پاکستان کا فائزر ویکسین کی 1 کروڑ 30 لاکھ خوراکیں خریدنے کا معاہدہ

پاکستان نے کورونا ویکسین فائزر کی ایک کروڑ 30 لاکھ خوراکیں خریدنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ 
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے منگل کو بتایا کہ ’امریکی کمپنی فائزر کی ویکسین حاصل کرنے کی حتمی تاریخ کے حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے تاہم رواں سال کے آخر تک ویکسین کی خوراکیں پاکستان پہنچ جائیں گی۔‘
پاکستان نے ویکسین تیار کرنے والی کمپنی فائزر کے ساتھ معاہدہ کرلیا ہے۔
مزید پڑھیں
پاکستان کو شروع میں ویکسین کی سپلائی میں کمی اور اس کے حوالے سے خدشات کا سامنا تھا تاہم گذشتہ ماہ وسیع پیمانے پر مہم کا آغاز کیا گیا جس کے تحت نوجوانوں کو بھی ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ ویکسین کی فراہمی کے لیے پاکستان کا زیادہ تر انحصار اپنے اتحادی ملک چین پر رہا ہے۔
پاکستان کو فائزر ویکسین کی ایک لاکھ خوراکیں 29 مئی کو موصول ہوئی تھیں، تاہم پاکستانی حکام نے فائزر ویکسین صرف ان افراد کو فراہم کی ہے جن کا مدافعتی نظام کمزور ہے یا دوسری کمپنیوں کی ویکسین ان کے لیے موزوں نہیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق 22 کروڑ کی آبادی والے ملک پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے، جن میں سے تقریباً 35 لاکھ کو مکمل طور پر ویکسین لگ چکی ہے۔

پاکستان میں رواں برس کم از کم سات کروڑ افراد کو کورونا ویکسین لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں بنیادی طور پر چینی ویکسین سائنو فارم، کین سائنو بائیو اور سائنو ویک استعمال ہو رہی ہے۔ رواں ماہ کے شروع سے 40 سال سے کم عمر کے افراد کو برطانوی ویکسین ایسٹرازینیکا بھی لگنا شروع ہو گئی ہے تاہم اس کی سپلائی محدود ہونے کے باعث بیرون ملک سفر کرنے والوں کو عموماً فراہم کی گئی ہے۔ 
حکومت کی کوشش ہے کہ رواں برس کم از کم سات کروڑ افراد کو کورونا ویکسین لگائی جائے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے رواں ماہ کے شروع میں حکومت نے ویکسین حاصل کرنے کی غرض سے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی منظوری دی تھی۔
پاکستان میں اب تک نو لاکھ 49 ہزار 838 افراد کورونا کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ 22 ہزار 34 کی موت واقع ہوئی ہے۔ پیر کے روز کورونا کے 662 نئے کیسز سامنے آئے تھے جبکہ 27 ہلاک ہوئے۔