پیپلزپارٹی نے این اے249 میں منظم دھاندلی کی، عطاء تارڑ

مسلم لیگ ن کے رہنماء عطاء تارڑ نے الزام عائد کیا ہے کہ این اے 249 کراچی کے ضمنی الیکشن میں وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے قیادت کے کہنے پر منظم دھاندلی کی ہے کیونکہ یہ الیکشن پیپلز پارٹی کیلئے زندگی موت کا مسئلہ بن چکا تھا۔

سماء کے پروگرام سوال میں گفتگو کرتے ہوئے رہنماء مسلم لیگ ن عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ پریزائڈنگ افسران وزارت تعلیم سندھ کے ملازم تھے جن کے ذریعے سندھ حکومت نے ایک منظم دھاندلی کروائی۔

عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ ایک ایسے الیکشن میں جس میں ٹرن آؤٹ صرف 20 فیصد ہو وہاں پر صبح 5 بجے تک نتائج کا آنا 100 فیصد دھاندلی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے دھاندلی روکنے میں اپنا وہ کرادار ادا نہیں کیا جو اسے کرنا چاہیے تھا۔

رہنماء ن لیگ کا کہنا تھا کہ یہ سیٹ پیپلزپارٹی کے لیے زندگی موت کا مسئلہ بن گیا تھا کیوں کہ اگر وہ ہارتی تو اگلی مرتبہ صوبائی حکومت بھی ان کے ہاتھ سے نکل جانے کا خطرہ تھا۔

عطاء تارڑ نے کہا کہ کراچی کے عوام نے سن 2018 میں تحریک انصاف کو بھی ووٹ دیا تھا لیکن انہوں نے وہ وعدے پورے نہیں کیے جس کے وجہ سے عوام نے انہیں بھی مسترد کردیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف جب وزیراعظم بنے تو پہلا اجلاس کراچی میں بلایا اور سب کو بٹھا کر کراچی کا امن واپس لانے میں کردار ادا کیا۔

بلاول بھٹو کے بشیرمیمن سے متعلق بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بشیرمیمن ،طارق کھوسہ اور ناصر درانی جیسے افسران کی کریڈیبلٹی پر شک نہیں کیا جاسکتا۔

عطاتارڑ کا کہنا تھا کہ بشیرمیمن ایک ایماندار شخص ہیں جو بلاول بھٹو کے والد صاحب کے کام کے نہیں تھے۔

رہنما تحریک انصاف فرخ حبیب نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا  کہ این اے249  کے ضمنی الیکشن میں ٹرن آؤٹ انتہائی کم رہا، قومی اسمبلی کے حلقے میں اوسطاً 4 لاکھ ووٹ رجسٹرڈ ہوتے ہیں مگر وہاں پر 40 سے 50 ہزارووٹ کاسٹ ہوئے ہیں۔

فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ اتنے کم ٹرن آؤٹ کے ساتھ کسی پارٹی کی ہارجیت کی وجوہات  تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے۔

رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ایک تو ضمنی الیکشن میں ویسے بھی ٹرن آوٹ کم رہتا ہے دوسرا رمضان اور کرونا کی وجہ سے بھی بڑی تعداد میں لوگ ووٹ دینے نہیں نکلے۔

فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو ہمیشہ زیادہ  ٹرن آؤٹ سپورٹ کرتا ہے، ہمارا زیادہ تر ووٹر نوجوان ہے جو الیکشن میں نہیں نکلا جس کا ہمیں نقصان ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے لیے کراچی سرکلر ریلوے کا منصوبہ ہم نے شروع کیا جبکہ سندھ حکومت نے تجاوزات ہٹانے میں بھی کوئی کردار ادا نہیں کیا۔

فرخ حبیب نے کہا کہ یہ سارے کہتے ہیں کہ وفاق نے کچھ نہیں کیا مگر 18 ویں ترمیم کا کریڈٹ بھی سب لیتے ہیں، صوبائی حکومت کراچی سے ڈھائی سو ارب روپے ٹیکس جمع کرتی ہے لیکن کراچی کو کچھ نہیں دیتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بشیرمیمن 12 ویں کھلاڑی کے طور پر ن  لیگ کے لیے کھیل رہے ہیں جبکہ ججوں اور بیوروکریٹس کو دھمکیاں دینے میں ن لیگ کے لوگ ملوث رہے ہیں۔

فرخ حبیب نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ کی حکومت نے بشیرمیمن کو آئی جی آزاد کشمیر بناکر ان کی مدد سے وہاں الیکشن جیتااور پھر انعام کےطور پر انہیں ایف آئی اے کا ڈائریکٹر جنرل لگا دیا۔

متعلقہ خبریں