پاکستان کی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کیسے کام کرے گی؟ 

پاکستان میں ایک بار پھر انتخابات کے طریقہ کار کے حوالے سے قومی سطح پر مباحثے کا آغاز ہو چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین متعارف کراتے ہوئے اپوزیشن اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اصلاحات کے حوالے سے حکومت کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت شروع کریں۔
گزشتہ ماہ ضمنی انتخابات میں سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں کے بعد 19 مئی کو حکومت کی جانب سے وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو انتخابی دھاندلی کے توڑ اور نئے طریقہ کار کے تحت انتخابات کے لیے پیش کیا تھا۔
اپوزیشن جماعتوں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا بھر میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین ناکام ہو چکی ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
مزید پڑھیں
تاہم حکومت نے کامسیٹس یونیورسٹی کی تیار کردہ ووٹنگ مشین سیاستدانوں اور میڈیا کے معائنے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں نمائش کے لیے رکھی ہے۔
مشین کے ذریعے چند سیکنڈز میں ووٹ کاسٹ 
اس مشین کے چار حصے ہیں جو نسبتاً سائز میں بڑے ہیں لیکن کامسیٹس حکام کے مطابق اس کو مزید جازب نظر بنایا جا سکتا ہے اور اس کا سائز چھوٹا کیا جا سکتا ہے۔ 
کامسیٹس یونیورسٹی کی ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ لیبارٹری کے مینجر راجہ شہباز علی نے اردو نیوز کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے کام کرنے کے طریقہ کار، اس کے فوائد اور آئندہ انتخابات میں اس کی ممکنہ دستیابی کے بارے میں آگاہ کیا۔
پہلا حصہ ایک بڑے ٹیلی فون سیٹ کی طرح ہے جس پر کی پیڈ، چھوٹی سکرین، شناختی کارڈ ڈالنے کی جگہ اور انگوٹھا سکین کرنے کا سینسر لگا ہوا ہے۔ اس حصے میں ایک چپ کے ذریعے کسی بھی حلقے کے 50 ہزار ووٹرز کا ڈیٹا چند سیکنڈز میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کی کامسیٹس یونیورسٹی نے ووٹنگ مشین تیار کی ہے۔ فوٹو پی آئی ڈی
پولنگ سے پہلے متعلقہ پریزائیڈنگ آفیسر ٹیکنیکل ٹیم کی طرف سے فراہم کیے گئے خفیہ کوڈ اور پاسورڈ کے ذریعے مشین کو آپریشنل کرے گا۔ ووٹ ڈالنے کے لیے آنے والا ووٹر اپنا شناختی کارڈ پولنگ عملے کو دے گا جو کارڈ کو مشین میں ڈالے گا۔ شناختی کارڈ کی تصدیق ہونے کی صورت میں سکرین پر ٹک کا نشان سامنے آ جائے گا۔ جس کے بعد سینسر کے ذریعے بائیو میٹرک ویری فیکیشن ہوگی۔ اس حصہ کو ووٹر’شناختی یونٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔
دوسرے مرحلے میں ووٹر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے تیسرے حصے پر چلا جائے گا جبکہ دوسرا حصہ پریزائیڈنگ آفیسر کے پاس ہو گا جس پر سرخ اور سبز رنگ کی بتیاں لگی ہوں گی، اور جونہی پریزائیڈنگ آفیسر بٹن دبا کر ووٹ ڈالنے کی اجازت دے گا تو سبز رنگ کی لائٹ جل جائے گی جس سے پولنگ ایجنٹس کو پتہ چل سکے گا کہ اب ووٹ ڈالا جا رہا ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے اس حصے کو ’کنٹرول یونٹ ‘ کہا جاتا ہے۔
تیسرا حصہ بیلیٹ یونٹ کہلاتا ہے جس میں متعلقہ حلقے کے امیدواروں کے انتخابی نشان حروف تہجی کی ترتیب سے درج ہوں گے۔ 
پریزائیڈنگ آفیسر کی جانب سے کنٹرول یونٹ سے ووٹ ڈالنے کی اجازت ملنے کے بعد ووٹر خفیہ جگہ پر رکھے بیلٹ یونٹ پر اپنی پسند کے انتخابی نشان کو دبائے گا۔ جس کے بعد اس کے ساتھ رکھے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے چوتھے اور آخری حصے یعنی ’بیلٹ باکس‘ میں ووٹر کی پسند کے امیدوار کی پرچی پرنٹ ہوکر گر جائے گی۔ پرچی بیلیٹ باکس میں گرنے سے پہلے تین یا پانچ سیکنڈز کے لیے رکے گی تاکہ ووٹر دیکھ سکے کہ اس نے جس امیدوار کو ووٹ ڈالا ہے پرچی بھی اسی کے نام کی پرنٹ ہوئی ہے یا نہیں۔

