پنجاب میں دوسرے صوبوں کے میڈیکل طلبہ کے کوٹے کا تنازع کیا ہے؟

علیزہ کومل بلوچستان کی ایک طالبہ ہیں اور انہوں نے ایف ایس سی پری میڈیکل میں اپنے بورڈ میں ٹاپ کیا ہے۔ انہوں نے یہ امتحان ستمبر 2019 میں پاس کیا اور گزشتہ اٹھارہ مہینوں سے پنجاب میں دوسرے صوبوں کے لیے مختص کوٹہ سیٹوں پر داخلے کی منتظر ہیں۔
جب وہ ایف ایس سی کا امتحان دے رہی تھیں تو بہت پُرجوش تھیں کیونکہ ان کو یقین تھا کہ امتیازی نمبر لے کر وہ صوبہ پنجاب کے کسی بڑے میڈیکل کالج میں داخلہ لے سکیں گی تاہم ان کا جوش مایوسی میں اس وقت بدلا جب ایف ایس سی میں ٹاپ کرنے کے بعد انہوں نے پنجاب کے میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے معلومات حاصل کرنا شروع کیں۔ 
مزید پڑھیں
وہ کہتی ہیں کہ ماضی کے برعکس اب پنجاب میں میڈیکل کے طلبہ کے داخلوں کا طریقہ کار مکمل طور پر بدل دیا گیا ہے۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے علیزہ کومل نے بتایا کہ ’ٹاپ کرنے والے طلبہ کے لیے پہلے پنجاب کے بہترین میڈیکل کالجوں میں سیٹیں مختص تھیں جس میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، فاطمہ جناح میڈیکل کالج سے لے کر کئی اور بڑے ادارے شامل ہیں۔ 1972 سے جو طریقہ کار چلا آ رہا ہے اس میں دوسرے صوبوں کے بورڈز میں ٹاپ کرنے والے طلبہ کو ان اچھے کالجز میں داخلہ ملتا تھا حالانکہ سیٹیں انتہائی کم تھیں پھر بھی یہ خاصا اطمینان بخش تھا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ٹاپ کرنے والے طلبہ کے لیے اوپن میرٹ پر سیٹس مختص تھیں لیکن اب جنوری 2021 میں اچانک پالیسی بدل دی گئی ہے۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ بلوچستان کے صف اول کے طلبہ کو ایک سال انتظار کے بعد پنجاب اور سندھ میں داخلہ ملتا تھا لیکن اب نئی پالیسی کے تحت لڑکیوں کے لیے مختص فیڈرل کوٹہ بالکل ختم کر دیا گیا ہے اور لڑکوں کے لیے بڑے میڈیکل کالجز میں کوٹہ ختم کر کے ان کو پنجاب کے چھوٹے میڈیکل کالجز میں بھیج دیا گیا ہے۔‘

علیزہ کومل نے بتایا کہ ٹاپ کرنے والے طلبہ کے لیے اوپن میرٹ پرسیٹس مختص تھیں لیکن اب جنوری دو ہزار اکیس میں اچانک پالیسی بدل دی گئی ہے (فوٹو بشکریہ: کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج)
پنجاب کے کالجز میں دوسرے صوبوں کے طلبہ کا کوٹہ ختم ہونے کا مسئلہ اس وقت قومی تنازع کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اس فیصلے کے تمام متاثرہ فریقین نے پنجاب کی حکومت سے اس پر احتجاج کیا ہے۔
صوبہ بلوچستان کے گورنر امان اللہ خان اورکزئی نے اسی سلسلے میں  پنجاب کے وزیر اعلی سردار عثمان بزدار کو خط بھی لکھا ہے۔
اردو نیوز کو حاصل ہونے والے اس خط کے مندرجات کے مطابق گورنر بلوچستان نے پنجاب کے چوٹی کے میڈیکل کالجز میں بلوچستان میں ٹاپ کرنے والوں بچوں کا کوٹہ ختم کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے۔
گورنر بلوچستان نے خط میں تحریر کیا ہے کہ ’طلبہ کے ایک وفد نے میرے علم میں یہ بات لائی ہے کہ پنجاب کے بہترین میڈیکل کالجوں جن میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، علامہ اقبال میڈیکل کالج، نشترمیڈیکل کالج، پنجاب میڈیکل کالج ، قائداعظم میڈیکل کالج اور فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی شامل ہیں، میں بلوچستان کے ایم ڈی کیٹ کے ٹاپر طلبہ کو داخلہ دیا جاتا تھا اور یہ روایت انیس سو بہتر سے قائم ہے۔‘
خط کے متن کے مطابق حال ہی میں حکومت پنجاب نے ان کالجز میں طلبہ کا کوٹہ ختم کرنے ان کو پنجاب کے نیم شہری علاقوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ان بڑے کالجوں میں خیر سگالی کوٹہ کے تحت داخلہ لے کر ایم بی بی ایس کرنے والے بلوچستانی طلبہ نہ صرف بلوچستان کے لیے بلکہ پنجاب اور پاکستان کے لیے ایک سرمایہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میں چاہوں گا کہ آپ بلوچستان کا پاکستان کے اہم ترین کالجز میں کوٹہ کو ذاتی طور پر بحال کرنے میں دلچسپی لیں۔‘
پاکستان کی قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے بھی  پنجاب کے وزیر اعلی سردار عثمان بزدار کو اسی سے ملتا جلتا خط لکھا ہے۔

