پاکستان 26نکات پرعملدرآمد کے باوجودگرے لسٹ سے نہ نکل سکا

FATF

فوٹو: ایف اے ٹی ایف

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فیٹف نے پاکستان کو دیئے گئے 26 نکات پر عملدرآمد اور پیشرفت کا اعتراف کرلیا۔

ایف اے ٹی ایف (فیٹف) کا اجلاس گزشتہ تین روز سے جاری تھا، جس نے آج ایک بار پھر پاکستان کا نام گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے منی لانڈرنگ، کرپشن اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کیلئے دیئے گئے 27 میں سے 26 نکات پر پاکستان کی جانب سے عملدرآمد اور پیشرفت کا اعتراف بھی کیا۔ فیٹف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے فروری 2021ء سے اب تک 3 میں سے 2 مزید نکات پر عملدرآمد کرلیا۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے تحقیقات اور سزاؤں میں تیزی لانے اور اينٹی منی لانڈرنگ قوانین میں ترامیم کے ذریعے عالمی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔

فیٹف کے صدر نے کہا کہ پاکستان میں منی لانڈرنگ کے حوالے سے خطرات موجود ہیں، ایشیاء پیسفک گروپ نے مالیاتی نظام میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی۔

صدر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس مارکوس پلیئر

فیٹف نے رئیل اسٹیٹ، پراپرٹی، جیولرز، اکاؤنٹنٹس کی نگرانی بڑھانے پر بھی زور دیا اور قوانین پر عمل نہ کرنے والوں پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔

ایف اے ٹی ایف نے اعتراف کیا کہ پاکستان نے ٹیرر فنانسنگ (دہشت گردوں کی مالی معاونت) کیخلاف نمایاں پیشرفت کی ہے اور پاکستان کی جانب سے ٹیرر فنانسنگ سے نمٹنے کیلئے خامیاں دور کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

وزیر توانائی حماد اظہر کی پریس کانفرنس

وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سب سے مشکل پلان دیا گیا، ایف اے ٹی ایف کے نئے ایجنڈے پر 12 ماہ میں علدرآمد مکمل کرلیں گے، 2018ء میں دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کیلئے ایجنڈے کے 27 میں سے 26 پر مکمل عملدرآمد ہوچکا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان واحد ملک ہے جس نے اس تیزی سے کام کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگلے اجلاس تک باقی ایک نکتے سمیت تمام نکات پر عمل کرلیں گے، پاکستان بدستور گرے لسٹ میں ہے، ابھی گرے لسٹ سے نکلنے کا سفر باقی ہے، بليک لسٹ میں جانے کا کوئی خطرہ نہيں ہے۔

حماد اظہر کا مزید کہا تھا کہ پاکستان پر کسی قسم کی پابندياں نہيں لگيں گی، بھارت ايف اے ٹی ايف ميں بے نقاب ہوگيا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چند روز قبل اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان فيٹف (ایف اے ٹی ایف) کی 27 ميں سے 26 شرائط پوری کرچکا اور 27ویں پر خاطر خواہ کام ہوگيا ہے، اس لئے پاکستان کو اب گرے لسٹ ميں رکھنے کا جواز نہيں رہا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کوگرے لسٹ میں رکھنے کاجواز نہیں رہا، شاہ محمودقریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سماء سے گفتگو میں کہا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فيٹف) کا فورم ٹيکنيکل ہے مگر پاکستان کیخلاف سیاسی مفادات کیلئے استعمال کيا جاسکتا ہے، بھارت اس کی بھرپورکوشش کررہا ہے۔

رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے اپنے ٹویٹر پیغام میں بتایا تھا کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی 31سفارشات پر کمپلینٹ ریٹنگ حاصل کرلی، یہ پاکستان کے موجودہ ایکشن پلان پر ایف اے ٹی ایف میں متوازی جانچ پڑتال تھی۔

مزید جانیے: پاکستان نے فیٹف کی 31سفارشات پر کمپلینٹ ریٹنگ حاصل کرلی

پاکستان کو پہلی بار 2008ء میں گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا تاہم 2009ء میں اس کا اسٹیٹس تبدیل ہوا جس کے بعد ایک بار پھر 2012ء سے 2015ء تک پاکستان گرے لسٹ میں رہا، 2016ء میں گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد 2018ء سے اب تک بدستور گرے لسٹ میں موجود ہے۔

ایف اے ٹی ایف کیا ہے اور کس طرح کام کرتی ہے؟

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے قیام کا فیصلہ 1989ء میں تقریباً 32 سال قبل جی 7 ملکوں نے فرانس میں منعقدہ اجلاس میں کیا تھا، بعد ازاں جی سیون اتحاد کے ممبران کی تعداد 16 ہوئی جو اب بڑھ کر 39 ہوچکی ہے، ایف اے ٹی ایف میں 37 ممالک اور 2 علاقائی تعاون کی تنظمیں شامل ہیں۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف سے وابستہ ایشیا پیسیفک گروپ کا حصہ ہے، اس تنظیم کی براہِ راست اور بالواسطہ وسعت 180 ملکوں تک ہے۔

تفصیلات جانیں: ایف اے ٹی ایف کاپاکستان کوگرے لسٹ میں برقراررکھنے کافیصلہ

ایف اے ٹی ایف ایک ٹاسک فورس ہے جو حکومتوں نے باہمی اشتراک سے تشکیل دی ہے۔ ٹاسک فورس کے قیام کا مقصد منی لانڈرنگ کیخلاف مشترکہ اقدامات تھا، امریکا میں 11 ستمبر 2001ء کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے بعد یہ ضرورت محسوس ہوئی دہشتگردی کیلئے فنڈز کی فراہمی کی بھی روک تھام کیلئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے، جس کے بعد اکتوبر 2001ء میں ایف اے ٹی ایف کے مقاصد میں منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی فنانسنگ کو بھی شامل کرلیا گیا۔ اپریل 2012ء میں بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فنانسنگ پر نظر رکھنے اور اس کی روک تھام کے اقدامات پر عملدرآمد کروانے کی ذمہ داری اسی ٹاسک فورس کے سپرد کی گئی۔

ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کے حوالے سے دنیا بھر میں یکساں قوانین لاگو کروانے اور ان پر عمل کی نگرانی کرنے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔

اس کی کوشش ہے کہ اس کے ہر رکن ملک میں مالیاتی قوانین کی یکساں تعریف پر عملدرآمد کیا جائے اور ان پر یکساں طور پر عمل بھی کیا جائے تاکہ دنیا میں لوٹ کھسوٹ سے حاصل ہونیوالی دولت کی نقل و حرکت کو مشکل ترین بنا دیا جائے اور لوگوں کیلئے اس قسم کی دولت رکھنا ناممکن بن جائے۔

ایف اے ٹی ایف نے اپنے قیام کے پہلے 2 برسوں میں تیزی سے کام کیا اور 1990ء تک تجاویز کا پہلا مسودہ تیار کیا۔ بعدازاں 1996ء، 2001ء، 2003ء اور 2012ء میں یہ اپنی دیگر تجاویز بھی پیش کرچکی ہے۔

متعلقہ خبریں