پیر کی صبح نیب کراچی کے دفتر جاؤں گا، سعید غنی

نیب چاہے تو تفتيش کرلے یا گرفتار کرلے

سعید غنی نے کہا ہے کہ وہ نیب کی  تحقيقات ميں شامل ہونے کيلئے پير کو نيب کے دفتر جائیں گے اور نیب چاہے تو تفتيش کرلے یا گرفتار کرلے۔

اسلام آباد میں ہفتےکوسندھ کے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نےصحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ اسمبلی کے لیڈر آف اپوزیشن سے متعلق بات کی۔نیب کراچی نے خط لکھا کہ حلیم عادل شیخ پر زمین کے قبضے کی شکایات ہیں۔ اس پر نیب سے مطالبہ کیا کہ سیاسی شخصیات کو الزام لگا کر گرفتار کر لیا جاتا ہے تاہم امید نہیں ہے کہ وہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف ایکشن لے گی۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ چیرمین نیب سے متعلق بیان دیتے رہتے ہیں کیوں کہ حکومت چیرمین نیب کو ایک ویڈیو سے بلیک میل کر رہی ہے۔ چیئرمین نیب کی جانب سے کبھی ایسی پریس ریلیز جاری نہیں کی لیکن جب حلیم عادل شیخ سے متعلق بات کی تو پریس ریلیز جاری کر دی۔

سعید غنی نے بتایا کہ ان کے بیان کی مذمت کی گئی اور کارروائی کا بھی بولا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی رہنما خورشید شاہ اور اعجاد جکھرانی پر بھی بات کی ہے کیوں کہ ان کے ساتھ بھی زیادتی ہورہی ہے۔ یہ قانون تو چیرمین نیب اور افسران پر خود لگتا ہے کیوں کہ وہ کیسز پر براہ راست اثرانداز ہوتے ہیں۔

سندھ کے صوبائی وزیر نے کہا کہ نیب نے نئی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ ان کے خلاف تحقیقات ہورہی ہے۔ ان کو ان تحقیقات کا کوئی خوف نہیں ہے اور وہ نیب کے ساتھ پیش ہونے کے تیار ہیں

سعید غنی نے بتایا کہ وہ نیب آفس کسی پارٹی کارکن کے بغیر جائیں گے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ سکھر میں ورکرز نیٹ ورک کے فیلٹ تھے اورچیرمین نے فلیٹ جبری طور پر لے کر اس کی رقم تقسیمِ کی۔ یہ غیر قانونی عمل تھا اور اس کو روکا گیا۔

نیب سے متعلق ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نيب سياسی انتقامی کارروائی کا ہتھيار ہے۔ چئيرمين نيب اپنے کوئی فيصلے قانون کے مطابق نہيں کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں