پاک فضائیہ میں میراج طیارے کے 50 سال مکمل

پاکستان کے میراج طیاروں کو جے ایف17 سے تبدیل کرنیکا امکان

پاک فضائیہ کے بیڑے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے میراج طیاروں نے پی اے ایف میں شمولیت کے50 سال مکمل کرلیے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق گزشتہ 5 دہائیوں میں پاکستان کی جانب سے 150 میراج تھری اور فائیو طیارے خریدے گئے ہیں۔ پاک فضائیہ میں پہلی بار میراج طیارہ سال 1956 میں شامل کیا گیا۔ یورپی ساختہ جنگی میراج تھری نے اپنی پہلی اڑان پر آواز کی رفتار سےتیز پرواز کرکے لوگوں کو حیران کیا۔

انٹرنینشل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹیڈیز کی جانب سے سال 2020 میں جاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان فضائیہ میں 70 ہزار ایکٹو ڈیوٹی پرسنل، جب کہ 582 جنگی طیارے موجود ہیں۔

کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سال 2030 تک پاک فضائیہ کے بیڑے میں موجود میراج طیاروں کو جے ایف 17 سے تبدیل کردیا جائے گا۔ پاکستان کے پاس میراج طیارے کے مختلف ورثنز میراج فائیو ای ایف، میراج تھری ڈی پی اور میراج تھری روز ون موجود ہیں۔

یہ طیارے جدید ریڈار سسٹم سے لیس ہیں اور رات کے وقت بھی پرواز کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان طیاروں میں آر سی 400 ریڈار نصب کیا گیا تھا جب کہ رات کے وقت حملہ کرنے کی ایچ ایم ڈی صلاحیت بھی موجود ہے۔

میراج جنگی طیارہ محض 9 ممالک کے پاس موجود ہے۔ ایک اعداد و شمار کے مطابق سال 2009 تک تقریباً 600 سے زیادہ میراج پوری دنیا میں موجود تھے۔ یہ فورتھ جنریشن کا ملٹی رول جنگی طیارہ ہے۔

پاکستان میں اس طیارے کی اپ گریڈیشن کیلئے کامرہ میں روز پراجیکٹ کے نام سے منصوبے کا آغاز کیا گیا، جس میں طیارے کو جدید طرز اور موجودہ جنگی مشن کے تناسب سے تیار کرنا ہے۔ یہ طیارہ رات میں بھی فضائی مشن کیلئے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاک فضائیہ کے ان میراج طیاروں نے سال 2010 میں اردن میں ہونے والی جنگی مشقوں میں بھی حصہ لیا تھا۔

بشکریہ : اے ایف پی

اپ گریڈیشن کے بعد ان طیاروں میں بی وی آر میزائلز بھی نصب کیے گئے۔ یہ طیارے اپ گریڈیشن کے بعد موٹر ویز پر لینڈنگ اور ٹیک آف کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اسے ایچ فور سو بم، ایچ ٹو سو بم، تکبیر گلائیڈ بم، اسٹیلتھ نیوکلر کروز میزائل جیسے راد ایم کے ون اور راد ایم کے ٹو سے لیس کیا گیا۔

گروپ کیپٹن محمد فاروق کے مطابق میراج طیاروں کو جدید بنانے کیلئے سب سے اہم ٹینکالوجی ہوا میں دوران پرواز ری فیول کی صلاحیت ہے، جس پر پاک فضائیہ جنوبی افریقہ کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، جب کہ دشمن یا دوست طیارے کی پہنچ والا آئی ایف ایف سسٹم بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، یہ سسٹم میراج طیاروں کو اس وقت مدد فراہم کرتا ہے، جب کوئی دوسرا طیارا اسے نشانہ بنانے یا فوکس کیلئے اپنے ریڈرا پر لے لیتا ہے

سابق فضائیہ افسر ایر وائس مارشل شاہد لطیف کا کہنا تھا کہ میراج طیاروں کو اوور ہالنگ سے قابل استعمال تو بنایا جاسکتا ہے، تاہم یہ اتنے ہی اعتبار کے قابل بھی نہیں رہتے۔ ایسے طیاروں کی وجہ سے پائلٹ کی جان کو مزید خطرہ بڑھ جاتا ہے اور ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہے، جب اس طیارے کے حادثوں کے باعث ہم نے کئی قیمتی جانیں گنوا دیں۔ شاہد لطیف کے مطابق میراج طیاروں کے متبادل کیلئے بہترین فیصلہ یہ ہی ہے کہ اسے رافیئل یا ڈیسالڈ طیاروں سے تبدیل کیا جائے، جیسے پڑوسی ملک بھارت کر رہا ہے۔

سابق فضائیہ افسر ایر کموڈور طارق یزدانی کے مطابق دیگر ممالک سے معاہدوں اور طیاروں کی خریداری یا پھر ان پرانے طیاروں کو جدید بنانے سے بہتر ہے کہ پاکستان انہیں جے ایف سیئوٹن سے تبدیل کردے، تاہم اس پورے عمل میں کافی وقت درکار ہے۔ ایک ملک جس کی فضائیہ کا بڑا حصہ اس طیاروں پر انحصار کرتا ہو اور کئی جنگی اسکواڈرن پر مشتمل ہو اسے کسی دوسرے طیاروں سے تبدیل کرنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ طارق یزادنی کے مطابق یہ طیارہ بلاشبہ حیرت انگیز صلاحیتوں سے لیس ہے، جو اکیلے مشن پر پرواز کرتے ہوئے دشمن کی صفوں میں گھس کر انہیں تہس نہس کرسکتا ہے اور دشمن کے ریڈار پر ظاہر بھی نہیں ہوتا ہے۔ ایوی ایشن مصنف ایلن وارنز کے مطابق جو پہلے بھی پاک فضائیہ پر دو کتابیں لکھ چکے ہیں کا کہنا ہے کہ یہ ایک پرانا ترین جنگی طیارہ ہے، تاہم پاک فضائیہ کے ماہر ہوا باز اسے خوبصورتی اور بہت مہارت سے اڑانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

پاک فضائیہ کی استداد اور جنگی طیاروں کی فلیٹ بڑھانے کیلئے ابتدائی میں پاکستان نے 1960 میں فرانسیسی ساختہ میراج طیاروں کو خرید کر فلیٹ میں شامل کیا، جس کے بعد امریکی ساختہ طیارے ایف 104 اسٹار فائٹرز ٹی 37 ٹوئیٹی برڈز اور ایف 86 سیبریز شامل ہوئے اور وقت کے ساتھ ساتھ پرانے طیاروں کو نئے طیاروں سے تبدیل کیا جاتا رہا۔

فضائی امور کے ایک ماہر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان کے پاس فرانس کے میراج طیاروں کو دنیا کا سب سے بڑا بیرہ موجود ہے جن میں میراج تین اور میراج پانچ طیارے شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے کچھ عرصہ قبل مسرور بیس پر ہی ان طیاروں کو ’اپ گریڈ کرنا شروع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے یہ میراج تین اور پانچ ساخت کے لڑاکا طیارے سن انیس سو پینسٹھ میں بھارت سے ہونے والے جنگ کے بعد حاصل کئے تھے۔ ’زیادہ تر طیارے سیکنڈ ہینڈ تھے اور فرانس سے ہی خریدے گئے تھے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں بھارت کے ان مگ 21 طیاروں کے مقابلے میں فضائی حادثات کا تناسب کافی کم ہے جو بہت زیادہ حادثات سے دو چار رہے ہیں۔ تاہم حالیہ دنوں میں ان ماہرین کے مطابق ’ان حادثات میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔‘

متعلقہ خبریں