پہلی تقریر جس میں اپوزیشن ’چور نہ ڈاکو‘، بلکہ مذاکرات کی دعوت

بدھ کو قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے انتخابی اصلاحات کے حوالے سے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے دی۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین نے بروقت مدد کر کے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔‘
بدھ کو قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب تحریک انصاف کو حکومت ملی اس وقت معاشی صورت حال بہت خراب تھی اور نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔‘
بقول ان کے ’صورت حال ذرا سی بہتر ہوئی تھی کہ کورونا آ گیا۔‘
وزیراعظم نے افغانستان کی جنگ میں امریکہ کے ساتھ دینے کے فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس جنگ میں پاکستان کی شمولیت احمقانہ فیصلہ تھا۔‘
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا کہ ’جب میں نے امریکی جنگ میں شمولیت کی مخالفت کی تو مجھے طالبان خان بنا دیا گیا۔‘
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’جب میں اپوزیشن میں تھا اس وقت بھی اس جنگ کی مخالفت کی تھی، اس وقت بھی ذلت کا احساس ہوا تھا۔‘
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’مجھ سے سوال پوچھا گیا کہ آپ امریکہ کو اڈے دیں گے؟
ان کا کہنا تھا کہ ’جب ہم نے پہلے اتنی خدمات فراہم کیں، ہمارے 70 ہزار افراد مارے گئے، کیا انہوں نے ہماری تعریف کی، کیا ہماری قربانی کو تسلیم کیا؟‘
عمران خان کے مطابق ’الٹا امریکہ نے پاکستان پر الزام لگائے اور افغانستان میں اپنی شکست کی ذمہ داری بھی پاکستان پر ڈال دی۔‘
افغانستان کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ ’ہم وہاں امن عمل کا حصہ تو ہو سکتے ہیں لیکن کسی تنازعے کا نہیں۔‘
پاکستان میں ماضی میں ہونے والے ڈرون حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’امریکہ نے اتحادی ہونے کے باوجود ایسا کیا اور اس وقت کی حکومت قوم سے جھوٹ بولتی رہی۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ ’افغانستان کی جنگ میں پاکستان کی شمولیت احمقانہ فیصلہ تھا‘ (فوٹو: اے ایف پی)
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’30 سال سے ایک دہشت گرد لندن میں بیٹھا ہے، کیا برطانیہ کی حکومت ہمیں وہاں ڈرون حملہ کرنے کی اجازت دے گی۔‘
انڈیا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم نے واضح کیا کہ ’جب تک کشمیر کی پانچ اگست 2019 سے پہلے کی حیثیت بحال نہیں ہوتی، اس کے ساتھ بات چیت نہیں ہوسکتی۔
انہوں ںے کہا کہ ’پاکستان کشمیری عوام کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑا ہے۔‘
‘​انہوں نے 1970 کے بعد ہونے والے انتخابات کے حوالے سے کہا کہ ’وہ سب متنازع تھے۔‘
انہوں نے کرکٹ کے میدان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’پہلے ملک اپنے اپنے امپائر لاتے تھے اس لیے ہارنے والے ہار نہیں مانتے تھے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اس کے بعد نیوٹرل امپائر اور ٹیکنالوجی متعارف ہوئی۔ اب ہارنے والے ہار تسلیم کر لیتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے 70 ہزار افراد مارے گئے لیکن ہماری قربانی کو تسلیم نہیں کیا گیا‘ (فوٹو: اے ایف پی)
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ایسا ہی انتخابات کے معاملے میں بھی ہے، اس کے حوالے سے اصلاحات کی بات ہو رہی ہے۔‘
وزیراعظم کے مطابق ’الیکشن اصلاحات کے حوالے سے ایک سال سے سفارشات پڑی ہیں۔ وہ اس ضمن میں اپوزیشن کی تجاویز سننے کو تیار ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ حکومت یا اپوزیشن کی بات نہیں ہے بلکہ جموریت کا مستقبل ہے۔‘
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’وقت آگیا ہے کہ جو بھی الیکشن لڑے اس کو فکر نہ ہو کہ اسے دھاندلی سے ہرا دیا جائے گا۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’شفاف اور آزاد انتخابات کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین ضروری ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی مدد سے پولنگ ختم ہوتے ہی بٹن دبتا ہے اور رزلٹ آجاتا ہے۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ ’جب تک کشمیر کی حیثیت بحال نہیں ہوتی، انڈیا کے ساتھ بات چیت نہیں ہوسکتی‘ (فوٹو: اے ایف پی)
وزیراعظم نے کہا کہ ’اگر اصلاحات نہیں کی جائیں گی تو ہر الیکشن میں مسائل کا سامنا رہے گا۔‘
وزیراعظم نے منگل کے روز منظور ہونے والے وفاقی بجٹ کے حوالے سے کہا کہ ’وزیر خزانہ شوکت ترین نے میرے وژن کے مطابق بجٹ بنایا۔‘
وزیراعظم نے احساس پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کے ذریعے ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو براہ راست سبسڈی دی جائے گی۔‘
سستا گھر سکیم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’اس میں 40 لاکھ خاندانوں کو شامل کیا جائے گا۔ نچلے طبقے کے 40 سے 50 لاکھ افراد کا ڈیٹا بیس تیار لیا گیا ہے۔‘
 وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’قانون کی حکمرانی معاشرے کی بنیاد ہے جہاں ایسا نہ ہو وہ معاشرے نیچے چلے جاتے ہیں۔‘