’پاکستان میں تیزاب گردی کے صرف تین واقعات پر فلم بن گئی اور آسکر ایوارڈ دیا گیا‘

ڈی جی رینجر نے کہا کہ انگلینڈ میں ایک سال میں چھرا مارنے کے 10 ہزار واقعات ہوئے ہیں۔ (فوٹو: ٹوئٹر)

ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل افتخار حسن کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک کے میٹرو پولیٹن شہروں کے مقابلے میں کراچی خاصا پر امن ہے، لیکن اس کے خلاف پراپیگنڈہ ہوتا ہے۔
’کراچی میں ہونے والے تیزاب گردی کے اکا دکا واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا، لوگ اس پر فلمیں بنا کر آسکر ایوارڈ وصول کرتے، جبکہ یورپ میں ایسے سینکڑوں واقعات ہوتے ہیں کوئی فلم نہیں بنتی نہ شہر کو جرائم کا گڑھ کہا جاتا ہے۔‘
میجر جنرل افتخار حسن نے سوموار کو ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اوجھا کیمپس کراچی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر طلبا سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کچھ دن قبل کینیڈا میں پاکستانی خاندان کے ساتھ دہشت گردی کا واقعہ ہوا، اس کے علاوہ ایک اور واقعے میں پاکستانی شہری کو حراساں کیا گیا اور اس کی داڑھی مونڈھ دی گئی۔
مزید پڑھیں
ان کا کہنا تھا ’اگر یہی واقعات کراچی میں ہوئے ہوتے تو اب تک اسے دنیا کا خطرناک ترین شہر قرار دیا جا چکا ہوتا۔‘
’نیشنل میڈیا پر تیزاب گردی کے صرف تین واقعات رپورٹ ہوئے تھے، تو اس پر (ڈاکیومنٹری) فلم بن گئی. شرمین عبید چنائے کو اس فلم پر آسکر ایوارڈ بھی دیا گیا۔ جبکہ پچھلے ایک سال میں انگلینڈ میں تیزاب گردی کے 800 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، لیکن اس پر تمام میڈیا خاموش ہے کوئی فلم نہیں بنی۔‘
ڈی جی رینجرز نے مزید کہا کہ انگلینڈ میں پچھلے ایک سال میں چھرا مارنے کے 10 ہزار سے زائد واقعات ہوئے ہیں، لیکن پھر بھی تاثر دیا جاتا ہے کہ لندن محفوظ شہر ہے۔
’نیو یارک میں ایک سال میں مسلح ڈکیتیوں کے 16 سو سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ اس کے مقابلے میں کراچی میں صرف ڈھائی سو ایسے واقعات رپورٹ ہوئے، حالانکہ کراچی کی آبادی نیویارک کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہے۔‘
ہم اتنے برے نہیں ہیں جتنا برا ہمیں بنایا جاتا ہے، اور بار بار کہے جانے کی وجہ سے ہم نے خود کو سمجھنا شروع کردیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے میں قانون نافذ کر نے والے اداروں کے ساتھ ساتھ عوام نے بھی اہم کر دار ادا کیا ہے۔
ڈی جی رینجرز نے تقر یب سے خطاب کر تے ہو ئے کہا کہ درس گاہیں قوموں بالخصوص نوجوانوں کی کردار سازی اور روشن مستقبل کا تعین کرتی ہیں اس ضمن میں اساتذہ کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے تعلیمی اِداروں میں منشیات کے بڑھتے رحجان پر روشنی ڈالی اور کہا کہ طالب علموں کو چاہیے کہ وہ اپنے کردار اور قابلیت کو سامنے رکھتے ہوئے تعمیری سوچ کے ساتھ ملکی ترقی اورمنشیات کی لعنت کو معاشرے سے ختم کرنے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
ڈی جی رینجرز نے کورونا کے خلاف جنگ میں ڈاکٹرز اور ہیلتھ ورکرز کے کردار کو سراہا اور بطور فرنٹ لائن ورکر ان کی خدمات کی تعریف کی۔
ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال پر بتانے کو سب گھبراتے ہیں، اس چیز کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