پرویز مشرف کی سزا کیوں ختم کی گئی،جاویدلطیف

رہنما مسلم لیگ ن جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کو خصوصی عدالت سے سزا ہوئی تھی مگر پھر ان کی غیر موجوگی میں وہ سزا کیوں حتم کردی گئی۔
سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما ن لیگ جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ طیارہ سازش کیس میں 9 سال بعد نوازشریف کی اپیل سنی گئی تھی اور وہ بری ہوکر تیسری دفعہ وزیراعظم بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا انہیں سزا غلط دی گئی تھی یا بری ہونا غلط تھا، ان دونوں میں سے کوئی ایک فیصلہ تو غلط ہوگا۔
جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ ملک میں احتساب کے بے شمار ادارے ہیں اگر ایک ادارے سے احتساب کا کام لیں گے تو پھر یہی ہوگا جیسے نیب پر عدالتوں کے بعد عوام نے بھی عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیب کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، چیئرمین نیب نے کہا تھا کہ اگر حکومتی ارکان کے خلاف کارروائی کی گئی تو حکومت گرنے کا خطرہ ہے تو کیا نیب کا کام حکومت چلانا ہے یا احتساب کرنا۔
جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ اگر اداروں کو آزاد رہنے دیا جائے تو وہ بہتر پرفارم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ڈسکہ الیکشن میں ایک آزاد فیصلہ دیا تھا اور پوری حکومت الیکشن کمیشن کو دھمکیاں دے رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ سیف الرحمان کے احتساب کمیشن میں ہم سے غلطیاں ہوئی تھیں اور وہ غلطی ہم نے بھگتی بھی ہے لیکن کیا اس ملک میں ایسا کوئی ادارہ ہے جو عمران خان یا اس کے خاندان کا احتساب کرسکے۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما پیپلزپارٹی سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ نیب کو کرپشن کی روک تھام کےلیے بنایا گیا تھا لیکن نجی اداروں کے لین دین میں نیب کا کوئی کام نہیں۔
سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ اگر کہیں زمینوں پر قبضے ہورہے ہیں تو یہ صوبائی اداروں کی ذمہ داری ہے نیب کی نہیں، نیب کو نجی کاروبار کی جانچ پڑتال کا اختیار کس نے دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ویڈیو اسکینڈل میں چئیرمین نیب کو 10 مرتبہ کمیٹی میں بلایا گیا مگر حکومتی رکن جو کمیٹٰی کو ہیڈ کرتا ہے وہ رکاوٹ بنتا ہے۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما تحریک انصاف ملیکہ بخاری کا کہنا تھا کہ نیب کو اس لیے بنایا گیا تھا تاکہ صاحب اقتدار کے مالی معاملات کی تحقیقات ہوجائے۔
ملیکہ بخاری کا کہنا تھا کہ جو پیسوں کا ضامن ہوتا ہے وہ قومی خزانے کا محافط بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے خواجہ آصف کیس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ کئی وزارتوں پر رہ چکے ہیں مگر کہتے ہیں کہ ان سے ان کی آمدن کے بارے میں نہ پوچھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جب عدالت سے فیصلہ ن لیگ کے حق میں آتا ہے تب عدالتیں آزاد ہوتی ہیں لیکن جب کوئی فیصلہ برعکس آجائے تو پھر یہ اس کو نہیں مانتے، یہ دوہرا رویہ نہیں چلے گا۔
ملیکہ بخاری کا کہنا تھا کہ مریم نواز کہہ رہی ہیں کہ اگر نوازشریف کی زندگی کی ضمانت مل جائے تو وہ واپس آجائیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے عدالت سے جھوٹ بولا تھا کہ وہ بیمار ہیں۔
رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمیشن نے حکومتی اقدام پر اعتراض کیا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آئینی ادارے آزاد ہیں۔

متعلقہ خبریں