پاکستان میں ٹی وی چینلز کی بندش، نیا ٹیل کا پیمرا کی جانب سے دباؤ کا الزام

حکومت نے اے آر وائی اور بول کو بند کر دیا تھا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستان میں انٹرنیٹ، فون اور ٹی وی سروس فراہم کرنے والی کمپنی نیا ٹیل نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی پر الزام عائد کیا ہے کہ بول اور اے آر وائی سمیت کچھ ٹی وی چینلز کی نشریات زبانی احکامات پر بند کرنے کی غرض سے دباؤ ڈالا گیا اور پھر اسے شو کاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے ترجمان اور ڈی جی طاہر شیخ نے نیا ٹیل کے خط کے حوالے سے استفسار کیا کہ  کیا یہ خبر کے لیے ہے؟ جواب اثبات میں ملنے پر انہوں نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
پیمرا نے 12 ستمبر کو نیا ٹیل کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ نیا ٹیل اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں اینالاگ ٹی وی سگنل فراہم کر رہا ہے اور اسلام آباد شہر کے لیے جاری کیبل ٹی وی لائنسس کو دیہی علاقوں تک غیر قانونی طور پر خدمات مہیا کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں
تاہم نیا ٹیل نے شوکاز نوٹس کے جواب میں 20 ستمبر کو پیمرا کے الزامات کو ناصرف غلط اور امتیازی قرار دیا بلکہ اس عمل کو پیمرا کی جانب سے نیا ٹیل کو دھمکا کر ٹی وی چینلز کو زبانی احکامات پر بند کرنے کی کوشش قرار دیا۔
پیمرا کے ریجنل ڈائریکٹر اسلام آباد کے نام اپنے جواب میں نیا ٹیل نے متعدد مواقع گنوائے جن پر پیمرا کے افسران نے نیا ٹیل کمپنی کے افسران کو اے آر وائی اور بول ٹی وی کو فوری بند کرنے کا زبانی حکم دیا۔
اس کے علاوہ نیاٹیل نے الزام عائد کیا کہ پیمرا نے 10 ستمبر کو تقریباً نو بجے نیا ٹیل کے جنرل منیجر کو پیمرا کی جانب سے بول نیوز کی ٹرانسمیشن بلاک کرنے کے لیے واٹس ایپ پر کال کی۔ اس حکم کی تعمیل میں بول نیوز کی نشریات نو بج کر گیارہ منٹ پر بند کی گئیں اور چینل کی جگہ پر سلائیڈ لگائی جس پر لکھا تھا ’چینل پیمرا کے حکم پر بلاک ہے۔‘
اس کے بعد پیمرا کی جانب سے نو بج کر دس منٹ پر اے آر وائی کی نشریات بند کرنے کے لیے کال کی گئی جس کے تین منٹ بعد ایک اور کال آئی جس میں نیا ٹیل کے آفیسر کو کہا گیا کہ سلائیڈ پر ’چینل پیمرا کے حکم پر بلاک ہے‘ کے بجائے لکھیں ’چینل دستیاب نہیں ہے۔‘
کال کرنے والے پیمرا ڈی جی کو ہدایت کی گئی کہ وہ نیا ٹیل کے چیف آپریٹنگ آفیسر سے رابطہ کریں۔ اسی دوران اے آر وائی نیوز کو بھی نو بج کر 19 منٹ پر بلاک کیا گیا اور سکرین پر سلائیڈ پر لکھا گیا کہ ’چینل پیمرا کے حکم پر بلاک ہے۔‘

نیا ٹیل نے الزام عائد کیا کہ چینلز بند کرنے کے لیے زبانی احکامات دیے گئے۔ فوٹو: ٹوئٹر
اس کے بعد پیمرا کی جانب سے نیاٹیل کے سی او او کو کال کی گئی اور کہا گیا کہ سلائیڈ پر ’چینل پیمرا کے حکم پر بلاک ہے‘ کے بجائے ’چینل دستیاب نہیں ہے‘ لکھ دیں۔
پیمرا کو بتایا گیا کہ ایسا کرنا اس لیے ممکن نہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیوز چینلز کو اصل حالت پر بحال کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ احکامات ماننا نیا ٹیل پر لازم ہے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ نیا ٹیل چینل کو پیمرا کے احکامات کے بغیر خود سے بند نہیں کر سکتا اور بند کرنے پر اپنے صارفین کو وجہ بتانا بھی لازم ہے، نیاٹیل ایسا کر کے اپنے ان صارفین کے غصے کا نشانہ نہیں بن سکتا جو چینلز کے اچانک بند پونے پر پریشان ہوتے ہیں۔
صارفین کی کالز سے نیا ٹیل کی ہیلپ لائن پر کالز کا تانتا بندھ جاتا ہے اور باقی صارفین متاثر ہوتے ہیں۔ چند صارفین غصے میں  نیاٹیل کے خواتین سمیت دیگر عملے کو گالیاں دیتے ہیں جس سے ان کا مورال ڈاؤن ہوتا ہے۔‘
اس سے نیا ٹیل کے برانڈ کو سوشل میڈیا پر بھی تنقید کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔
اس کے علاوہ نیا ٹیل کو صارفین کو چینل بند کرنے کے پیٖغامات بھیجنے پر خطیر رقم خرچ کرنا پڑتی ہے اور نیا ٹیل ٹیم کا وقت ضائع ہوتا ہے۔

نیاٹیل کے مطابق عمران خان کی ٹیلی تھون دکھانے والے چینلز کو بند کرنے کا کہا۔ فوٹو: ٹوئٹر
نیا ٹیل نے جواب میں لکھا کہ تفصیلی وجوہات بتانے کے بعد پیمرا افسر نے مبینہ طور پر ان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔
اس کے علاوہ 11 ستمبر کو نیا ٹیل کو رات گیارہ بجے کے قریب پیمرا کی جانب سے کالz کی گئیں کہ تین چینلز جو سابق وزیراعظم عمران خان کی ٹیلی تھون دکھا رہے ہیں ان کو بلاک کر دیا جائے تاہم نیا ٹیل کی جانب سے سلائیڈ پر ’چینل پیمرا کے حکم پر بلاک ہے‘ لکھنے پر پیمرا نے بدلنے کا کہا تاہم نیا ٹیل نے غیر قانونی آرڈرز کو ماننے سے انکار کر دیا۔
نیاٹیل کے جواب میں واٹس ایپ پیغامات کے سکرین شاٹس کی کاپیاں بھی ساتھ  لگائی گئی ہیں۔
پیمرا کے مطابق ’اس طرح واضح ہوتا ہے کہ بظاہر یہ شوکاز نوٹس پیمرا کی جانب سے غیر قانونی اور دھمکانے پر مبنی طاقت کے استعمال کی کوشش ہے اور اسے فوری واپس لیا جانا چاہیے۔‘
نیا ٹیل نے جواب میں بتایا کہ اس کی کیبل ٹی وی سروسز اسلام آباد کے ان علاقوں میں دستیاب ہیں جو شہری ہیں یا پھر نئے ڈیولیپ ہونے والے مڈل کلاس کے ٹاؤن ایریاز ہیں۔ یہ علاقے گاؤں نہیں کہلائے جا سکتے۔