پاکستان کے سرکاری توشہ خانہ سے کس نے کیا اور کیسے خریدا؟

اس وقت پاکستان کے دو وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف سرکاری توشہ خانہ کی گاڑیوں کو کم قیمت پر خریدنے یا دیگر بے ضابطگیوں کی وجہ سے نیب کیسز کا سامنا کر رہے ہیں۔
مختلف ممالک کے بادشاہوں اور وزیروں کے درمیان تحائف کے تبادلے کی روایت صدیوں پرانی ہے جو آج بھی کسی نہ کسی شکل میں سفارتی روایات کے طور پر زندہ ہے۔
پاکستان میں صدر، وزیراعظم اور اعلی حکومتی حکام کو غیر ملکی معززین سے ملنے والے تحائف کو سرکاری ’توشہ خانہ‘ میں رکھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں
  • پاکستان میں توشہ خانہ تحائف کی نیلامی

    Node ID: 513971

  • سول اور فوجی افسران کو ملنے والے غیر ملکی تحائف کی تفصیلات طلب

    Node ID: 527186

  • توشہ خانہ ریفرنس، نواز شریف کی جائیداد نیلام کرنے کا حکم

    Node ID: 560011

توشہ خانہ‘ فارسی زبان کا لفظ ہے. ریختہ ڈکشنری کے مطابق اس کے معنی ہیں ’وہ مکان جہاں امیروں کے لباس، پوشاک اور زیورات وغیرہ جمع رہتے ہیں‘۔
پاکستان میں صدر مملکت، وزیراعظم، وزرا، چیئرمین سینٹ، سپیکر قومی اسمبلی، صوبائی وزرائے اعلی، ججز، سرکاری افسران اور حتی کہ سرکاری وفد کے ہمراہ جانے والے عام افراد کو بیرون ملک دورے کے دوران ملنے والے تحائف توشہ خانہ کے ضابطہ کار 2018 کے تحت کابینہ ڈویژن کے نوٹس میں لانا اور یہاں جمع کروانا ضروری ہیں۔ جس کے بعد یا تو انہیں نصف قیمت پر خریدا جا سکتا ہے یا پھر انہیں سرکاری طور پر نیلام کر دیا جاتا ہے۔

 توشہ خانے کے تحائف کا کیا استعمال ہوتا ہے؟

 سرکاری طور پر ملنے والے تمام تحائف توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے ہیں۔ تاہم جمع کروانے کے بعد 30 ہزار روپے تک مالیت کے تحائف صدر، وزیراعظم یا جس بھی شخص کو تحفتاً ملا ہو وہ مفت حاصل کر سکتا ہے۔
تاہم 30 ہزار سے زائد مالیت کے تحائف کے لیے ان شخصیات کو اس کی قیمت کے تخمینے کا نصف ادا کرنا لازم ہوتا ہے جس کے بعد وہ اس کی ملکیت میں آ جاتا ہے۔
قیمت کا تخمینہ ایف بی آر اور پرائیویٹ ماہرین لگاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سیکرٹری ایوان صدر نے ماربل ڈیکوریشن پیس دو ہزار روپے میں خریدا۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
 تاہم دسمبر 2018 کے ضابطہ کار کے تحت تحفے میں ملنے والی گاڑیاں اور نوادرات خریدے نہیں جا سکتے، بلکہ گاڑیاں سرکاری استعمال میں آجاتی ہیں اور نوادرات صدر، وزیراعظم ہاؤس، میوزیم یا سرکاری عمارتوں میں نمائش کے لیے رکھے جاتے ہیں۔
 تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ سال اکتوبر میں توشہ خانہ کے دو سو کے قریب تحائف کی نیلامی کا اعلان کیا تھا۔ اس حوالے سے کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق ان اشیا کی نیلامی میں صرف سرکاری ملازمین اور فوج کے ملازمین حصہ لے سکتے ہیں۔
 لیکن اس نوٹیفیکیشن کو لاہور ہائی کورٹ میں چلینج کر دیا گیا تھا جس کے بعد  لاہور ہائی کورٹ نے اس سال 25 مئی کو  توشہ خانے کے سرکاری تحائف کی خفیہ نیلامی کی پالیسی کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ 
 لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاسم خان نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ حکومت اس پر قانون سازی کرے۔ فیصلے کے مطابق درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ توشہ خانے کی چیزیں پبلک پراپرٹی ہیں۔
 چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا تھا کہ ’ان چیزوں کا عجائب گھر بنا دیں، عوام کو بولی میں شامل نہ کرنا دھتکارنے کے مترادف ہے۔‘ 

