پنجاب پولیس کی اقدام خودکشی کے خلاف مہم، کیا جیل بھیجنا درست ہوگا؟

پنجاب پولیس نے اقدام خودکشی کے خلاف مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس حوالے سے پنجاب پولیس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ کی گئی ہے جس میں ایسے انتہائی قدم اٹھانے کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’وقت اور حالات بدل جائیں گے لیکن یہ زندگی دوبارہ  نہیں ملے گی۔‘  
اس ٹویٹ کے ساتھ ایک تصویر بھی شیئر کی گئی ہے جس میں خودکشی کا ارادہ رکھنے والوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’خودکشی کرنا جرم ہے، بچ جانے کی صورت میں ایک سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔‘
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے خودکشی سے بچ جانے کی صورت میں ایک سال تک سزا دینے کی تنبیہہ کرنے پر پنجاب پولیس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ ماہرین بھی اس آگاہی مہم کے دوران سزا دینے کے عمل کو ’ناقابل فہم‘ قرار دے رہے ہیں۔  
مزید پڑھیں
پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 325 کے تحت اقدام خودکشی یا ایسا کوئی عمل کرنے والے افراد کو ایک سال تک قید اور جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ 
سابق انسپکٹر جنرل سندھ پولیس افضل شگری اقدام خودکشی کے خلاف مہم کے دوران ایک سال تک قید ہونے کی تنبیہہ دینے کو ناقابل فہم قرار دیتے ہیں۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے افضل شگری نے کہا کہ ’سیکشن 325 کے قانون پر اب نظر ثانی کرنی چاہیے اور یہ ایک سنجیدہ نوعیت کا معاملہ ہے اس پر سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ زندگی ایک بار ملتی ہے اور اسے ضائع نہ کریں یہ بات تو مناسب تھی لیکن یہ کہنا کہ آب بچ گئے تو پھر آپ کو سزا ہوگی، یہ تو ایسا  ہی ہے جیسے آپ پیغام دے رہے ہیں  کہ پکا کام کرو ورنہ سزا ہو جائے گی۔‘  
اقدام خودکشی کے قانون کے حوالے سے سابق آئی جی سندھ افضل شگری نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’اس قانون کو بھوک ہڑتال کرنے والوں کے خلاف استعمال کیا جاتا تھا، جو لوگ بھوک ہڑتال کرتے تھے انہیں ہم ڈراتے تھے کہ آپ کے خلاف اس قانون کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے۔‘  

اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے افضل شگری نے کہا کہ ’سیکشن 325 کے قانون پر اب نظر ثانی کرنی چاہیے (فوٹو: پکسابے)
انہوں نے کہا کہ ایک سنجیدہ نوعیت کے معاملے کی آگاہی مہم کے دوران اس قانون کا حوالہ دینا ایک نامناسب عمل ہے۔’اب یہ بحث چھڑ گئی ہے تو یہ ایک موقع ہے کہ نہ صرف اس قانون کو بلکہ اس قسم کے تمام قوانین پر جدید تقاضوں کے تحت نظر ثانی کرنی چاہیے۔‘ 
افضل شگری کے مطابق  انڈیا، بنگلہ دیش اور پاکستان سمیت ایشیائی ممالک میں یہی قانون رائج ہے، لیکن ’ایسے افراد کو جیل کو بھیجنے کے بجائے نفسیاتی طور پر مدد کرنی چاہیے اور اس انتہائی قدم اٹھانے کے پیچھے وجوہات تلاش کر کے معاشرے کی مدد سے ان مسائل کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘ 
جیلوں میں نفسیاتی صحت متاثر ہونے والے افراد کو سہولیات فراہم کی جارہی ہیں؟
پاکستان میں قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے مطابق سرکاری سطح پر پاکستانی جیلوں میں قید نفسیاتی طور پر متاثرہ قیدیوں کی تعداد 600 کے قریب بتائی جاتی ہے لیکن ملک بھر میں 70 ہزار کے قریب قیدی ہیں اور ان میں صرف 600 قیدی نفسیاتی طور پر متاثر ہونے کے سرکاری تعداد کو درست نہیں کہا جاسکتا۔  

پاکستانی جیلوں میں قید نفسیاتی طور پر متاثرہ قیدیوں کی تعداد 600 کے قریب بتائی جاتی ہے (فوٹو ڈی این اے)
جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی بانی سارہ بلال اقدام خودکشی کے حوالے پنجاب پولیس کے مہم کے حوالے سے کہتی ہیں کہ ’ہمیں انسانی صحت بالخصوص نفسیاتی صحت کے بارے میں اپنے رویوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، نفسیاتی طور پر متاثرہ شخص کو سزا کے بجائے مناسب دیکھ بھال اور توجہ کی ضرورت  ہوتی ہے۔‘  
انہوں نے کہا کہ ’جیل کبھی بھی ایک ایسے شخص کی جگہ نہیں ہوسکتی جو پہلے سے ہی افسردہ ہو اور اس وجہ سے وہ اپنی زندگی ہی ختم کرنے کی حد تک جا چکا ہو۔
سارہ بلال کا کہنا تھا کہ ’ماضی میں ہم نے دیکھا ہے کہ جیل میں قیدیوں نے خودکشی کی یا ایسا قدم اٹھانے کی کوشش کی ہے، دوران قید کے انسان کی صحت زیادہ تیزی سے بگڑتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ قید رہنے کے دوران وہ دوبارہ خودکشی کرنے پر مجبور ہو جائیں۔‘

سارہ بلال سمجھتی ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ’جیل کبھی بھی ایک ایسے شخص کی جگہ نہیں ہوسکتی جو پہلے سے ہی افسردہ ہو (فوٹو: اے ایف پی)
خیال رہے کہ گزشتہ برس وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے پاکستان میں قیدیوں سے متعلق ایک رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائی تھی جس میں جیلوں میں عام طبی سہولیات کے فقدان کی نشاندہی کی گئی تھی۔  اس رپورٹ کے مطابق جیل ہسپتالوں میں الٹرا ساونڈ، آکسیجن سلنڈرز، ای سی جی مشینز اور لیبارٹریز وغیرہ کی کمی جبکہ طبی عملے کی کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔  
وفاقی وزیر کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی جیلوں  میں متعدد مریض ایسے ہیں جو بروقت طبی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے جسمانی طور پر معذور ہو گئے ہیں۔