پاکستان کےپہلے کرونا مریض کا سامنا کرنیوالی ڈاکٹر کے تاثرات

جانیے پہلے مریض کی بھی روداد

سن 2019 کے اواخر میں پھیلنے والی کرونا کی وبا نے دنيا بدل کر رکھ دی۔ لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے، ان گنت زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں اورلوگ اب اس وبا سے محفوظ رہنے کے لیے ویکسین لگوارہے ہیں لیکن ڈاکٹر عائشہ ابراہیم کی نگاہوں میں آج بھی وہ لمحہ تازہ ہے جب انہوں نے پاکستان کے پہلے کرونا مریض کاسامنا کیا تھا۔

چھبیس فروری 2020 کو جب ایک دوست ملک کے سفر سے واپس آنے والے نوجوان میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تو کراچی کے ایک اسپتال میں خوف کے مارے کوئی ڈاکٹرقریب آنے پر تیار نہیں تھا۔لیکن ایسے میں ڈاکٹر عائشہ تھیں جو پاکستان میں سامنے آئے پہلے مريض کے پاس گئیں اور اس سے کیس ہسٹری لی جس کے بعد ان کے اس مہلک مرض کا علاج شروع ہوا۔ڈاکٹڑ عائشہ کا کہنا ہے کہ انہیں فون آیا اور وہ وہاں چلی گئیں۔ انہیں معلوم تھا کہ یہ کرونا کا ایک ممکنہ کیس ہے۔ انہوں نے ہر طرح کے احتیاطی انتظامات کیے اور کمرے میں جاکر مریض سے مرض کی پوری تفصیل معلوم کی۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے مریض سے پوری ہسٹری پوچھنے کے بعد ایک رپورٹ تیار کر کے اعلیٰ افسران کو بھیج دی جس کے بعد یہ تشخیص بھی ہوگئی کہ یہ کوویڈ 19 کا کیس ہے۔ڈاکٹر عائشہ آج بھی لوگوں کو جان لیوا وائرس سے بچانے کے لیے پی آئی بی ویکسی نیشن سینٹر میں مصروف عمل ہیں تاہم انہیں اس مرکز کی راہداریوں میں پھرتا دیکھنے والوں کو یہ علم نہیں ہوتا کہ ملک میں کرونا کے پہلے مریض کا سامنا کرنے والی اولین معالج بھی وہی ہیں۔پاکستان میں کرونا کے سب سے پہلے تصدیق شدہ مریض یحییٰ جعفری اس وقت کو یاد کرتے ہوئے تسلیم کرتے ہیں کہ اس وقت مرض کے بارے میں معلومات کم ہونے کی وجہ سے خوف بہت زیادہ تھا مگر ڈاکٹر عائشہ نے ان کی ہمت بندھا کر انہیں مایوسی سے نکالا۔انہوں نے کہا کہ اسی وقت ڈاکٹرز نے مجھے بتا دیا تھا کہ 70 فی صد آبادی کو یہ مرض لاحق ہوگا اور ایسی کوئی گھبرانے کی بات نہیں کیوں کہ انسانی جسم کا مدافعتی نظام خود اس بیماری پر قابو پالے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان باتوں سے ان کی پریشانی کچھ کم ہوئی کیوں کہ ایسے وقت میں مریض کے لیے ول پاور ہی سب سے بڑی چیز ہوتی ہے۔ابتدا میں کرونا کا خوف اس قدر تھا کہ ڈاکٹر عائشہ کو اپنے گھر والوں سے بھی یہ بات چھپانی پڑی کہ انہوں نے اس مرض میں مبتلا کسی مریض کا معائنہ کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کرونا کے پہلے مریض کا جائزہ لینے کے بعد شام کو جب وہ گھر پہنچیں تو ان کی والدہ نے کہا کہ سنا ہے کہ پاکستان میں بھی کرونا کا ایک مریض دریافت ہو گیا ہے جس پر انہوں نے سرسری انداز میں جواب دیا کہ جی امی میں نے بھی سنا تو ہے۔ڈاکٹر عائشہ نے کہا کہ اس کے بعد میرا نام ٹی وی پر دکھایا جانے لگا کہ میں نے ہی پہلے مریض کا چیک اپ کیا تو یہ سن کر تو میری امی رونے لگیں کہ یہ کیا ہوگیا لیکن بہر حال میں نے خود کو قرنطینہ کر لیا اور احتیاط کے تمام تقاضے پورے کیے۔کرونا کا خوف پہلے جیسا نہیں رہا، ویکیسن بھی آگئی ہے اور نئی لہر بھی بتدریج کم ہورہی ہے لیکن ڈاکٹر عائشہ کا کہنا یہ ہے کہ احتیاط کا دامن تھام کر ہی رکھنا ہوگا۔کرونا وبا پہلے کے مقابلےمیں قدرے کنٹرول میں ہے تو اس میں اللہ تعالیٰ کے خصوصی کرم کے بعد ڈاکٹر عائشہ اور ان جیسے ہمارے صف اول کے دیگر محافظوں کی کوششوں کا بڑا دخل ہے۔ ہمارا بھی فرض ہے کہ احتیاط جاری رکھیں اور ملک کے ایسے معالجین کی قدر کرتے ہوئے ان کی ہدایات پر عمل بھی کریں تاکہ اس آزمائیش سے نکلا جاسکے۔

متعلقہ خبریں