پاکستان میں سیلاب، ترقی یافتہ ممالک سے ’نقصان کی ادائیگی‘ کا مطالبہ

پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد عالمی سطح پر زیادہ آلودگی کا سبب بننے والے ممالک سے ایک بار پھر یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلوں وجہ سے ترقی پذیر ممالک کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کریں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس تصور کے لیے فی الحال رائج اصطلاح ’نقصان کی ادائیگی‘ ہے لیکن کچھ ماحولیاتی کارکن اس کی بجائے ’آب و ہوا کی تلافی‘ کی اصطلاح کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں
یہ بالکل ایسے ہی جیسے نسلی انصاف کے لیے سرگرم افراد ماضی میں غلام بنائے گئے افراد کی نسل کے افراد کو تلافی کے طور پر فنڈز ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
دوسری جانب ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے گروپس ان غریب ممالک کے قرضوں کی منسوخی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں جنہیں اپنے بجٹ کا بڑا حصہ بیرونی قرضوں کی مد میں خرچ کرنا پڑتا ہے۔
بیلجیئم میں مقیم پاکستانی ماحولیاتی کارکن میرا غنی نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس حوالے سے ’نہ صرف صنعتی انقلاب کی ایک تاریخی نظیر موجود ہے جس کی وجہ سے زہریلی گیسوں کے اخراج اور کاربن کی آلودگی میں اضافہ ہوا بلکہ استعماری ممالک کی جانب سے وسائل، دولت اور مزدوروں کے حصول کی بھی ایک تاریخ ہے۔‘
پاکستان کی سابق ماحولیاتی مذاکرات کار امیر غنی نے مزید کہا کہ ’موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق بحران آپس میں جڑے ہوئے جابرانہ نظاموں کی مظہر ہے اور یہ بھی استعمار ہی کی ایک شکل ہے۔‘
اس طرح کے خیالات کئی دہائیوں سے زیربحث ہیں لیکن پاکستان میں مون سون کی موسلا دھار بارشوں اور حالیہ موسم گرما کے تباہ کن سیلابوں کی وجہ سے یہ بحث ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہے۔
پاکستان میں حالیہ سیلاب میں لگ بھگ 1600 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ لاکھوں لوگ گھروں سے محروم ہو گئے ہیں۔
پاکستان کی معاشی مشکلات کی شکار حکومت کا تخمینہ ہے کہ اس سیلاب کی وجہ سے اندازاً 30 ارب ڈالر کے نقصانات ہوئے ہیں۔
ماحولیاتی کارکن نقصان کی تلافی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ یہ نکتہ بھی اٹھا رہے ہیں کہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے جبکہ جی20 ممالک فضا میں ان گیسوں کی 80 فیصد مقدار کے ذمہ دار ہیں۔

پاکستان میں حالیہ سیلاب میں لگ بھگ 1600 افراد ہلاک ہوئے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انڈیانا کی یونیورسٹی آف نوٹر ڈیم کی پروفیسر ماریہ حیات کا کہنا ہے کہ’ ہمارا موقف یہ ہے کہ اس وقت کرۂ ارض میں جو حالت ہے اس کا ذمہ دار گلوبل نارتھ ہے۔‘
’وہ ممالک جن کا ماحول کو نقصان پہنچانے والی گیسوں کے اخراج میں حصہ بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ہے۔ وہ ترقی یافتہ ممالک سے امداد کا مطالبہ کیوں کر رہے ہیں اور اکثر یہ امداد سخت شرائط والے قرضوں کی شکل میں ہوتی ہے۔‘

’پاکستانی قیادت کی غیرذمہ داری کو نظرانداز نہ کریں‘

کنگز کالج لندن میں جغرافیے کے پروفیسر دانش مصطفیٰ نے کہا کہ ’یہ بحث مخصوص بیان بازی اور پوائنٹ سکورنگ سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔‘
اگرچہ وہ گلوبل نارتھ ہی کو دنیا کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ ایسے بیانیے کے فروغ سے ہوشیار رہنا چاہیے جو (ماحولیاتی آفات کے حوالے سے) پاکستان کی قیادت کے اقدامات اور پالیسیوں کو نظر انداز کرنے کا سبب بن رہا ہو۔
پاکستان میں گرین ہاؤس گیسز کا اخراج گو کہ عالمی سطح پر کافی کم ہے لیکن یہ تیزی سے بڑھ رہا ہے (اور اس کے فوائد ایک چھوٹی سی اشرافیہ تک پہنچ رہے ہیں) دانش مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ’مغرب کا سہارا لینے‘ اور خود کو نقصان پہنچانے کے بجائے متبادل اور کم کاربن کا سبب بننے والا ترقی کا ماڈل اپنانا چاہیے۔
خیال رہے کہ فنانشل ٹائمز کی 23 ستمبر کی رپورٹ میں اقوام متحدہ کی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ حالیہ سیلاب سے معاشی بحران میں اضافے کے بعد پاکستان کو بین الاقوامی قرضوں کی ادائیگی معطل کرنی چاہیے۔