے دو طلبا کی والدہ ابیھا حفیظ نے کہا کہ ’گذشتہ سال لاک ڈاون سے پہلے تمام طلبا نے کم وبیش نو مہینے باقاعدہ کلاسز لے رکھی تھیں کہ لاک ڈاون ہوا۔ اس کے باوجود بچوں کو بغیر امتحان کے نہ صرف پاس کیا گیا بلکہ پریکٹیکل کے نمبرز کے ساتھ ساتھ تین فیصد اضافی نمبرز بھی دیے گئے۔ یہ فیصلہ درست تھا کیونکہ وبا میں بچوں کا کوئی قصور نہیں تھا۔
انھوں نے بچوں کی مشکلات کے حوالے سے کہا کہ ’اس کے برعکس موجودہ بیج کے طلبا نے ایک بھی ریگولر کلاس نہیں لی۔ ان کے لیے کوئی آسانی یا رعایت نہیں ہے جبکہ موجودہ بیجز کے بچوں کو گذشتہ بیج سے کافی زیادہ مشکلات درپیش ہیں۔ کمزور انٹرنیٹ اور دیگر مسائل کی وجہ سے ان کی تعلیم بہت زیادہ متاثر ہوئی ہے اور وہ اس وجہ سے اپنے مستقبل کے بارے میں پریشان ہیں۔
ابیھا حفیظ نے مطالبہ کیا کہ ’یونیورسٹیاں بھی بورڈز کی طرح سمارٹ سلیبس کے تحت انٹری ٹیسٹ لیں اور موجودہ صورت حال کے باوجود اچھی کارکردگی دکھانے والے طلبا کو فیسوں میں رعایت اور سکالرشپس دیے جائیں۔

طلبا کے والدین کا مطالبہ ہے کہ یونیورسٹیاں بھی بورڈز کی طرح سمارٹ سلیبس کے تحت انٹری ٹیسٹ لیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
دوسری جانب یونیورسٹیوں کا موقف ہے کہ وہ 11 ویں کے رزلٹ کے مطابق داخلے دے رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طلبا کا تعلیمی وقت ضائع نہ ہو۔ اس کے لیے انھیں ذرا زیادہ محنت کرنا ہوگی جو کہ ان کے مستقبل کے لیے ضروری ہے۔
اس حوالے سے قائد اعظم یونیورسٹی کے ترجمان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’قائد اعظم یونیورسٹی ہر سال تقریبا 2200 سے 2500 طلبا کو بی ایس پروگرام میں داخلہ دیتی ہے۔ کورونا کی وجہ سے گذشتہ برس بھی طلبا کو فرسٹ ایئر کی بنیاد پر داخلہ دیا گیا تھا۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ایڈمیشنز کمیٹی اس برس بھی کوڈ کے باعث گذشتہ برس کی پالیسی کو برقرار رکھے گی۔
لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائسز نے واضح کیا ہے کہ ’ایسے طلبا جو یونیورسٹی کے طے شدہ معیار کو پورا کرتے ہوں گے انھیں مشروط داخلہ دیا جائے گا۔ لیکن انھیں یونیورسٹی کلاسز اور اے لیول امتحانات کو ایک ساتھ جاری رکھنا ہوگا۔ اے لیول پارٹ ٹو امتحانات میں مطلوبہ گریڈز نہ لینے والے طلبا کو یونیورسٹی چھوڑنا ہوگی۔‘