پشاورمیں لاک ڈاؤن ختم ہوتےہی ایس او پیزکی خلاف ورزی

نہ سماجی فاصلہ برقرار نہ فیس ماسک کی پابندی

خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں 9 روزہ لاک ڈاؤن ختم ہوتے ہی لوگوں کی ماسک اور سماجی فاصلے کی پابندی کو ہوا میں اڑا دیا۔

پشاور میں 9 روز لاک ڈاؤن ختم ہوا تو بڑی تعداد میں شہری بغیر فیس ماسک اور سماجی فاصلے کی پابندی کے بازاروں میں پہنچ گئے، جس سے کرونا کی شرح میں اضافے کا خدشہ ہے۔

صوبائی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ صوبے میں 8 مئی سے 16 مئی تک مکمل لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا، تاکہ کرونا کیسز کا پھیلاؤ روکا جا سکے، تاہم لاک ڈاؤن ختم ہوتے ہی کیسز میں پھر اضافہ ہوا ہے۔ 9 روز پہلے 692 کیسز ریکارڈ ہوئے، جو کم ہو کر 251 ہوئے اور اموات 26 سے 20 ہوئیں، تاہم اب مثبت کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں اب تک 3 ہزار 786 افراد کرونا وائرس سے انتقال کرچکے ہیں، جب کہ مجموعی طور پر 1 لاکھ 27 ہزار 38 افراد متاثر ہوئے ہیں۔

قبل ازیں پیر 17 مئی کو پشاور سمیت خیبرپختونخوا میں لاک ڈاؤن اور عید کی چھٹیاں ختم ہوتے ہی تمام کاروباری سرگرمیاں بحال ہوگئیں اور سرکاری اور نجی دفاتر کھل گئے۔ این سی او سی کے اعلان کے بعد صوبے میں اندرون شہر سمیت تمام شاہراہوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی بحال کردی گئی ہے۔ لاک ڈاون کے باعث بند کی گئی بی آر ٹی سروس بھی شروع ہوگئی ہے۔

محکمہ داخلہ کے مطابق تمام کاروباری سرگرمیاں اور مارکیٹیں رات 8 بجے بند ہوں گی۔ ادویات اور کھانے پینے کی اشیاء کی دکانیں کھلی رہیں گی۔

متعلقہ خبریں