پنجاب کے وزیراعلٰی ہاؤس کی گروسری شاپنگ میں تیتر اور بٹیر بھی شامل 

ایوان وزیراعلٰی میں طرح طرح کے کھانوں کے لیے سات کمپنیوں کو ٹھیکے دیے گئے ہیں۔ (فائل فوٹو: ٹوئٹر)

پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں ان دنوں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت ہے جبکہ چوہدری پرویز الٰہی وزیراعلٰی ہیں۔
پی ٹی آئی نے سنہ 2018 میں جب حکومت سنبھالی تھی تو اس وقت یہ نعرہ لگایا تھا کہ اب حکمراں سادہ زندگی گزاریں گے۔ لیکن زمینی حقائق اس سے قدرے مختلف ہی نظر آئے چاہے وہ ہیلی کاپٹر کا استعمال ہو یا سرکاری کھابوں کا معاملہ ہو۔ 
مزید پڑھیں
حال ہی میں وزیراعلٰی پنجاب کے آفس نے ’قانونی کارروائی‘ پوری کرتے ہوئے ایک ٹینڈر منظور کیا ہے جس میں ایوان وزیراعلٰی میں طرح طرح کے کھانوں کے لیے سات کمپنیوں کو ٹھیکے دیے گئے ہیں۔ اس کے لیے نو کروڑ 75 لاکھ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔
اردو نیوز کو دستیاب دستاویزات کے مطابق ان کھانوں میں تیتر اور بٹیر کے گوشت کے لیے بھی ایک کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا ہے۔ 
عام طور پر تیتر یا بٹیر کے گوشت کو شاہانہ کھانا تصور کیا جاتا ہے۔ ایوان وزیراعلٰی کی دستاویزات کے مطابق کالے تیتر کا گوشت 50 کلو، فارمی تیتر کا 100 کلو اور بٹیر کا 400 کلو گوشت درکار ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ دیسی مرغ سمیت نو اقسام کا چکن جبکہ سالم بکرے سمیت 12 اقسام کے گوشت کی سپلائی کا ٹھیکہ بھی مختلف کمپنیوں کو دیا گیا ہے۔ 
ایوان وزیراعلی کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ ’ایوان وزیراعلٰی کے لیے گراسری اور دیگر اشیا ہر سال ایسے ہی منگوائی جاتی ہیں۔ گزشتہ تین سال بھی تیتر اور بٹیر منگوائے گئے اور اس سے پہلے بھی یہ صورت حال تھی۔‘
دستاویزات کے مطابق جن سات کمپنیوں کو یہ ٹھیکے دیے گئے ان میں ایم ایس زین، ایم ایس ایونٹ آرگنائزرز، الصدیق، ایم ایس عزیز، ایم ایس علی ٹریڈرز، ایم ایس حنیف اور ایم ایس چاہت ایونٹس شامل ہیں۔ 
تیتر اور بٹیر اور دیگر شاہانہ کھانے وزیراعلٰی ہاؤس کے لیے کیوں ضروری ہیں اس حوالے سے جب ترجمان وزیراعلٰی ہاوس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔ 
البتہ اردو نیوز نے ایک سابق بیورکریٹ شفقت اللہ جو ایک وقت میں وزیراعلٰی ہاؤس میں ڈپٹی سیکریٹری کے فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں، سے بات کی تو ان کہا کہنا تھا کہ ’بڑے سرکاری ایوانوں میں خواہ وہ گورنر ہاؤس ہو، وزیراعلٰی ہاؤس یا پنجاب اسمبلی ہو، ہر جگہ شاہانہ کھابوں کا سلسلہ کوئی آج کی بات نہیں ہے۔‘
’بلکہ مجھے تو لگتا ہے یہ رسم بھی انگریز دور سے ہی چلی آ رہی ہے۔ لکڑی کے دبیز فرشوں پر لگے بڑی بڑی کھانے کی میزوں پر جب تیتر اور بٹیر کے گوشت کی ڈونگے رکھے جاتے ہیں تو کس کا دل کرتا ہے کہ وہ ان کو بند کروا دے۔‘