گورنر بلوچستان نے پنجاب کے چوٹی کے میڈیکل کالجز میں بلوچستان میں ٹاپ کرنے والوں بچوں کا کوٹہ ختم کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے (فوٹو بشکریہ: قائداعظم میڈیکل کالج)
اردو نیوز کو موصول اس خط کی کاپی کے مطابق ڈپٹی سپیکر نے وزیر اعلی پنجاب کو بلوچستان کے طلبہ کی حد تک پرانی پالیسی کو بحال کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس سے پہلے 30 جنوری کو محکمہ صحت بلوچستان نے بھی انہی الفاظ کے ساتھ پنجاب کے صوبائی محکمہ صحت کو کوٹہ بحال کرنے کی درخواست کی تھی۔  
تاہم صوبہ پنجاب کی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ پنجاب کے میڈیکل کالجز میں دوسرے صوبوں کے لیے کوٹہ متاثر نہیں ہوا۔
اردو نیوز کو دیے گئے ایک تحریری بیان میں انہوں نے اس صورتحال کی وضاحت کچھ اس طریقے سے کی ہے کہ ’میڈیکل کالجزمیں سیٹوں پر افواہیں بے بنیاد ہیں، پنجاب نے ہمیشہ بڑے بھائی ہونے کا حق اداکیا ہے۔ پنجاب کے میڈیکل کالجز میں باقی صوبوں کی335 نشستیں مختص ہیں جو تقریباً تین میڈیکل کالجز کی تعدادبن جاتی ہے۔‘
بیان کے مطابق ’کسی صوبے کی سیٹ میں کمی کی تمام ترخبریں بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ شیخ زیدہسپتال کے وفاق میں واپس جانے کی وجہ سے دو سیٹیں کم ہوئی ہیں۔ ہمارے پاس سندھ،آزادجموں کشمیر، بلوچستان، فاٹا اورخیبرپختونخوا کی سیٹوں کا کوٹہ موجود ہے۔ گلگت بلتستان کی 55 سیٹیں اسی طرح موجودہیں۔ شیخ زیدکی دو نشستوں کے کوٹے کوبھی اپنی سیٹیں بڑھا کرتعداد مکمل کرلی گئی ہے۔‘
تاہم محکمہ صحت کے ایک اعلی افسر نے اردونیوز کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا پنجاب کا محکمہ صحت سرکاری طور پر بتا رہا ہے۔ 

پنجاب کے تمام سرکاری میڈیکل کالجوں میں سالانہ نشستیں 3400 ہیں جن میں وفاقی کوٹے کے تحت دیگر صوبوں کو 37 سیٹیں میسر تھیں (فوٹو بشکریہ: آغا خان یونیورسٹی)
انہوں نے بتایا کہ ’اچھی خاصی گڑبڑ ہوئی ہے اور اس میں براہ راست پنجاب حکومت نے پالیسی بدلی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بڑے میڈیکل کالجز میں کوٹہ ختم کر کے چھوٹے میڈیکل کالجز میں منتقل کر دیا گیا ہے تو باقی صوبے یہ سمجھ رہے ہیں کہ پنجاب کے چھوٹے میڈیکل کالجز کی ڈگریوں کی اہمیت دیگر صوبوں کے بڑے میڈیکل کالجز کے تقریبا برابر ہی ہے۔ ان صوبوں کے بچے جب ایک ایک سال انتظار کے بعد بھی پنجاب کے میڈیکل کالجز میں آئیں گے جن کی ڈگری کی وقعت کچھ زیادہ نہیں تو وہ شور تو ڈالیں گے۔‘ 
خیال رہے کہ پورے پنجاب کے تمام سرکاری میڈیکل کالجوں  میں کُل سالانہ نشستیں 3400 ہیں جن میں وفاقی کوٹے کے تحت دیگر صوبوں کو 37 سیٹیں میسر تھیں جبکہ خیر سگالی کوٹہ کے تحت کل 335 نشستیں تھیں جن کی الاٹمنٹ کا طریقہ کار اب تبدیل کر دیا گیا ہے۔  
اردو نیوز نے پنجاب حکومت کی ترجمان مسرت چیمہ سے موقف لینے کے لیے رابطہ کیا تو انہوں نے اس موضوع پر بات نہیں کی۔