پاکستان میں صدر، وزیراعظم اور اعلی حکومتی حکام کو غیر ملکی معززین سے ملنے والے تحائف کو سرکاری ’توشہ خانہ‘ میں رکھا جاتا ہے (فوٹو ٹوئٹر)
 کابینہ ڈویژن کے ایک اعلی افسر کے مطابق اس وقت کابینہ ڈویژن ان تحائف کے حوالے سے نئی پالیسی تشکیل دے رہی ہے تاہم یہ بھی امکان ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا جائے۔

 توشہ خانہ میں کون کون سے تحائف موجود ہیں؟

سرکاری حکام کے مطابق جو تحائف صدر، وزیراعظم یا حکام نہیں خریدتے ان کو ایک مقررہ مدت کے بعد نیلامی میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی تفصیل کے مطابق اس وقت توشہ خانہ میں 1200 روپے کے پیالوں سے لے کر ڈیڑھ کروڑ روپے تک کی گھڑیوں سمیت متعدد اشیا موجود ہیں جن میں کلاشنکوف، پینٹنگز، گھڑیاں، پین اور سٹیشنری کی اشیا شامل ہیں۔
 لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران 18-2017 کی رپورٹ جمع کروائی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق 90 بیوروکریٹس نے دو کروڑ سات لاکھ کے تحائف توشہ خانہ سے خریدے۔
 وزارت داخلہ کے سیکشن افسر شہزاد انجم نے نوے لاکھ مالیت کے زیورات خریدے۔ پی اے سی کامرہ کے پروگرام منیجر جاوید اقبال نے 27 لاکھ کی بلغاری گھڑی خریدی۔ ایوان صدر کے پروٹوکول افسر محمد سعید نے متعدد اشیا خریدیں۔
 کابینہ ڈویژن کے نجیب اللہ نے 600 روپے میں مجسمہ خریدا اور غلام محمد نے صرف 3500 میں کارپٹ خریدا۔
 سیکرٹری ایوان صدر نے ماربل ڈیکوریشن پیس دو ہزار روپے میں خریدا جبکہ اسسٹنٹ سیکرٹری پروٹوکول ایوان صدر نے تین ہزار روپے میں نایاب فلائی کاٹ ان امبر کا گفٹ خریدا۔ 20 ہزار 560 روپے میں دیوار پر سجاوٹ کی تصویر خریدی گئی۔

ایس او کیبنٹ ڈویژن نجیب اللہ نے 600 روپے میں دوستی کی علامت کا مجسمہ خریدا۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
 اس کے علاوہ دو ہزار 400 روپے میں ایک لیمپ اور 45 ہزار 500 روپے میں قیمتی تحائف کا باکس خریدا گیا۔ باکس میں امپورٹڈ پرفیوم سیٹ، لوبان دان سگریٹ لائیٹر اور نایاب خوشبویات شامل تھیں۔
 سعید خان نے نو ہزار 500 روپے میں دو ڈیکوریشن پیس اور تین ہزار 250 روپے میں ایک خنجرخریدا جبکہ محمد بلال ظفر نے تین ہزار روپے میں ٹیبل کلاتھ خریدا۔
 اسسٹنٹ کیبنٹ ڈویژن رضوان احمد نے چار ہزارروپے میں خنجرخریدا۔ سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ شعیب احمد صدیقی نے بیلا کٹورا دو ہزار روپے میں خریدا۔ سیکرٹری شماریات ڈویژن رخسانہ یاسمین نے دو کارپٹ 22 ہزار اور 25 ہزار روپے میں خریدے۔
ایس او کیبنٹ ڈویژن نجیب اللہ نے 600 روپے میں دوستی کی علامت کا مجسمہ خریدا۔

