پاکستان میں کرونا ویکسینیشن سے خواجہ سرا محروم

شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی رجسٹریشن کا طریقہ کار ممکن

پاکستان میں کرونا ویکسینشن سے خواجہ سرا محروم ہیں اور شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی رجسٹریشن کا طریقہ کار ممکن نہیں ہے۔

سماء کے پروگرام نیا دن میں بات کرتے ہوئے خواجہ سرا کمیونٹی کی رہنما نایاب علی نے بتایا ہے کہ 2017 کی مردم شماری میں خواجہ سراؤں کی درست شماری نہیں کی گئی ہے۔ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق 10 ہزار 418 خواجہ سرا پاکستان میں موجود ہیں۔ نادرا کے پاس 6 ہزار خواجہ سرا رجسٹرڈ ہیں۔

نایاب علی نے بتایا کہ جب خواجہ سرا کے پاس شناختی کارڈ ہی نہیں ہوگا تو وہ کیسے کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے کے لیے خود کو رجسٹرڈ کروائے گا۔

نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق پاکستان میں 53 ہزار خواجہ سرا رجسٹرڈ ہیں۔ یہ اعدادوشمار حکومتی اعدادوشمار کہیں زیادہ ہے۔ خواجہ سرا کو علم ہی نہیں کہ کس طرح ویکسین لگوانی ہے اور کسی بھی خواجہ سرا کو ویکسین نہیں لگ سکی ہے۔ عالمی سطح پر خواجہ سراؤں کو کرونا ویکسین لگوانے کی ترجیحی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

امداد سے متعلق انھوں نے بتایا کہ ابھی خواجہ سراؤں کو سرکاری امداد بھی نہیں مل سکی ہے۔

متعلقہ خبریں