پاکستان میں جمہوریت کےداعی افغانستان میں متضاد نظام کےحامی کیوں؟

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد پاکستان میں بھی افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے سیاسی تبصروں کا آغاز ہوچکا ہے جن میں مذہبی جماعتیں افغان طالبان کے حق میں بیانات دیتی دکھائی دے رہی ہیں جبکہ قوم پرست جماعتیں اس موقف کو مذہبی جماعتوں کی دوغلی پالیسی قرار دے رہی ہیں کہ ملک میں تو وہ جمہوریت کی بات کرتی ہیں جبکہ افغانستان میں غیرجمہوری نظام کی حمایت کر رہی ہیں۔

بیان بازی کا سلسلہ کہاں سے شروع ہوا ؟
ویسے تو آج کل پوری ملک اور خصوصاً افغانستان سے متصل صوبوں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں عوامی سطح پر بھی یہ بحث جاری ہے لیکن تازہ بحث اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب پی ڈی ایم کے تحت ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے افغان طالبان کی کارروائیوں کو فتح سے تعبیر کیا اور کہا کہ “صورتحال تبدیل ہورہی ہے افغانستان میں امریکا شکست کھا کر واپس جارہا ہے، افغانستان کا 70 سے 80 فیصد علاقہ طالبان کا ہاتھ میں آچکا ہے اور مسلسل فتوحات کا سلسلہ جاری ہے”۔
مولانا فضل الرحمان کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر بھی شدید تنقید کی جارہی ہے صارفین کے طرف سے یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ اگر پاکستان میں جمہوریت چاہیے تو افغانستان میں امارت کی حمایت کیوں کی جارہی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے اس بیان کو عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایک طرف انہوں نے پی ڈیم ایم اس مقصد کے لیے بنائی کہ انہیں پاکستان میں سویلین بالادستی، اسمبلیوں میں نمائندگی اور حکومت میں حصہ چاہیے پھر دوسری طرف وہ افغانستان میں امارت کی حمایت کرتے ہوئے دوہرے معیار کا مظاہرہ کیوں کر رہے ہیں۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر خیبرپختونخوا اسمبلی سردار حسین بابک کا کہنا تھا کہ افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے اور ہم قیامت تک ایک دوسرے کے پڑوسی رہیں گے اس لیے یہ دونوں ممالک کی ضرورت ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں، ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہ کریں۔
سردار حسین بابک کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان نے افغان فریقین کے درمیان غیرجانب دار رہنے کا فیصلہ کیا ہے تو اچھی بات لیکن اس پالیسی پر عملی ثبوت دینے کی بھی ضرورت ہے۔
رہنما اے این پی نے دعویٰ کیا کہ اس وقت بھی افغانستان سے پاکستان میں وہاں لڑنے والوں کی لاشیں آرہی ہے اور افغان طالبان کےلئے مختلف علاقوں میں چندے بھی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی پڑوسی ملک میں جنگجو بغاوت جاری ہو تو ہماری سیاسی قیادت اور میڈیا کو منتخب افغان حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے سردار حسین بابک کا کہنا تھا کہ اگر مذہبی جماعت کا رہنما دہشت گردی کو فتح کا نام دے رہا ہے تو یہ قابل مذمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر افغان حکومت کے عہدیدار پاکستان مخالف بیانات دے رہی ہیں تو پاکستانی حکومت کو انہیں جواب بھی دینا چاہیے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا چاہیے مگر کسی ایک فریق کی حمایت درست نہیں ہے۔

جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان اسلم غوری نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ افغان طالبان کی حمایت تو ریاست پاکستان بھی کررہی ہے پھر اگر مولانا فضل الرحمان نے بھی حمایت میں بیان دے دیا تو یہ کونسی بڑی بات ہے۔
اسلم غوری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پارلیمنٹ کے اندر اپنے پالیسی بیان میں طالبان کی حمایت میں بیانات دے چکے ہیں ہم تو اس حوالے سے صرف ریاستی موقف کی تائید کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا ہم نے بحیثیت جماعت افغانستان میں آئندہ کی حکومت سازی پر غور نہیں کیا اور اس حوالے سے ہمارا موقف ہے کہ یہ فیصلہ افغان عوام کا اختیار ہونا چاہیے لیکن افغانستان میں بیرونی قوتوں کے کے خلاف لڑنے والوں کے حمایت تو ہم روز اول سے کرتے آرہے ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے تنقیدی بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے اسلم غوری کا کہنا تھا موجودہ سیاست میں ان کا کوئی اسٹیک نہیں ہے اس لیے ان کی تنقید کوئی معنیٰ نہیں رکھتی۔
ترجمان جے یو آئی کا کہنا تھا کہ پارٹی پالیسی کے مطابق جہاں جہاں لوگ اپنے ملک کی آزادی کےلیے بیرونی قوتوں سے برسرپیکار ہیں چاہے وہ عراق، فلسطین، مقبوضہ کشمیر ہو یا پھر افغانستان ہم ان تحریکیوں کی حمایت کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ چند دن پہلے اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیرسوشل ویلفئر ہشام انعام اللہ کا کہنا تھا کہ طالبان میں دو قسم کے لوگ ہیں ایک گڈ طالبان اور دوسرے بیڈ طالبان اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “جومیرے دل میں ہوتا ہے میں تو وہی بولتا ہوں چاہے میری اپنی پارٹی کو ہی برا کیوں نہ لگے، افغانستان میں جو لڑائی جاری ہے یہ ہماری جنگ تھی چاہے انہوں روس کو شکست دی یا امریکا کو”۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ پاک آرمی کے بعد اگر کسی کو دعائیں دینی چاہئیں تو وہ افغان طالبان ہیں جو ہماری جنگ لڑرہے ہیں۔
تاہم پاکستانی حکومت کے باضابطہ موقف کے بارے میں وزیراعظم واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ ہم صرف افغانستان میں امن کے لیے کردار ادا کریں گے لیکن کسی ایک فریق کی حمایت نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی جنگ کا حصہ بنیں گے۔

متعلقہ خبریں