پاکستان چین سے قرضوں میں ریلیف طلب کرے: امریکی وزیر خارجہ

امریکی وزیر خارجہ نے فوڈ سکیورٹی کی مد میں پاکستان کے لیے ایک کروڑ ڈالر کی امداد کا بھی اعلان کیا۔ (فوٹو: اے پی)

امریکہ کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے قریبی شراکت دار چین سے قرضوں میں ریلیف طلب کرے کیونکہ سیلاب نے ملک میں تباہی مچائی ہوئی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کو واشنگٹن میں پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے بعد انٹونی بلنکن نے کہا کہ ’ہم ایک سادہ پیغام بھیجتے ہیں۔ ہم یہاں پاکستان کے لیے ہیں، جیسا کہ ہم ماضی کی قدرتی آفات کے دوران تھے۔‘
مزید پڑھیں
’میں نے اپنے ساتھیوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ چین کو قرضوں میں ریلیف اور تنظیم نو کے کچھ اہم معاملات میں شامل کریں تاکہ پاکستان سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال سے جلد نکل سکے۔‘
امریکی وزیر خارجہ نے فوڈ سکیورٹی کی مد میں پاکستان کے لیے ایک کروڑ ڈالر کی امداد کا بھی اعلان کیا۔
امریکہ نے انسانی امداد کی مد میں پاکستان کو پانچ کروڑ 60 لاکھ ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے اور امدادی سامان سے بھرے 17 طیارے بھیج دیے ہیں اور ساتھ ہی طویل المدتی بنیادوں پر مدد کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔
واضح رہے کہ چین پاکستان کا اہم معاشی اور سیاسی شراکت دار ہے جو پاکستان میں 54 ارب ڈالر کی ’اقتصادی راہداری‘ کی تعمیر کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس راہداری میں انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ بحر ہند تک چین کی رسائی بھی شامل ہے۔
تاہم پاکستان میں جاری چینی منصوبوں پر بلوچ علیحدگی پسند حملے کرتے رہتے ہیں۔
امریکہ جس کا پاکستان کے ساتھ سرد جنگ کا اتحاد ختم ہو چکا ہے، بارہا الزام لگاتا رہا ہے کہ چین اس سے فائدہ اٹھائے گا جبکہ پاکستان کو ناپائیدار قرضوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم امریکی انتباہات کو پاکستان نے کبھی زیادہ اہمیت نہیں دی۔
پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے 16 سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ایک تہائی تعداد بچوں کی ہے۔ 70 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ اس بات کے خطرات بڑھ چکے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ایسی سنگین تباہ کاریاں معمول بن سکتی ہیں۔
پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ صدر جو بائیڈن جنہوں نے گزشتہ مہینے تاریخی ملکی موسمیاتی پیکج پر دستخط کیے ہیں، کو ’موسمیاتی انصاف‘ پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