پنجاب اسمبلی کے ارکان کو صحافیوں اور بیوروکریٹس سے کیا خطرہ ہے؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی اسمبلی نے ایک قانون پاس کیا ہے جس کا اطلاق بظاہر صحافیوں اور سرکاری افسران پر ہوگا۔ اس قانون کے تحت اراکین اسمبلی کا استحقاق مجروح کرنے پر صحافیوں اور سرکاری افسران کو موقع پر ہی چھ مہینے قید کی سزا دی جا سکے گی۔
اردو نیوز کو دستیاب اس قانون کی ایک کاپی کے مندرجات کے مطابق اس قانون کو ’پنجاب اسمبلی ممبرز تحفظ استحقاق ترمیمی بل‘ کا نام دیا گیا ہے۔ 
اسمبلی سے پاس ہونے والا یہ بل گورنر پنجاب کے دستخطوں کے بعد باقاعدہ ایکٹ کی شکل اختیار کر لے گا۔
مزید پڑھیں
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بل پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک رکن مخدوم عثمان کی جانب سے پیش کیا گیا اور اس پر حکومت یا اپوزیشن کی جانب سے کسی نے اعتراض نہیں کیا اور اسمبلی سیشن میں اس بل کو ایجنڈے پر لائے بغیر اور بغیر بحث کے ہی منظور کر لیا گیا۔ 
نئے قانون کے تحت پنجاب اسمبلی کے اندر ایک جوڈیشل کمیٹی بنائی جائے گی جو سمری ٹرائل کے بعد سزا دینے کی مجاز ہوگی۔
’اسمبلی حدود کے اندر کسی بھی ممبر سے تلخ کلامی پر وہ اس جوڈیشل کمیٹی کو درخواست دے سکے گا۔‘
اس قانون کے حوالے سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق سیکرٹری آفتاب باجوہ کا کہنا ہے کہ ’اس قانون کو پاس کرکے  پنجاب اسمبلی کو عدالتی اختیار بھی دے دیے گئے ہیں۔  یعنی ایک مجسٹریٹ کے اختیار دینا اسی زمرے میں آئے گا۔ آئین پاکستان میں عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کے اختیار الگ الگ ہیں۔‘

سپیکر کی جانب سے کارروائی حذف کیے جانے کے باوجود اگر اس کی اشاعت کی گئی تو وہ قابل سزا جرم ہوگا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
بظاہر اس بل میں صحافیوں اور بیوروکریٹس کے الفاظ استعمال نہیں کیے گئے لیکن ان سے متعلق معاملات قابل سزا قرار دیے گئے ہیں۔ جیسا کہ بل میں شامل کی جانے والی سزاؤں میں چھ ایسی ہیں جو براہ راست پیشہ صحافت سے متعلق ہیں۔
شیڈول کے نام سے شامل کیے جانے والے اس حصے میں چھٹی سزا اسمبلی کی کارروائی کو چھاپنے سے متعلق ہے جس کے مطابق ’اگر کسی نے اسمبلی کی کاروائی سے متعلق جان بوجھ کر غلط بات رپورٹ کی یا کسی ذیلی کمیٹی کی کاروائی سے متعلق کوئی ایسی بات چھاپی جو درست نہیں تو ایسے شخص کو تین مہینے قید یا 10 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔‘
اسی طرح سپیکر کی جانب سے کارروائی حذف کیے جانے کے باوجود اگر اس کی اشاعت کی گئی تو وہ قابل سزا جرم ہوگا۔
قانون کے مطابق ’سپیکر کی کرسی پر بیٹھے شخص سے متعلق ایسی بات چھاپنا جس سے اس کی ذات سے متعلق منفی پیغام یا تعصب اجاگر ہو تو اس پر بھی تین مہینے قید کی سزا ہوگی۔‘
اسی طرح نئے قانون میں یہ بات بھی ہے کہ ’جب تک اسمبلی کی کارروائی سرکاری طور پر اسمبلی گزٹ میں چھپ نہ جائے اسے چھاپنا بھی جرم ہوگا۔ اس کی سزا بھی تین مہینے قید ہوگی۔ حتی کہ کسی ممبر نے محسوس کیا کہ کسی لفظ سے توہین ہوئی ہے تو وہ بات بھی قابل سزا ہوگی ۔‘
سرکاری افسران سے متعلق بھی نام لیے بغیر سزائیں رکھی گئی ہیں کہ ’اگر کسی سرکاری افسر سے غلط رپورٹ جمع کروائی تو اسے چھ مہینے سزا دی جا سکے گی۔‘
البتہ یہ ضرور ہے کہ سرکاری افسروں کی سزائیں چھ مہینے جبکہ صحافیوں سے متعلق سزائیں تین مہینے تک ہیں۔

اس قانون کی پنجاب اسمبلی سے منظوری پر صحافتی تنظیموں نے گورنر ہاوس کے باہر احتجاج کیا ہے۔ (فوٹو: اردو نیوز)
ان سزاوں میں کمی یا اضافہ سپیکر کی صوابدید ہوگا۔ جبکہ جوڈیشل کمیٹی (سزا دینے کی مجاز اتھارٹی) کے پاس فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے اختیارات ہوں گے۔ 
نئے قانون میں یہ بھی درج ہے کہ ’کسی ممبر کے استحقاق کو مجروح کیا گیا تو سپیکر پنجاب اسمبلی گرفتاری کا حکم دے سکتے ہیں۔‘
صرف یہی نہیں بلکہ اس قانون کے تحت پنجاب اسمبلی کے اپنے ملازمین کو بھی مزید بااختیار اور طاقتور بنا دیا گیا ہے۔
’اسمبلی ملازمین کی ڈیوٹی کے دوران مداخلت کرنے پر بھی متعلقہ شخص کے خلاف کاروائی ہوگی۔‘
ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ سمری ٹرائل کے دوران یہ سزا ایک دن کے اندر سنانے کا اختیار بھی جوڈیشل کمیٹی کے پاس ہوگا۔ 
خیال رہے کہ عام طورپر اسمبلی میں صحافی، بیوروکریٹس اور ممبران اسمبلی کے جاننے والے افراد ہی داخل ہو سکتے ہیں اور کم و بیش یہ قانون انہی تمام افراد کے لیے ہوگا۔

صحافتی تنظیموں کا احتجاج

اس قانون کی پنجاب اسمبلی سے منظوری پر صحافتی تنظیموں نے گورنر ہاوس کے باہر احتجاج کیا ہے۔ لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس قانون سے صحافت پر قدغن لگائی گئی ہیں۔‘
’ممبر اسمبلی کے استحقاق کے نام پر صحافیوں کے لیے سزائیں تجویز کرنا انتہائی عجیب منطق ہے۔ ہم نے گورنر ہاوس کے باہر احتجاج کیا ہے اور اگر حکومت نے اس ایکٹ کی شکل دی تو اس احتجاج کو اور وسیع کریں گے۔ یہ سیدھا سیدھا صحافیوں کی پیشہ ورانہ خدمات پر حملہ ہے۔‘
دوسری طرف پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’یہ قانون اپوزیشن کی طرف سے پیش کیا گیا ہے حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ ہاں اگر صحافیوں کو اس پر اعتراض ہے توان کے اعتراض سننے کو ہم تیار ہیں۔‘