پاکستان میں فائزر ویکسین کون لگوا سکتا ہے کون نہیں؟

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) نے باضابطہ طور پر پاکستان میں فائزر ویکسین لگانے سے متعلق گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔
این سی او سی کی جانب سے جاری کردہ رہنما ہدایات کے مطابق فائزر ویکسین 18 سال اور زائد عمر کے افراد کو لگائی جاسکتی ہے جبکہ حاملہ خواتین اور بچوں کو دودھ پلانے والی ماؤں کو بھی ویکسین لگانے کی اجازت دی گئی ہے۔  
ویکسین سے متعلق ہدایات میں کہا گیا ہے کہ بخار میں مبتلا افراد، کورونا کے مریضوں اور شدید الرجی کا شکار افراد کو فائزر ویکسین نہ لگائی جائے۔
مزید پڑھیں
پاکستان میں فائزر ویکسین محدود مقدار میں ہونے کے باعث بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کے لیے مختص کی گئی ہے۔ حج اور عمرہ زائرین سمیت بیرون ملک ملازمت یا پڑھائی کے سلسلے میں جانے والے طلبہ کو اس ویکسین کے سلسلے میں ترجیح دی جائے گی۔
فائزر ویکسین کے حوالے سے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا تھا کہ فی الحال اس کی تعداد بہت کم ہے تاہم یہ ترجیحاً حجاج، بیرون ملک کام کرنے یا پڑھنے والوں کو لگائی جا رہی ہے۔ 
این سی او سی کی ہدایت کے مطابق  فائزر کورونا کے ہائی رسک بیمار مریضوں کو لگائی جائے جبکہ امراض جگر اور دائمی پیپاٹائٹس کے مریض بھی فائزر لگوا سکتے ہیں۔ 
فائزر ویکسین کی پہلی خوراک لینے کے بعد دوسری خوراک 21 روز کے بعد لگائی جائے گی۔

این سی او سی نے رہنما ہدایات میں ویکسین کی سٹوریج سے متعلق وضاحت بھی کی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
این سی او سی نے ویکسین کی سٹوریج سے متعلق ہدایات دیتے ہوئے کہا ہے کہ فائزر ویکسین کو روشنی سے بچایا جائے جبکہ منفی 60 سے منفی 80 ڈگری سینٹی گریڈ کے علاوہ ویکسین کو منفی 25 ڈگری سے منفی 15 ڈگری سینٹی گریڈ پر بھی دو ہفتوں کے لیے رکھا جا سکتا ہے۔  
اس کے علاوہ ویکسین کو 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے 8 ڈگری سنٹی گریڈ تک عام ریفریجریرٹر میں بھی ایک ماہ تک رکھا جاسکتا ہے۔
فائزر پاکستان میں منظور ہونے والی چھٹی ویکسین ہے۔ اس سے قبل ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے چین کی تیار کردہ سائینو فارم، سائینو ویک، کین سائینو بائیو، جبکہ ایسٹرازینیکا اور روس کی سپوتنک فائیو کے ایمرجنسی استعمال کی اجازت دی تھی۔