پاکستان میں کورونا کی مہلک انڈین قسم کا کیس سامنے آگیا

پاکستان میں کورونا کی مہلک انڈین قسم کا ایک کیس سامنے آگیا ہے۔
پاکستان کے وفاقی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان میں کورونا کی انڈین اور جنوبی افریقی قسم کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔
وزارت صحت کے مطابق قومی ادارہ صحت کی جانب سے مئی کے پہلے ہفتے میں حاصل کیے گئے سیمپلز کی جینیوم سکوینسنگ میں کورونا کی انڈین اور جنوبی افریقین اقسام کے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں
وفاقی وزارت صحت کا کہنا ہے جنوبی افریقی  قسم کے سات اور انڈین قسم کے ایک کیس کی تصدیق ہوئی ہے۔
قبل ازیں پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے بھی کراچی میں کورونا وائرس کی جنوبی افریقی قسم کے تیزی سے پھیلنے کی تصدیق کی تھی۔
ڈاکٹر عذرا پیچوہو  نے کہا تھا کہ کراچی میں 57 افراد کے نمونوں پرسیرولوجیکل تحقیق کی گئی ہے جن میں سے کراچی میں 71 فیصد کیسز کورونا کی جنوبی افریقی قسم کے رپورٹ ہوئے اور 20 فیصد کیسز برطانوی قسم کے ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق کورونا کی انڈین قسم کا کیس سامنے آنے کے بعد پروٹوکول کے مطابق کنٹیکٹ ٹریسنگ کا عمل ڈی ایچ او اسلام آباد اور فیلڈ اپیڈیمولوجی اینڈ ڈیزیز سروائیلینس ڈویژن کی نگرانی میں جاری ہے۔

انڈیا میں کورونا کی نئی قسم B.1.617 گذشتہ برس اکتوبر میں سامنے آئی (فوٹو اے ایف پی)
سی این بی سی کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وائرس تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور اپنی نئی اقسام پیدا کرتے رہتے ہیں اور یہ تبدیلیاں عام طور پر کوئی اہمیت نہیں رکھتیں، بلکہ کئی نئی اقسام اسے کم خطرناک بنا دیتی ہیں۔
 تاہم ان میں سے کچھ ایسی اقسام بھی ہیں جو وائرس کو مزید مہلک اور وبائی بناتی ہیں، اور انڈیا میں کورونا کی نئی قسم B.1.617 بھی ایسی ہی ایک قسم ہے جو گذشتہ برس اکتوبر میں سامنے آئی۔
انڈیا میں کورونا وائرس سے اب تک دو کروڑ ساڑھے 75 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں، ایکٹیو کیسز کی تعداد ساڑھے 23 لاکھ سے زیادہ، جبکہ تین لاکھ 18 ہزار 895 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