پولیس نے خورشید شاہ کے بیٹے کو گرفتار کرلیا

پولیس نے سیشن عدالت کے حکم پر خورشید شاہ کے بیٹے فرخ شاہ کو گرفتار کرلیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کے بیٹے فرخ شاہ ہفتہ 12 جون کو سکھر میں تھرڈ ایڈیشنل اینڈ سیشن جج کی عدالت میں آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں پیش ہوئے۔ انہیں احتساب عدالت کے جج کی چھٹی کے باعث سیشن عدالت میں پیش کیا گیا۔

اس موقع پر سپریم کورٹ کے حکم پر فرخ شاہ نے عدالت کے سامنے گرفتاری دے دی، جس کے بعد پولیس نے فرخ شاہ کو کمرہ عدالت سے گرفتار کیا۔ صوبائی وزیر اویس قادر شاہ اور سابق میئر ارسلان شیخ بھی کمرہ عدالت میں موجود  تھے۔

عدالت کے روبرو فرخ شاہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ تفتیش میں میرے مؤکل نے نیب کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔ نیب نے سپریم کورٹ میں اعتراف کیا کہ تفتیش مکمل ہو چکی ہے، تو گرفتاری کی کیا ضرورت ہے؟

جس پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ ملزم نیب کو سرینڈر کرے، ملزم نے نیب کی تفتیشی ٹیم کے بجائے عدالت میں سرینڈر کیا ہے، ملزم شروع سے تفتیشی ٹیم سے تعاون نہیں کر رہا۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے فرخ شاہ کی گرفتاری کے بعد ریمانڈ کی بھی استدعا کی، تاہم عدالت نے جج کی واپسی تک ریمانڈ دینے سے انکار کردیا۔ فرخ شاہ کو پیر 14 جون کو عدالت کے روبرو ریمانڈ کیلئے پیش کیا جائے گا۔ اس دوران وہ نیب کی حراست میں رہیں گے۔ نیب سکھر کی ٹیم ان سے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں پوچھ گچھ کرے گی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ فرخ شاہ نے سپریم کورٹ میں ضمانت قبل از وقت گرفتاری کیلئے درخواست دی تھی۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ خورشید شاہ کے بیٹے فرخ شاہ 3 روز میں احتساب عدالت سکھر میں گرفتاری دیں۔ خورشید شاہ کی بیگمات، بیٹوں سمیت 18 افراد پر ایک ارب 24کروڑ کا ریفرنس دائر ہے۔

متعلقہ خبریں