پشاور کے کالج میں عمران خان کو خطاب کی دعوت پر تنازع کیوں؟

بعض طلبہ نے الزام عائد کیا کہ کالج انتظامیہ خطاب سننے کے لیے مجبور کر رہی ہے۔ فائل فوٹو: پی ٹی آئی فیس بک

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جمعے کو پشاور کی تاریخی درسگاہ ایڈورڈز کالج میں خطاب کرنے آ رہے ہیں اس حوالے سے کالج انتظامیہ نے نوجوانوں کے لیے کھلا دعوت نامہ جاری کیا جس کے تحت کالج کی آفیشل ویب سائٹ پر آن لائن رجسٹریشن کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ 
مزید پڑھیں
عمران خان کے کالج  دورے اور خطاب کے حوالے سے سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی ہے۔ سیاسی رہنماؤں نے عمران خان کے دورے کو سیاسی جلسہ قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ عمران خان  کا دورہ ضمنی الیکشن این اے 31  کے لیے کمپین کا حصہ  ہے، لہذا عمران خان کو کالج میں خطاب سے روکا جائے۔ 
ان کا کہنا ہے کہ ’اگر عمران خان کو ایڈورڈز کالج میں خطاب کی اجازت ملتی ہے تو میں بھی چار اکتوبر کو اسی کالج کے گراؤنڈ میں طلبہ سے خطاب کروں گا  اگر کسی میں ہمت ہے روک کر دکھائے۔‘
سماجی رہنما سلیم لالہ کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر عمران خان کے دورے پر تنقید کی گئی اور لکھا کہ ’وزیراعلٰی تعلیمی اداروں کو سیاسی بنا رہے ہیں۔ اس دورے سے کالج کے ماحول پر منفی اثرات پر مرتب ہوں گے۔‘
کالج کے ایک طالب علم شوکت خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’عمران خان کے دورے کے بارے میں کالج انتظامیہ نے دو ہفتے پہلے ہمیں آگاہ کیا۔‘ 

طالب علم شوکت خان کے مطابق ’ہمیں وائس پرنسپل نے کلاسز میں آ کر عمران خان کا خطاب سننے کا حکم دیا۔‘
عمران خان کے دورے کے موقع پر آج جمعے کو بی ایس اور ایف ایس سی کی کلاسز میں تعلیمی سلسلہ منسوخ کیا گیا۔
شوکت خان نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کی تقریر سننے کے لیے کالج انتظامیہ طلبہ کو مجبور کر رہی ہے۔  
ایک اور طالب علم حنیف اللہ نے اردو نیوزکو بتایا کہ ’کچھ وزرا کی جانب سے انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے عہدیداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ساتھ باہر سے طلبہ لے کر آئیں۔ اگر کالج میں بدنظمی ہوئی تو ذمہ دار حکومت ہوگی۔‘ 
کالج کے بعض طلبہ نے سوشل میڈیا پر ’ایجوکیشن از ناٹ پولیٹیکل‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ اس دورے پر اپنی رائے دے رہے ہیں اور کچھ طلبہ نے  پیر کو علامتی احتجاج ریکارڈ کرنے کا بھی کہا ہے۔‘

ایڈورڈز کالج کے پرنسپل کے مطابق کچھ لوگ اس دورے کو سیاسی سکورنگ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ (فوٹو: ایڈورڈز کالج)
کالج کے ایک طالب علم نبی جان  نے عمران خان کے دورے کو خوش آئند قرار دیا۔
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’عمران خان جیسے لیڈر کا طلبہ سے خطاب کرنا ہماری خوش قسمتی ہے، طلبہ کو لیڈرشپ کے بارے میں کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔ اس کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے جو کہ درست نہیں۔‘
عمران خان کے دورے کی حمایت میں بھی ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ ’ایڈروڈز ویلکم عمران خان‘ ٹرینڈ کر رہا ہے۔
اس  معاملے پر ایڈورڈز کالج کے پرنسپل پروفیسر شجاعت علی نے اردو نیوز کو بتایا کہ عمران خان سیمینار میں شریک ہوں گے۔ ’ان کا خطاب ایک تعلیمی سرگرمی کا حصہ ہے، ہم نے کالج کے طلبہ کے لیے ایجوکیشنل سیمینار کا انعقاد کیا ہے جس کے مہمان خصوصی عمران خان ہیں۔‘

پروفیسر شجاعت علی نے بتایا کہ ’ہمارا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں نہ ہم پارٹی کا حصہ ہیں۔‘
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’کیمبرج اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں جا کر لیڈر خطاب کرتے رہے ہیں۔ ماضی میں بے نظیر بھٹو، جنرل پرویز مشرف بھی تعلیمی اداروں کا دورہ کرتے آئے ہیں۔‘
ایڈورڈز کالج کے پرنسپل کے مطابق ’کچھ لوگ اس دورے کو سیاسی سکورنگ کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور وہی پروپیگنڈہ کررہے ہیں۔‘
خیال رہے کہ پشاور این اے 31 ضمنی الیکشن کے لیے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی امیدوار ہیں۔