پیپلزپارٹی کی متحدہ کو سینیٹ الیکشن ملکر لڑنے کی پیشکش

ایم کیو ایم مشاورت کرے گی

پيپلز پارٹی نے تحریک انصاف کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کو سینیٹ الیکشن مل کر لڑنے کی پیشکش کردی۔ فیصل سبزواری نے کہا ہے کہ پی پی کے ساتھ ملکر انتخاب لڑنے سے تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد پر فرق نہیں پڑے گا۔

بہادرآباد مرکز میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ نے کہا انہوں نے جنرل اور خواتین کی نشست پر ایم کیو ایم کے امیدواروں کی حمایت کی پیشکش کی ہے۔ بدلے میں وفاق سے یوسف رضا گیلانی اور سندھ میں پیپلزپارٹی امیدواروں کے لیے حمایت مانگی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی رہنما عامر خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی پیشکش رابطہ کمیٹی کے سامنے رکھیں گے۔

فیصل سبزواری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر سینیٹ الیکشن لڑنے سے تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد پر فرق نہیں پڑے گا کیوں کہ پی ٹی آئی اور ن لیگ نے بند کمرے میں بیٹھ کر سنیٹرز بلا مقابلہ منتخب کرائے ہیں۔

واضح رہے کہ پنجاب میں اپوزیشن اور حکومت نے خاموش مفاہمت کے تحت اپنے زائد امیدواروں کے کاغذات واپس لے لیے جس کے نتیجے میں تمام جنرل، ٹیکنوکریٹ اور خواتین نشستوں پر تحریک انصاف اور مسلم لیگ نواز کے امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوگئے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں اپوزیشن نے سینٹ انتخابات کے ليے فارمولا طے کرلیا

دوسری جانب خیبر پختونخوا کی پانچ اپوزیشن جماعتوں نے سینٹ انتخابات کے ليے فارمولا طے کرلیا۔ تمام جماعتوں کو ایک ایک نشست دے دی گئی۔

پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر ہمایوں خان کی رہائش گاہ پر اجلاس میں معاملات طے ہوئے۔ جماعت اسلامی نے پی ڈی ایم کی جماعتوں کی حمایت کا اعلان کرديا۔ عنايت بيگم خواتين کی نشست پر مشترکہ امیدوار ہوں گی۔

جنرل نشست کے لئے اے این پی کے ہدایت اللہ، جے یو آئی ف کے مولانا عطاء الرحمان اور مسلم لیگ نواز کے عباس آفریدی پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار ہوں گے۔

پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر کو ٹیکنو کریٹ کی نشست دے دی گئی۔ سینٹ انتخابات کے لیے حکومتی اتحاد کی جانب سے بارہ نشستوں پر گیارہ امیدواروں کا اعلان پہلے ہی کیا جاچکا ہے۔

متعلقہ خبریں