’پیٹرول پر لیوی کم کرنے کا فیصلہ حکومت نے آئی ایم ایف کی منظوری کے بغیر کیا‘

مفتاح اسماعیل کے مطابق وفاقی حکومت رواں سال بھی بجٹ میں چار ہزار ارب روپے کا خسارہ کرے گی۔ فائل فوٹو

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت نے رواں ماہ پیٹرول پر لیوی نہ بڑھا کر آئی ایم ایف کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔
مزید پڑھیں
اتوار کو کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں حکومت ایسے چلائی جاتی ہے کہ آج جو رعایتیں دینی ہیں دے دیں کل دیکھ لیں گے۔ گزشتہ برسوں میں اس طریقے سے چیزیں بد سے بدترین ہو گئی ہیں۔
’مجھے جب وزیر خزانہ کا عہدہ ملا تھا تو خزانے میں دس ارب ڈالر تھے اور ہمارے ذمے 35 ارب ڈالر تھے۔‘
سابق وزیر خزانہ نے تقریب کے شرکا کو بتایا کہ ’اس کے بعد آئی ایم ایف گئے اور معاملات بہتر ہونا شروع ہوئے۔ آئی ایم ایف کے حکام نے مجھ سے کہا تھا کہ جس دن آپ کو قرض کی قسط ملے گی آپ شرائط پر عمل روک دیں گے۔‘
مفتاح اسماعیل کے مطابق ان کو یقین تھا کہ یہ نہیں ہوگا لیکن اب حکومت نے ایسا کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی ہوتی ہے وہ وفاق لگاتا ہے اور یہ صوبوں کو نہیں جاتا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ پہلے مذاکرات میں فی لیٹر پہلے دس روپے سے 30 روپے کی تھی اور اس بار فی لیٹر 50 کی شرط مانی تھی۔
’میں نے حامی بھری تھی کہ اس کے ذریعے وفاقی حکومت کا خسارہ کم کرنے کی کوشش کریں گے۔‘
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ’ٹیکس کی مد میں پہلے تین ماہ پیٹرول پر دس، دس روپے بڑھائے اور ڈیزل پر پانچ روپے بڑھائے۔ اس ماہ حکومت نے وہ پھر نہیں بڑھائے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’دراصل وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر کے کہنے پر میں نے آئی ایف ایم سے پوچھا تھا کہ کیا ہم اس لیوی کو تین ماہ تک منجمد کر سکتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی جانب سے اس کا جواب نہیں آیا تھا مگر حکومت نے یکطرفہ طور پر فیصلہ کر لیا، اب اللہ خیر کرے۔‘
سابق وزیر خزانہ نے بتایا کہ ’ایک اہم مسئلہ جس پر کمیٹی میں ہم بحث بھی کرتے ہیں کہ کسی طریقے سے ہماری توانائی کی درآمدات کم ہو جائیں۔ بطور معاشی ماہر سمجھتا ہوں کہ توانائی کی کھپت کم کرنے سب سے بہتر طریقہ اس کی قیمت بڑھانا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت رواں سال بھی بجٹ میں چار ہزار ارب روپے کا خسارہ کرے گی۔
مفتاح اسماعیل نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’کچھ دن پہلے آئی بی اے گیا تھا تو لوگ مجھ سے پوچھ رہے تھے میں نے کہا کہ حکومت رہے گی مجھے اپنا نہیں پتا۔‘
سابق وزیر خزانہ کے مطابق ’دوستوں نے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کہا۔ اگر مجھے نہ نکالا جاتا تو میری بات غلط ثابت ہو جاتی مگر اب کم از کم میری بات تو درست ہو گئی۔‘