پیر کو حلف اٹھاؤں گا لیکن موقف میں تبدیلی نہیں آئے گی: چوہدری نثار

پاکستان کے سابق وزیر داخلہ اور مسلم لیگ ن کے رکن چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ انہوں نے پیر کو پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں حلف اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔  
اتوار کو چوہدری نثار علی خان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’میرا حلف اٹھانے سے قطعی طور پر میرے موقف یا سوچ میں تبدیلی نہیں آئے گی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ  وہ حلف اٹھانے کے بعد تنخواہ سمیت پنجاب اسمبلی سے کسی قسم کی مراعات نہیں لیں گے۔
چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ گذشتہ چند ہفتوں سے حلقے کے عوام کے ساتھ مشاورت کے بعد انہوں نے حلف اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں
انہوں نے مزید کہا کہ حلف اٹھانے کا بنیادی مقصد حلقے میں سیاسی حالات اور محرکات کو کنٹرول کرنا ہے۔
’یہ عجیب منطق ہوگی کہ ایک طرف سیٹ چھوڑ دی جائے اور پھر دوسرے ہی سانس میں ضمنی انتخابات میں حصہ لیا جائے، الیکشن کا بائیکاٹ کرنا اور میدان کھلا چھوڑنا اس سے بڑی سیاسی غلطی ہوگی اور خاص طور پر جب عام انتخابات ہونے میں ڈیڑھ دو سال باقی ہوں۔‘
چوہدری نثار 1985 سے الیکشن لڑ رہے ہیں اور آٹھ بار مسلسل منتخب ہوئے ہیں۔ 2018 کے انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کی نشست پر ہار گئے لیکن اس حلقے میں صوبائی اسمبلی کی نشست سے وہ 30 ہزار ووٹوں کے فرق سے جیتے۔
انہوں نے الزام بھی عائد کیا کہ انہیں دھاندلی سے ہرایا گیا ہے اور انہوں نے صوبائی اسمبلی کا حلف بھی احتجاجاً نہیں اٹھایا۔  

چودھری نثار کی مسلم لیگ ن اور شریف برادران سے طویل رفاقت سنہ 2018 میں ٹوٹی۔ فائل فوٹو: ن لیگ فیس بک
ایک فوجی خاندان سے تعلق رکھنے والے چوہدری نثار میاں نواز شریف کی ’کچن کیبینٹ‘ کے خاص رکن رہے ہیں۔ میاں نواز شریف سے رفاقت اور میاں شہباز شریف سے ان کے گہری دوستی کی وجہ سے گزشتہ تقریبا تین دہائیوں سے مسلم لیگ کی سیاست میں چوہدری نثار کا اہم کردار رہا ہے۔
تاہم 2018 کے الیکشن سے پہلے ہی ن لیگ سے ان کی طویل رفاقت اس وقت ٹوٹ گئی جب انہوں نے اپنی ہی قیادت کے خلاف پانامہ لیکس کے بعد کھل کر بولنا شروع کر دیا اور مریم نواز کو جنھیں وہ ’بچہ‘ قرار دے چکے ہیں، لیڈر ماننے سے انکار کیا۔
البتہ سیاسی مبصرین کے مطابق شہباز شریف اپنی صلح جو طبیعت کی وجہ سے چوہدری نثار کے بہت قریب ہیں اور یہ دوستی اب بھی جاری ہے۔ کچھ عرصہ قبل شریف برادارن کی والدہ کی وفات پر چوہدری نثار طویل عرصے کے بعد تعزیت کے لیے رائے ونڈ بھی گئے تھے۔