پاکستان میں کورونا ویکسین کا کمرشل استعمال دو ہفتوں میں شروع ہوگا

پاکستان کی نجی لیب نے کورونا ویکسین کی دستیابی کا اعلان کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ کمرشل استعمال کے لیے کورونا ویکسین کی پہلی کھیپ  ایک سے دو ہفتوں تک دستیاب ہوگی۔  
چغتائی لیب کے ڈائریکٹر عمر چغتائی نے ٹوئٹر پر بتایا کہ ’سپوتنک 5 ویکسین 91.6 فیصد موثر دکھائی دے رہی ہے۔ جس کے استعمال کی اجازت پہلی ہی مل چکی ہے۔‘  
انہوں نے کہا کہ ’رجسٹریشن اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اور محکمہ صحت کی اجازت کے بعد ویکسینیشن پروگرام کا آغاز کیا جائے گا۔‘  
اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر عمر چغتائی نے کہا کہ متعلقہ محکموں کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور کچھ دنوں بعد اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آ جائیں گی۔  
چین کی جانب سے سائنو فارم ویکسین فراہم کرنے کے بعد پاکستان میں 3 فروری سے کورونا ویکسین لگوانے کی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے جس میں ابتدائی طور پر ہیلتھ کیئر ورکرز کو ویکسین مفت لگوائی جا رہی ہے۔ 
مزید پڑھیں
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) نے چین کی سائنو فارم کے علاوہ استرازینیکا اور روس کی سپوتنک 5 کی ہنگامی بنیادوں پر استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ 
جبکہ چین کی تیار کردہ ویکسین کین سینو بائیو کے کامیاب کلینیکل ٹرائلز پاکستان میں ہونے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ جلد اس کی بھی باضابطہ منظوری دیدی جائے گی۔  
حکومت پاکستان نے نجی سطح پر بھی کورونا ویکسین درآمد کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔  
ڈریپ کے ایک اعلی عہدیدار نے اردو نیوز کو بتایا ہے کہ ’دو سے تین نجی لیبز نے کورونا ویکسین کی درآمد کے حوالے سے درخواست کر رکھی ہے جس کی منظوری کے بعد کورونا ویسکین نجی سطح پر دستیاب ہوگی۔‘  
انہوں نے کہا نجی سطح پر اسی ویکسین درآمد کی اجازت دی جائے گی جو کہ ڈریپ سے منظور شدہ ہیں۔  
ویکسین کی قیمت کیا ہوگی؟ 

چین کی ’کین سائنو‘ ویکسین کے  پاکستان میں چین کی ’کین سائنو‘ ویکسین کے کامیاب ٹرائل ہوئے: فوٹو اے ایف پی
پاکستان میں ادویات کی قیمتوں کا تعین ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے سپرد ہیں لیکن کورونا ویکسین کی قیمت کے تعین پر استثنیٰ دیا گیا ہے۔ 
ڈریپ کے عہدیدار کے مطابق ’نجی طور ویکسین درآمد کرنے کے حوالے سے رجسٹریشن درکار ہے تاہم قیمتوں کے تعین کے حوالے سے ڈریپ کا کسی بھی کمپنی کو کوئی اختیار موجود نہیں چونکہ وفاقی کابینہ اس حوالے سے استثنیٰ دینے کی منظوری دے چکی ہے اور نجی طور پر ویکسین درآمد کرنے والی کمپنیاں خود ہی قیمتیں مختص کریں گی۔‘  
خیال رہے کہ پاکستان کو چین کے علاوہ کوویکس کی جانب سے ملک کی 20 فیصد آبادی کے لیے کورونا ویکسین موصول ہونا ابھی باقی ہے۔
محکمہ صحت کی جانب سے امید کی جارہی ہے کہ کوویکس کی جانب سے کورونا ویکسین کی پہلی کھیپ رواں ماہ کے آخر میں موصول ہو جائے گی۔