پیپلزپارٹی کی قیادت کام اوربات کرنےکا طریقہ سیکھ لے،شاہدخاقان

پیپلز پارٹی کی قیادت کو کہتا ہوں کہ ظرف بھی کوئی چیز ہے

شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت سے گزارش ہے کہ کام اور بات کرنے کا طریقہ سیکھ لے۔

منگل کواسلام آباد میں احتساب عدالت میں ایل این جی ریفرنس میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتےہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سیاست میں پوائنٹ آف نو ریٹرن نہیں ہوتا، پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی سیاسی جماعتیں ہیں۔ پیپلزپارٹی کی قیادت کو کہتا ہوں کہ ظرف بھی کوئی چیز ہے۔

انھوں نے کہا کہ احتساب کا جو عمل جاری ہے اس کا حال آپ دیکھ سکتے ہیں۔ نیب چئیرمین خود سپریم کورٹ کے جج رہ چکے ہیں، وہ بھی چاہیں تو خود یہاں آکر عدالتوں کا حال دیکھ لیں۔

حکومت پر تنقید کرتے ہوئے لیگی رہنما نے کہا کہ وزیراعظم کا مشکور ہوں کہ انھوں نے کہا ہے کہ حکمران کرپٹ ہوں تو ملک تباہ ہوجاتا ہے۔اس وقت پاکستان کی کرپٹ ترین حکومت پنجاب اور وفاق میں ہے۔رنگ روڈ، دوائیوں ، چینی، گندم میں وزیر اور مشیر پیسے کھا گئے۔ جس وزیراعظم کے نیچے یہ سب ہوا ہے وہ پارسائی کا دعوے دار ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد سے حکومت کا ایک اور اسکینڈل سامنے آئے گا۔ اس اسکینڈل میں یہ سامنے آئے گا کہ کیسے وزیراعظم اور حواریوں نے سرکاری مشینری کے استعمال سے پیسے کمائے۔

ٹرین حادثے پر ان کا کہنا تھا کہ پیر کو مسافر ٹرین کا حادثہ ہوا لیکن وزیراعظم پارلیمنٹ تک نہیں آئے۔ حکومتی وزرا نے کہا کہ یہ پرانی حکومت کا کیا دھرا ہے۔ یہاں کمیشن پر کمیشن بنائے جاتے ہیں اور صرف ٹوئٹس سے اظہار افسوس نہیں ہوتا۔ انھوں نے سوال کیا کہ اس ٹرین ٹریک کی مرمت کے پیسے کہاں گئے؟۔ جو وزیراعظم متاثرین سے اظہار ہمدردی نہیں کرسکتا وہ ملک کیا ٹھیک کرے گا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن کا کام دھوپ میں کھڑے ہو کرعوام کے مسائل کی بات کرنا ہے۔ 1948 سے لے کر 2018 تک کوئی الیکشن شفاف نہیں ہوئے۔ اس کا بینیفشری کون تھا اس کا پتہ  ٹرتھ کمیشن میں چلے گا۔

متعلقہ خبریں