 سابق وزرائے اعظم کے خلاف توشہ خانہ کیس

 اس وقت احستاب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس زیرسماعت ہے۔ اس کیس میں گزشتہ سال مئی میں  احتساب عدالت نے پیش نہ ہونے پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے جبکہ سابق صدر آصف زراری اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو کئی بار طلب کیا گیا ہے۔

نیب کا مؤقف تھا کہ آصف زرداری نے تین گاڑیاں توشہ خانہ میں جمع کرانے کے بجائے خود استعمال کیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
  توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کے دوران عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو پاکستان کے سرکاری توشہ خانہ  سے گاڑیاں لینے جبکہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو گاڑیاں دینے کے الزام میں طلب کیا تھا۔
 نیب نے عدالت کو بتایا ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف نے اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے غیر قانونی طور پر گاڑیاں حاصل کیں۔
 یہ گاڑیاں غیر ملکی سربراہان مملکت یا رہنماوں کی طرف سے پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف زرداری کو تحفے میں دی گئی تھیں مگر قانون کے تحت یہ گاڑیاں پاکستان کے سرکاری توشہ خانہ یا گفٹ سنٹر میں جمع کروانی ہوتی ہیں۔
 نیب کے مطابق سنہ 2008 میں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے قواعد میں نرمی کرتے ہوئے صرف پندرہ فیصد رقم کی ادائیگی کرکے یہ گاڑیاں آصف زرداری اور نواز شریف کو دینے کی منظوری دی۔
 نیب کا الزام ہے کہ آصف علی زرداری نے گاڑیوں کی کل مالیت کی صرف 15 فیصد ادائیگی ’جعلی اکاؤنٹس‘ کے ذریعے کی۔ آصف زرداری کو بطور صدر لیبیا اور یو اے ای سے بھی گاڑیاں تحفے میں ملی تھیں۔

نواز شریف کو 2008 میں بغیر کوئی درخواست دیے توشہ خانے سے گاڑی دی گئی (فوٹو: اے ایف پی)
 نیب ذرائع کے مطابق ان نئے ماڈلز کی تین گاڑیوں کی اصل قیمت چھ کروڑ تھی۔ تاہم ابتدائی طور پر صرف نوے لاکھ کی ادئیگی کی گئی جبکہ ایکسائز آفس کے اعتراض پر مزید رقم جمع کروائی گئی اور یوں تینوں گاڑیاں دو کروڑ کی ادائیگی پر آصف زرداری کے نام کر دی گئیں۔
نیب کا مؤقف تھا کہ آصف زرداری نے تین گاڑیاں توشہ خانہ میں جمع کرانے کے بجائے خود استعمال کیں۔
سابق وزیراعظم کے متعلق نیب نے بتایا کہ نواز شریف 2008  میں کسی بھی عہدے پر نہیں تھے۔ نواز شریف کو 2008 میں بغیر کوئی درخواست دیے توشہ خانے سے گاڑی دی گئی اور ان گاڑیوں کی ادائیگی عبدالغنی مجید نے جعلی اکاؤنٹس سے کی۔
کوٹ لکھپت جیل میں نیب کی ابتدائی پوچھ گچھ میں نواز شریف کا موقف تھا  کہ انہیں 1992 ماڈل گاڑی ان کے دوسرے دور حکومت میں ایک دوست ملک سے تحفے میں دی گئی تھی جو کہ سال 1997 میں قومی توشہ خانہ میں جمع کروا دی گئی تھی۔ بعد میں یہ گاڑی 2008 میں انہیں بغیر درخواست دیے تحفے میں دی گئی ۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم تھا کہ گاڑی غیر قانونی طریقے سے خریدی گئی۔
 ذرائع کے مطابق نواز شریف کو ملنے والی مرسیڈیز گاڑی کی اصل قیمت 42 لاکھ تھی جس کا 15 فیصد یعنی چھ لاکھ ادا کرکے گاڑی انہیں پیپلز پارٹی حکومت کی طرف سے تحفے میں دی گئی۔
 ریفرنس میں ملزم سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے انہوں نے توشہ خانہ کی گاڑیاں  نواز شریف اور آصف زرداری کو قوائد و ضوابط کے مطابق دیں۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ مذکورہ گاڑیاں سیکرٹری کیبنٹ کی سفارش پر دی تھیں اور ایسا قانون کے مطابق  سمری آنے پر کیا گیا تھا۔