پاکستان کے سیاحتی مقامات کے لیے فضائی سروسز کامیاب ہو سکیں گی؟

حکومت پاکستان نے نئی سول ایوی ایشن پالیسی کے تحت سیاحت کو فروغ دینے کے لیے چھوٹی ایئر لائنز کمپنیوں کو لائسنسز جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سنہ 2019 میں جاری کی گئی نئی ایوی ایشن پالیسی میں ٹورازم پروموشن اینڈ ریجنل اینٹیگریشن لائسنس کا مقصد چھوٹے جہاز رکھنے والی فضائی کمپنیوں کا سیاحت کے فروغ کے لیے سیاحتی مقامات کے روٹس کے درمیان آپریشنز شروع کرانا تھا۔
اس کیٹیگری میں سول ایوی ایشن نے گذشتہ دو برسوں میں تین نئی فضائی کمپنیوں کو لائسنسز جاری کیے جبکہ دو کمپنیوں کے لائسنسز سکیورٹی کلیرئنس سے مشروط ہیں۔ 
مزید پڑھیں
سیاحتی شعبے میں اب تک کون سی فضائی کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے گئے ہیں؟
پاکستان میں ٹورازم پروموشن کیٹیگری کا پہلا لائسنس ایئر کرافٹ سیلز اینڈ سروسز نامی کمپنی نے حاصل کیا تھا۔ اس کمپنی نے کراچی تا گوادر اور کراچی تا موئن جو دڑو کے لیے شیڈول پروازوں کا آغاز کیا تھا لیکن کچھ عرصے بعد ہی شیڈول پروازیں بند کر دی گئیں۔ فضائی کمپنی کے پاس 19 سیٹرز اور 8 سیٹرز کے چھوٹے جہاز فضائی بیڑے میں شامل تھے۔
سول ایوی ایشن حکام کے مطابق مسافروں کی کمی کے باعث کمپنی نے شیڈول پروازیں بند کر دی ہیں تاہم کراچی سے گوادر تک چارٹرڈ پروازیں چلائی جاتی ہیں۔ 
نارتھ ایئر 
سیاحت کو فروغ دینے کے شعبے میں نارتھ ایئر نامی نجی فضائی کمپنی کو گذشتہ برس لائسنس جاری کیا جا چکا ہے۔ یہ کمپنی اسلام آباد سے مختلف سیاحتی مقامات کے لیے پروازیں چلائے گی جس میں چترال، سکردو، گلگت اور گوادر کے لیے پروازیں شامل ہیں۔
سول ایوی ایشن حکام کے مطابق فضائی کمپنی نے تاحال اپنی سروس کا آغاز نہیں کیا اور مختلف کمپنیوں کے ساتھ جہازوں کی لیز کو فائنل کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ لائسنس جاری ہونے کے دو برسوں کے اندر فضائی کمپنی اپنی سروس کا آغاز کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ 

پی آئی اے بھی شمالی علاقہ جات کے سیاحتی مقامات کے لیے اسلام آباد اور لاہور سے پروازیں چلاتی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
الویر ایئر ویز
الویر ایئرویز کو بھی گذشتہ برس لائسنس جاری کر دیا گیا تھا لیکن تاحال کمپنی نے اپنی فضائی سروسز کا آغاز نہیں کیا۔ کمپنی اسلام آباد اور کراچی سے گوادر کے لیے اپنی سروسز شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ 
کشمیر ایئر اور ایئر پاکستان
 کشمیر ایئر سیاحت کو فروغ دینے کے لیے پہلی ہیلی کاپٹر سروس ہے۔ کشمیر ایئر اور ایئر پاکستان نامی نجی کمپنیوں نے سول ایوی ایشن سے لائسنس کی درخواست کر رکھی ہے جس کی اصولی منظوری دے دی گئی ہے جبکہ سکیورٹی کلیئرنس کے بعد ایئرلائن کو باضابطہ طور پر لائسنس جاری کردیا جائے گا۔ 
کشمیر ایئر ہیلی کاپٹر سروس کے ذریعے سیاحوں کو اسلام آباد سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور شمالی علاقہ جات کے سیاحتی مقامات تک سروس فراہم کرے گی۔
ان نجی ایئر لائنز کے علاوہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز بھی شمالی علاقہ جات کے سیاحتی مقامات کے لیے اسلام آباد اور لاہور سے پروازیں چلاتی ہے۔

پاکستان میں غیر ملکی سیاحوں کی تعداد کم ہونے کے باعث نجی ایئر لائن نے اپنی سروس بند کردی (فائل فوٹو: پی ٹی ڈی سی)
سیاحتی مقامات کے لیے ایئر سروسز کا آغاز کامیاب ہوگا؟ 
شمالی علاقہ جات میں سیاحتی ٹور آپریٹر کے طور پر کام کرنے والے دانیال قریشی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جتنے بھی سیاحتی مقامات ہیں وہاں سرکاری ریسٹ ہاؤسز یا پی ٹی ڈی سی کے گیسٹ ہاؤسز سیاحوں کے لیے بہت بڑی سہولت تھے لیکن یہ ادارے اب مکمل طور پر غیر فعال کر دیے گئے ہیں۔ سیاحوں کو بنیادی سہولیات ہی نہیں دی جارہیں تو ایئر سروسز کے آغاز کرنے سے سیاحت کو فروغ کیسے ملے گا؟ 
انہوں نے کہا کہ ’پی آئی اے نے ایئر سفاری سروس کا آغاز کیا لیکن سیزن میں یک طرفہ کرایہ 40 سے 50 ہزار روپے تک بڑھا دیا جاتا ہے، لمیٹیڈ فلائٹس اور خستہ حال طیاروں پر سیاح اتنی مہنگی سروسز کیوں استعمال کریں گے؟‘ 
انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سیاحوں کی دلچسپی کسی حد تک ایئر سروسز میں ضرور ہوتی ہے تاکہ وہ باآسانی سیاحتی مقامات پر پہنچ سکیں لیکن پاکستان میں غیر ملکی سیاحوں کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک نجی کمپنی جے ایئر سروسز نے آغاز تو کیا لیکن وہ چند ماہ بعد ہی بند ہوگئی۔ 

ٹور آپریٹرز کا کہنا ہے کہ فضائی سروسز کے کرائے زیادہ ہونے کی وجہ سے سیاح زمینی راستوں سے سفر کو ترجیح دیتے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سکردو میں قراقرم ہائٹس ٹور آپریٹر کے سرباز خان کے مطابق ’غیر ملکی سیاحوں کے ٹورز جب ارینج کیے جاتے ہیں تو وہ ایئر سروسز کو ترجیح تو دیتے ہیں لیکن موسم کی صورت حال کے باعث پروازیں کنفرم نہیں ہوتیں اور غیر ملکی سیاح اس معاملے پر کوئی رسک نہیں لینا چاہتے۔’
’ان کے شیڈول میں اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ وہ دو دو تین تین دن پروازوں کے لیے انتظار ہی کرتے رہیں، اس لیے غیر ملکی سیاحوں کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ وہ براستہ سڑک ہی اپنی منزل تک پہنچیں۔‘ 
ان کے خیال میں نجی کمپنیوں کے آنے سے مقابلے کی فضا تو ضرور پیدا ہوگی جس سے کرایوں میں شاید کمی آئے لیکن حکومت کو سیاحت کو فروغ دینے کے لیے انفراسٹرکچر پر زور دینا چاہیے۔ سیاحتی مقامات کے لیے ایئر سروسز ایک جدید تصور ضرور ہے لیکن پہلے سڑک، بجلی، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات مہیا کی جانی چاہییں۔‘