پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتیں عمران خان کی آلہ کار بننے سے باز رہیں: وفاقی حکومت

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئین اور قانون کی حدوں کو پھلانگ کر وفاقی دارالحکومت پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مزید پڑھیں
اجلاس کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق ’صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتوں کو وارننگ دی گئی کہ وہ عمران خان کے آلہ کار بن کر فساد کی راہ ہموار کرنے سے باز رہیں۔ آئینی لکیر پار کرنے پر قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔‘
وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وزیراعظم ہاﺅس اسلام آباد میں بدھ کی رات حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے قائدین اور رہنماﺅں کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی، معاشی، داخلی اور خارجہ محاذ سے متعلق صورت حال پر تفصیلی غور کیا گیا جبکہ مستقبل کے لیے لائحہ عمل کی منظوری دی گئی۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اجلاس کو ملک کی معاشی صورت حال، مالیاتی اداروں خاص طور پر آئی ایم  ایف کے ساتھ ہونے والی بات چیت اور معیشت کی بحالی کے لیے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی۔
انہوں نے کہا کہ ’سابق حکومت کی چار سال کی تباہ کن پالیسیوں کی وجہ سے قومی معیشت کا کوئی اعشاریہ مثبت نہیں رہا۔ 20 ہزار ارب کا تاریخی قرض محض چار سال میں ملک پر مسلط کرنے والے معیشت کو دیوالیہ ہونے کی نہج پر چھوڑ کرگئے۔‘

اجلاس میں حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے قائدین اور وزرا شریک ہوئے (فوٹو: سکرین گریب)
اسحاق ڈار کے مطابق ’گذشتہ پیر سے اب تک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور انہیں امید ہے کہ ڈالر 200 روپے سے نیچے آئے گا۔‘
حکومت کی اتحادی جماعتوں نے وفاقی وزیر خزانہ کے اقدامات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کی کارکردگی کو سراہا۔
اجلاس نے سفارتی سائفر پر سابق وزیراعظم اور ان کے قریبی ساتھیوں کی منظرعام پر آنے والی آڈیوز کے معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے ساتھ سنگین کھیل کھیلنے کی شدید مذمت کی۔
اتحادی رہنماؤں کے اجلاس نے اس ضمن میں 30 ستمبر 2022 کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں اور حکومتی اقدامات کی مکمل تائید وحمایت کی۔
اعلامیے کے مطابق ’اجلاس نے زور دیا کہ ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم قومی مفادات پر کاری ضرب لگانے کے معاملے پر تحقیقات جلد مکمل کرے اور آئین وقانون کے مطابق ملوث کرداروں کے خلاف قانونی تقاضے پورے کرنے کا عمل تیز کرے۔‘

اجلاس میں سابق وزیراعظم اور ان کے قریبی ساتھیوں کی منظرعام پر آنے والی آڈیوز پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا (فوٹو: سکرین گریب)
’قومی اداروں پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ آئین کی سرخ لکیر کو جو پامال یا عبور کرنے کی کوشش کرے گا، 22 کروڑ عوام اور قانون کی طاقت سے اس کا راستہ روکا جائے گا۔‘
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ’اداروں کو آئین کی راہ سے ہٹانے والا غدار، سازشی اور فسادی ہے۔ اداروں کو آئین کی پامالی کے لیے اکسانے والا پاکستان کو سنگین بحرانوں میں دھکیلنا چاہتا ہے اس آئین شکن کو قانون کی نکیل ڈالنا خود آئین کا تقاضا ہے۔‘