پشاور:اس گھرکا کیا بنےگا جس میں دلیپ کمارکا دل اٹکاتھا؟

فوٹو:بی بی سی

پشاور کے علاقے محلہ خداداد میں بھارتی لیجنڈ اداکار دلیپ کمار کا آبائی گھر خستہ حالی کا شکار ہے۔ گو اسے سن 2014 میں قومی ورثہ قرار دے دیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود اسے اب تک محفوظ نہیں بنایا جاسکا۔
قومی ورثہ قرار دینے کے بعد ایسی عمارتوں کو مسمار کرنا یا کسی مالک مکان کا اپنے طور پر اس کی مرمت کرنا قانوناً جرم ہے لیکن محکمہ آثار قدیمہ بھی ان تاریخی گھروں کو محفوظ بنانے سے تاحال قاصر ہے۔
محکمہ آثار قدیمہ خيبرپختونخوا کی جانب سے بازار کلاں، محلہ سیٹھیاں اور تحصیل گور گٹھڑی ميں پرانی اور تاریخی عمارتوں کو محفوظ بنانے کے منصوبہ پر بھی کام جاری ہے جہاں سیاحوں کو راغب کرنے اور شہریوں کی تفریح کے لیے بھی کام کیا گیا ہے۔
محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے سروے کے مطابق تحصیل گور گٹھڑی سے گھنٹہ گھر تک 3 تاریخی اور 75 پرانی عمارتیں ہیں۔
بھارتی فلم انڈسٹری کے ایک اور لیجنڈ اور اداکاری کے شہنشاہ راج کپور کا تعلق بھی سرزمین پاکستان کے شہر پشاور سے ہے اور ان کا آبائی گھر بھی یہیں ڈھکی نعلبندی میں واقع ہے۔ پرتھوی راج کے بیٹے راج کپور کے آبائی گھر کو بھی دلیپ کمار کی رہائش گاہ کی طرح سن 2014 میں قومی ورثہ قرار دیا گیا تھا تاہم اس تاریخی عمارت کو بھی احسن طور پر محفوظ بنائے جانے کی ضرورت ہے جس کے لیے حکومت خیبرپختونخوا کی کاوشیں جاری ہیں۔

دلیپ کمار اور راج کپور کے گھروں کو میوزیم بنانے کا منصوبہ

ڈائریکٹر محکمہ آثار قدیمہ خیبرپختوںوا ڈاکٹر عبدالصمد نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ محکمہ آثار قدیمہ خیبرپختونخوا نے بالی وڈ کے ہمعصر اور ممتاز اداکاروں دلیپ کمار اور راج کپور کے پشاور میں واقع تاریخی آبائی گھروں کو حکومت کی جانب سے خرید لیے جانے کے بعد گزشتہ مہینے سرکاری تحویل میں لے لیا گیا۔
ڈاکٹرعبدالصمد کا کہنا تھا کہ دونوں گھروں کے لیے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے 2 کروڑ 35 لاکھ روپے کی منظوری دی تھی اور دونوں کی خریداری کا عمل مکمل کر لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ آرکیالوجی و میوزیم خیبرپختونخوا دلیپ کمار اور راج کپور کے گھروں کو تزئین و آرائش کے بعد میوزیم میں تبدیل کر کے سیاحت کے لیے کھول دیا جائے گا۔
ڈاکٹر عبدالصمد کا کہنا تھا کہ اس وقت دلیپ کمار کا گھر سرکاری ملکیت میں ہے اور مالکان کے طرف سے تمام عدالتی کیسز حتم ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میوزیم بنانے کے حوالے سے ہم اس وقت ابتدائی منصوبہ بندی کررہے ہیں جس کے بعد گھروں کے بحالی کا کام ماہرین آثار قدیمہ کی نگرانی میں شروع کردیا جائے گا۔

دلیپ کمار کی پشاور سے محبت

دلیپ کمار کی بدھ کے روز ممبئی میں وفات پر ان کے آبائی شہر پشاور کے شہری بھی بیحد افسردہ ہیں۔ شہری دلیپ کمار کو زبردست خراج عقیدت پیش کررہے ہیں۔ دلیپ کمار خود بھی اپنے بچپن کی یادیں تازہ کرنے اور اپنا آبائی گھر دیکھنے کئی بار پشاورآئے تھے۔
دلیپ کمار اپنی سوانح حیات میں لکھا ہے کہ ہمارے بچپن کے زمانے میں پشاور کو باغات اور پھولوں کا شہر کہا جاتا تھا۔ ان کا گھر شہر کے قلب میں قصہ خوانی بازار میں واقع تھا اور اسی بازار میں ان کا بچپن گزرا تھا۔
وہ مزید لکھتے ہیں کہ آتے جاتے ہر وقت مسجد مہابت خان ہماری نگاہوں میں رہتی تھی، سردیوں کا یخ بستہ پانی اور موسم گرما کے آندھی طوفان اور جھلسا کر رکھ دینے والی شدید گرمی کی تپش اب بھی ذہن میں تازہ ہے۔
دلیپ کمار اس گھر سے وابستہ یادوں میں اپنی والدہ صاحبہ کا ذکر بطور خاص کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ گھر میں اماں کی رضاکارانہ محنت کے حوالے سے بچپن کے ماہ و سال مجھے بہت یاد آتے ہیں۔
اپنے بلاگ میں دلیپ کمار نے لکھا تھا کہ ’مجھے یاد ہے ایک کمرے میں گھر کے لوگ اکٹھا ہوتے اور چائے پیتے تھے۔ ایک بڑا کمرا تھا جہاں خواتین نماز پڑھتی تھیں۔
وہ یاد کرتے ہیں ’سردیوں کی راتیں بچوں کے لیے تفریح طبع کا سامان لاتی تھیں۔ خاندان کے تمام افراد وسیع و عریض چبوترے پر جلائی گئی آگ کے گرد جمع ہو جاتے تھے۔
دلیپ کمار جن کا اصل نام یوسف خان تھا نے دسمبر 1922 میں پشاور کے اسی گھر میں آنکھ کھولی تھی اور آج ممبئی میں 98 سال کی عمر میں ہمیشہ کے لیے آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند کرلیں۔
یوسف خان کی بچپن سے راج کپور سے دوستی تھی جو ان کے گھر کے نزدیک رہتے تھے اور بعد میں بالی ووڈ میں دونوں نے خوب نام کمایا۔
یوسف خان نے جب ممبئی کا رخ کیا تو ابتدا میں انہوں نے اس وقت کے معروف فلم اسٹوڈیو بمبئی ٹاکیز میں کام کیا۔ اس دوران پروڈیوسر دیویکا رانی نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ اپنا نام فلمی نام دلیپ کمار رکھ لیں۔

متعلقہ خبریں