پاک افغان سرحد پرباڑکی تنصیب،سرحدی دفاع مضبوط ہوگا،میرضیاءاللہ

Chaman Levies

فوٹو: اسسٹنٹ کمشنر صدر کوئٹہ ٹویٹر

بلوچستان کے وزیرداخلہ نےکہا ہے کہ پاک افغان سرحد پرباڑکی تنصیب سے سرحدی دفاع مضبوط ہوگا۔ماضی میں سرحدی علاقوں پر کالعدم گروہوں،اسمگلروں اورغیرقانونی سرگرمیوں کے اڈے بن گئےتھے۔باڑ لگانے سےغیر قانونی نقل وحرکت اورمنفی سرگرمیاں روکنے میں مدد ملے گی۔

پیرکوصوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کی زیرصدارت  پاک افغان بارڈر باڑ سے متعلق چوتھی میٹنگ قلعہ عبداللہ میں منعقد ہوئی۔

اجلاسوں میں باڑ اور فوری نوعیت کے عوامی مسائل کے حل کے سلسلے میں پچھلے اجلاسوں میں کئے گئے فیصلوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا جائےگا۔

متعلقہ حکام نےپاک افغان بارڈر پر باڑمنصوبےپر عمل درآمد کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے شرکاء نے باڑ سے متعلق ممکنہ معاشی اثرات اور منصوبے پر اب تک ہونے والی پیشرفت کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔

وزیرداخلہ نےکہا کہ مختصر عرصہ میں چار اجلاسوں کے انعقاد سے پاک افغان بارڈر پر باڑ سے متعلق عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے کی بروقت تکمیل اور لوگوں کو اس حوالے سےدرپیش مسائل کا فوری حل کو یقینی بنایا جاسکے گا۔

وزیر داخلہ نے متعلقہ حکام کو منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب آپشنز زیر غور لانے کی ہدایت کی۔منصوبہ صوبے میں امن وامان کی صورتحال کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ناگزیر ہے جس پر عملدرآمد وقت حاضر کی اہم ترین ضرورت ہے۔پاک افغان سرحد بارڈر پراب تک لگائی جانے والی 187 کلومیٹرباڑ لگانے سے صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ بارڈر پر باڑ کی تنصیب دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ پائیدار امن کیلئے باڑ کی تنصیب سمیت مربوط بارڈر پر مزید مؤثر سکیورٹی میکنزم بھی ضروری ہے۔پاک افغان بارڈر پر باڑ کی مکمل ہونےسےاسٹریٹجک، دفاعی اور معاشی فوائد کیساتھ اغوا برائے تاوان کا نیٹ ورک کا خاتمہ کرنے میں بھی مدد ملے گی۔