ووٹنگ مشین سیاستدانوں اور میڈیا کے معائنے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں رکھی گئی ہے۔ فوٹو اردو نیوز
جونہی پولنگ کا وقت ختم ہوگا پریزائیڈنگ آفیسر ایک کمانڈ کے ذریعے چند منٹوں میں متعلقہ پولنگ بوتھ کا فارم 45 کا پرنٹ نکال سکے گا۔
اس سارے عمل میں تصدیقی عمل میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے کیونکہ بعض اوقات نشان انگوٹھا کی تصدیق میں مسائل کا سامنا آتا ہے۔ 
تصدیقی عمل کے بعد دس سے پندرہ سیکنڈز کا کام ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن نے عالمی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین بنانے والوں کو ہدایت کی تھی کہ ایک منٹ میں دو ووٹ اور زیادہ سے زیادہ تین ووٹ ہی کاسٹ کیے جانے چاہئیں۔
مشین کے اخراجات کا تخمینہ کیا ہے؟
راجہ شہباز علی کے مطابق ’پاکستان کی موجودہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے بیک وقت انتخاب کے لیے 30 لاکھ الیکٹرونک ووٹنگ مشینیں درکار ہوں گی۔ جب 30 لاکھ کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے چاروں یونٹ تیس تیس لاکھ کی تعداد میں تیار کرنا ہوں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس کے لیے الیکشن کمیشن نے دنیا بھر سے مختلف کمپنیوں کو مدعو کیا تھا۔ اس وقت سپین اور امریکی کمپنیوں نے اس مشین کی قیمت تین ہزار ڈالر بتائی تھی۔ یعنی پورے پاکستان کے انتخابی عمل کے لیے صرف الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں کی خریداری کے لیے 30 لاکھ کو تین ہزار ڈالر سے ضرب دینا پڑے گا۔‘

کسی بھی حلقے کے 50 ہزار ووٹرز کا ڈیٹا چند سیکنڈز میں منتقل کیا جا سکے گا۔ فوٹو اردو نیوز
 تاہم الیکٹرانک ووٹنگ کی حتمی تعداد کے بارے میں ابھی تک الیکشن کمیشن کی جانب سے کچھ نہیں بتایا گیا اس لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے انتخابی اخراجات کا تخمینہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے۔
اب سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ دو سال کی مدت میں پاکستان میں اتنی بڑی تعداد میں مشینوں کی تیاری یا کسی غیر ملکی ادارے سے خریداری ممکن ہے؟ 
اس حوالے سے کامسیٹس کا کہنا ہے کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ این آئی ای کے پاس اتنا بڑا انفراسٹرکچر ہے کہ وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی پروڈکشن، کوالٹی کی یقین دہانی اور کوالٹی ٹیسٹ بھی دے گا۔ کامسیٹس مشین کو ڈیزائن کرکے لیب میں ٹیسٹ کرکے ماس پروڈکشن کے لیے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرونکس کو بھیجے گا۔
الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر تحفظات کا جواب؟
اپوزیشن اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی جانب سے ممکنہ تحفظات کے حوالے سے راجہ شہباز علی نے بتایا کہ ’جن جن ممالک میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر کام ہوا ہے ہم نے ان کے تجربات، وہاں پیدا ہونے والے مسائل، سامنے آنے والے اعتراضات اور اس سے جڑے دیگر تمام معاملات پر ریسرچ کی ہے۔ ان کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے کام کو آگے بڑھایا ہے۔ بہت زیادہ وقت لگانے کے بعد ہی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا یہ ماڈل تیار کیا گیا ہے۔‘
’ہمیں معلوم ہے کہ ایک امیدوار یہ کہہ سکتا ہے کہ میرے اس پولنگ بوتھ پر دو سو ووٹ تھے جبکہ گنتی میں 150 آئے ہیں، تو ہم بیلٹ پیپر میں موجود پرنٹڈ پرچی اور مشین میں موجود گنتی کو ٹیلی کر سکتے ہیں۔‘

انتخابی دھاندلی سے نمٹنے کے لیے ای ووٹنگ مشین متعارف کی گئی ہے۔ فوٹو اے ایف پی
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ’یہ مشین انٹرنیٹ کے ساتھ منسلک نہیں ہوگی اس لیے اس کے ہیک ہونے یا بیٹھنے کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی جگہ پر لڑائی جھگڑا ہو جائے اور کوئی اس میں سیاہی ڈال دے یا توڑ دے وہ الگ صورت حال ہے۔‘
تاہم الیکن کمیشن کے اس سوال کا جواب ابھی تک تلاش کرنا باقی ہے کہ اگر کسی جگہ پر الیکٹرانک ووٹنگ مشین نہ چل سکی تو وہاں پولنگ کا متبادل کیا ہوگا؟